(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی سمیت کئی کارکنوں کے خلاف ڈومریا گنج میں ایک میٹنگ کے دوران ذاتی تبصرے کرنے پر مقدمہ درج ہونے کی خبریں گردش کررہی ہیں۔
ڈومریا گنج حلقے میں ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی نے ردعمل کے مطابق ذاتی تبصرہ کرتے ہوئے خود کو اور اپنے کارکنوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں ہندو تنظیموں نے پولیس انتظامیہ سے شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنوں اور منتظمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اپنا فرض پورا کیا۔
اس واقعے کے حوالے سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ضلعی صدر نشاط علی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنے قانونی ٹیم کے ذریعے انتظامیہ اور پولیس سے بات کر رہے ہیں، جلد ہی ہماری لیگل ٹیم اس پر کام کرکے اپنے کارکنوں کو رہا کروانے کا کام کرے گی۔
واضح رہے کہ ماضی میں جب بی جے پی کے کارکنوں اور لیڈروں کے ذریعے مخصوص طبقے کے خلاف زہر افشانی کی جاتی ہے تو کیا پولیس تب بھی ان کے خلاف اسی تیزی کے ساتھ کاروائی کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نام ظاہر نہیں کیے جانے کی شرط پر ایک کارکن نے کہا کہ وہ لوگ تحریری طور پر شکایات درج کراتے ہیں جبکہ دوسرے پارٹی کے رہنما محض بیانات دینے میں ہی مشغول رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس تحریری شکایت ملنے کے بعد ہی کارروائی کرتی ہے، پولیس کسی بھی معاملے کی خود نوٹس نہیں لیتی۔ لہٰذا صرف لفاظی اور بیان بازی کرکے اپنے کارکنوں کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے قائدین اور رہنماؤں کو آئینی اور باوقار طریقے سے تحریری طور پر اپنے احتجاجی اعتراضات انتظامیہ اور پولیس کے سامنے درج کروانا چاہیے نہ کہ صرف سیاسی بیان بازی کر کے اپنے فرض سے سکبدوش ہو جانا چاہیے۔ آخر کار جس کا ڈر تھا، وہی بات ہوگئی۔


