از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور انعاماتِ الٰہیہ کا ایسا مہینہ ہے جس میں آسمانِ مغفرت سے بخشش کی بارش برستی ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کی خوشبو لے کر آتا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کے در وا کرتا ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کی نوید سناتا ہے۔ یہ مقدس مہینہ سراپا رحمت و مغفرت ہے اور اس کا درمیانی حصہ بندگانِ خدا کو خاص طور پر توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
عشرۂ مغفرت: امید کی روشن کرن
رمضان کا دوسرا عشرہ گویا گناہ گاروں کے لیے نویدِ جانفزا ہے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جن میں بندہ اپنے ربِّ کریم کے حضور جھک کر عرض کرتا ہے:”اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ”
(میں اللہ سے جو میرا رب ہے، تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔)
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:”رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔”
(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
اگر کوئی شخص رمضان کو پا کر بھی اپنی مغفرت نہ کراسکے تو یہ اس کی کم نصیبی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کی اس دعا پر حضور نبی کریم ﷺ کا آمین کہنا کہ ’’ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان پایا اور بخشش نہ کراسکا‘‘ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔
مغفرت کا دریا کیوں بہایا جاتا ہے؟
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بھوکے پیاسے رہنے کا محتاج نہیں، وہ تو چاہتا ہے کہ بندہ اپنے نفس کی اصلاح کرے، آنکھ، کان، زبان اور دل کا بھی روزہ رکھے۔ روزہ صرف پیٹ کا نہیں بلکہ پورے وجود کی تربیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کو تربیت کا مہینہ کہا گیا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ (البقرہ: 284)
یعنی وہ جسے چاہے اپنے فضل سے بخش دے اور جسے چاہے اپنے عدل سے پکڑ لے۔
پس مغفرت اللہ کی مشیّت سے ہے، مگر اس کی رحمت بہانے ڈھونڈتی ہے۔ بندہ اگر سچے دل سے توبہ کرے تو درِ مغفرت کھل جاتے ہیں۔
استغفار: مغفرت کی کنجی
استغفار نہ صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا کی برکتوں کا سبب بھی ہے۔
قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب نقل ہوا ہے:’’اپنے رب سے استغفار کرو، وہ بہت بخشنے والا ہے، تم پر موسلادھار بارش برسائے گا، مال و اولاد سے مدد دے گا اور باغات و نہریں عطا کرے گا۔‘‘ (سورۂ نوح)
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔‘‘ (سورۂ زمر: 53)
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کوئی گناہ ایسا نہیں جسے توبہ مٹا نہ سکے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ جو شخص کثرت سے استغفار کو لازم کرلے، اللہ تعالیٰ اسے ہر تنگی سے نجات اور ہر غم سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔
سحر کا استغفار اور افطار کی دعا:
قرآن میں متقین کی شان بیان ہوئی ہے کہ وہ سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں(سورۂ ذاریات)۔ رات کا آخری حصہ قبولیت کا وقت ہے، جب ربِّ کریم بندوں کو پکارتا ہے: ’’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا؟‘‘
اسی طرح روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔ سوچئے! جب پورا دن بندہ رضائے الٰہی کے لیے بھوکا پیاسا رہا ہو تو اس کی زبان سے نکلی ہوئی آہ کتنی مقبول ہوگی!
مغفرت کا عملی تقاضا:
عشرۂ مغفرت صرف زبانی استغفار کا نام نہیں بلکہ عملی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے:دل سے کینہ، حسد اور عداوت نکال دینا،
جس نے تکلیف دی، اسے معاف کر دینا،فقراء و مساکین کی مدد کرنا،صدقہ و خیرات اور فطرہ کا اہتمام،
تلاوتِ قرآن، تراویح اور نوافل میں اضافہ کرنا۔۔۔
اگر ہم اللہ وحدہ لاشریک سے مغفرت چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اس کی مخلوق کو معاف کرنا ہوگا۔ قرآن کا پیغام ہے کہ برائی کو بھلائی سے دفع کرو، دشمن بھی دوست بن جائے گا۔
رمضان پانے کی ذمہ داری:
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا:’’اس مبارک مہینے کا درمیانی حصہ مغفرت کا ہے۔‘‘
لہٰذا یہ ایام ہمارے لیے امتحان بھی ہیں اور انعام بھی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مبارک لمحے گزر جائیں اور ہمارا دامن خالی رہ جائے۔
مغفرت کا پروانہ حاصل کیجئے:
رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں خود احتسابی، ندامت اور رجوع الی اللہ کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم نے ان دنوں میں سچی توبہ کرلی، دلوں کو صاف کرلیا، زبان کو استغفار سے تر رکھا اور محتاجوں کا سہارا بن گئے تو یقیناً ہم مغفرت کے مستحق بن جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عشرۂ مغفرت کی حقیقی قدر کرنے، کثرتِ استغفار کی توفیق پانے اور اپنے فضل سے بخشش کا پروانہ حاصل کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے