محمدآصف الدین بیدر کا نماز جمعہ کے موقع پر خطاب

بیدر۔ 28؍فروری (پریس ریلیز): امریکہ کی ایک ڈاٹا ریسرچ فاؤنڈیشن ہے جس کا نام PEWفاؤنڈیشن ہے۔ اس فاؤنڈیشن کی جون 2025؁ء کو پیش کی گئی (دس سالہ 2020تا2020کی تحقیقی) رپورٹ کے  مطابق آج مسلمانوں کی تعداد 200کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ قرآن کہتاہے کہ وہ ایک فکری ، الٰہی اور ربانی کلام ہے۔جب کہ اسلام ایک فطری ، اورانسانوںکے دل کی آواز والا مذہب ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ ساری دنیا ایک دن حق کی طرف آئے گی۔ حق کو پہچاننا، حق کی طرف آنا ہی ہے۔ حضور ﷺ پر قرآ ن ماہ رمضان میں نازل ہونا شروع ہوا۔ مکی دور میں جب حضرت عمرؓ ایمان لائے اسی طرح قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو دوسیؓ ، ایمان لائے تو یہ دراصل قرآن کے ربانی کلام ہونے کا ایک بین ثبوت تھا۔ یہ باتیں جناب محمد آصف الدین بیدر نے کہیں۔ وہ مسجد محمدی ؐ اودگیر روڈ ، بیدر میں نماز جمعہ سے قبل ’’اسلام دنیا کاتیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے:PEWفاؤنڈیشن کی رپورٹ ‘‘ پر خطاب کررہے تھے ۔ موصوف نے جرمن ایمبیسیڈرڈاکٹر ولفرڈ ہافمین (Dr.Wilfried Hofmann) کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انھوں نے 1980سے قبل مراکش میں جرمن زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھا۔ وہ ایک رومن کیتھولک عیسائی تھے۔ جب انھوں نے سورہ اخلاص (قل ھواللہ احد) پڑھا تو اسلام قبول کرنے کافیصلہ کرلیا۔ یہ ہے اصل توحید کہ ایک متلاشی انسان قرآن سے متاثر ہوااور اسلام میں چلاآیا۔ وہ ولفرڈ ہوف مین سے مراد ہوف مین بن گئے۔یعنی ہافمین تم مراد پاگئے ، کامیاب ہوگئے ۔ اسلام کے سائے میں آکر بامراد ہوگئے۔  انھوں نے اسلام سے متعلق احساسات پیش کرتے ہوئے کہاکہجب میں الجزائر میں جرمنی کاسفیر رہا۔ 1960؁ء اور 1970؁ء میں دیکھتاتھاکہ  اذان ہوتے ہی کیاغریب کیاامیر ، کیاچپراسی کیاافسرسبھی کام چھوڑ کر مسجد کی طرف چلے جاتے تھے۔ یہ منظر او ریہ طریقہ میرے دل کوچھولیا۔ آج یورپ و امریکہ اور وہاں کے پورے مالدا ر لوگ نیند کی گولیاں کھاکر خود پر نیند طاری کررہے ہیں۔ جب کہ میں دیکھ رہاہوں کہ مسلمان سکون سے سورہے ہیں۔ یہ خاص بات میں نے نوٹ کی۔حال ہی میں ایک نیوروسائنٹسٹ نے اسلام قبول کیا۔ وہ بھی سورہ علق کی پندرہویں اور سولہویں آیت سے متاثر ہوئے جن کانام تھاDr.Daniel McBrideDc(ڈاکٹر ڈینیل مک برائیڈاس )، اب ان کانام ڈاکٹر عبدالرحمن ہے۔  کہتے ہیں ہم نے انسانی دماغ کو پڑھاہے ، اس کا ایک حصہ فیصلہ لیتاہے ۔ وہ حصہ خاص طورسے نارمل نہ رہے تو انسان خود خدا بن بیٹھتاہے۔ سورہ علق میں کہاگیاکہ ’’ہر گز نہیں ،اگر وہ باز نہ آیاتو ہم اس کے پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے ۔ اس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطاکار ہے‘‘(سورعلق 16,15) ان آیات  سے متاثر ہوکر ڈاکٹر ڈینیل عبدالرحمن نے اسلام قبول کیا۔ جناب آصف الدین نے ناگپور کی انجلی اور پونہ کے جوگندراشیش پاٹل (میاں بیوی)دونوں ایم ٹیک ، سافٹ ویرانجینئر ، دونوں بنگلور میں سافٹ ویر کمپنی میں کام کرتے تھے، کے علیحدہ علیحدہ قبول اسلام کاواقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ انجلی کوایک مسلم لڑکی ڈاکٹر فرحین (فزیوتھراپیسٹ) نے دین پیش کیا ۔اس نے دین اسلام قبول کیا اور اپنانام خدیجہ رکھا۔ ادھر شوہر بھی آفس میں کام کرنے والے سافٹ ویر انجینئر وسیم صاحب کے دین اسلام کاتعارف کرانے پر ایمان لے آیا۔ گھر کی حالت یہ ہے کہ کمرہ بندکرکے شوہر نماز پڑھ رہاہے ۔ کچھ دیر بعد بیوی کمرہ بندکرکے نما زپڑھ رہی ہے ۔دوسال تک یہ سلسلہ چلا۔ رمضان میں صبح جلدی اٹھ کر دودھ پی کر روزہ رکھنا۔ شوہر کودوپہر کوکھانے کے لئے گھر بلانا،شوہر کا بہانہ بناکر نہ آنا اور دفتر سے لیٹ افطار کرکے گھرآنا۔لیکن ایک دن دونوں کی سچائی سامنے آگئی۔ اب جوگندر اشیش پاٹل کااسلامی نام جاوید احمد پٹیل ہے۔ جناب محمد آصف الدین نے محمددیپک کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ محمددیپک جیسے نوجوان سینکڑوں نہیں ہزاروں ہیں جن کو پہچاننا اور ان سے دوستی کرنا دعوتی ضرورت ہے۔  جن کے ساتھ مسلمان نوجوانوں کی دوستی ہونی چاہیے۔ یہ دوستی ہی انہیں متاثر کرتی ہے۔ آج بھی ہمارے نوجوانوں کے کتنے غیرمسلم دوست ہیں۔ واٹس ایپ گروپ میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔ لیکن کیا ہمارے مسلم نوجوان قرآن پیش کررہے ہیں۔اس پر غور کیاجائے۔  قرآن اللہ کاکلام ہے۔ہماراکام قرآن پیش کرنا ہے۔آگے کاکام قرآن اور اللہ رب العزت کاہے۔ یقین کیجئے کہ مستقبل اسلام کاہے۔یہی بات PEWرپورٹ کہتی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اپنے مستقبل سے مسرت ہونی چاہیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے