میرؔبیدری ، بیدر،کرناٹک
اُسے تھا جانا روح گھر ، وہ تھا اسیر مرگیا
حیات سے رہا نہ مل کے اور شریر مرگیا
لوآج پھر ضمیر مرگیا، وزیر مرگیا
محبتوں کی کاشت کرنے والا میرؔ مرگیا
صغیر مرگیا کبھی، کبھی کبیر مرگیا
جہاں میں تیری چاہتوں کا جب خمیر مرگیا
جسے کوئی بھی نام دے نہیں سکے مگر وہ آج
جوزندگی کی دیتاتھا دعا ،فقیر مرگیا
ابھی بھی راج کرنے کی تھی آرزومگر اے دوست
اسے ہی لوگ چاہتے تھے ملک گیر مرگیا
نذیر نے ڈراکے چھین لی خوشی جہاں سے میرؔ
سنائی خوشیوں کی خبرجو، وہ بشیر مرگیا

