میرؔبیدری، بیدر، کرناٹک
ظالمو! مظلوم بیدر چھوڑ دے گا
چاہنے والے کو دلبر چھوڑ دے گا
رونے کی عادت اُسے ہرگز نہیں ہے
ہنسنے والا تجھ کو ہنس کر چھوڑ دے گا
دُکھ سنے گا تو کلیجہ شق ہوجائے
اپنے ہاتھوں سے وہ نشتر چھوڑ دے گا
ایک جُبّہ زیب ِ تن کرلے گا ، دیکھو
دھوکہ دینے تاج سرپر چھوڑ دے گا
اُس سے جی بھر کے ملاقاتوں کی خاطر
اِس جہاں میں رب ڈسمبر چھوڑ دے گا
زندگی جب موت سے بدتر رہی ہو
پیچھا کیسے کوئی مرکر چھوڑ دے گا

