ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
نہیں وہ ترا نہ ہوگا کبھی وہ ترا نہ ہوگا
تو کہ یار کے تصور میں جو گم شدہ نہ ہوگا
بخدا نہ ہوگا ایسا کہیں خوشنما نہ ہوگا
مرے یار تیرے جیسا کوئی دوسرا نہ ہوگا
کسی اور سے محبت کوئی مسئلہ نہیں ہے
ترے بعد جو ہوا ہے کبھی پُر خلا نہ ہوگا
جسے چن لیا ہے میں نے جسے تج دیا ہے میں نے
کبھی مجھ سے دونوں پر ہی کوئی تبصرہ نہ ہوگا
وہ کہ یار کی جو قربت کے سرور میں بسا ہو
کہے خلد ہے زمیں پر تو غلط ذرا نہ ہوگا
ترے جسم میں جو لذت مرے رب نے رکھ دی جاناں
کسی شے میں اس زمانے کی یہ ذائقہ نہ ہوگا
مری ماں نے مجھ پہ یارو جو ہے مامتا لٹائی
مجھے غم ہے مجھ سے اس کا کبھی حق ادا نہ ہوگا
جو اگا ہے میرے کمرے میں حسین تر ہے یارو
کہیں اتنا خوبصورت کبھی گل کھلا نہ ہوگا

