ابو احمد مہراج گنج
آج کل ہماری قوم ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ خطباء اور شعراء ہیں جو سیزن کے بعد اپنی آسودہ زندگی گزارتے ہیں، عمرہ و زیارات پر جاتے ہیں اور پرتعیش گھر لیتے ہیں۔ یہ ان کا پیشہ اور محنت ہے، جس پر اعتراض سے زیادہ ہمیں اپنی ترجیحات پر غور کرنا چاہیے۔
ہمارا المیہ کیا ہے؟
جو معلم پورا سال سردی گرمی میں بچوں کی علمی آبیاری کرتا ہے، اسے ماہانہ 5 سے 10 ہزار روپے دیتے وقت "مدرسہ فنڈ” کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔وہی انتظامیہ اور وہی قوم، ایک خطیب یا شاعر کو محض ایک رات کے لیے 30 سے 40 ہزار روپے خوشی خوشی تھما دیتی ہے۔
ہم جلسوں کے لیے لاکھوں کا چندہ جمع کر لیتے ہیں، مگر مدارس کو عصری علوم (Modern Sciences) سے لیس کرنے اور اساتذہ کی تنخواہیں معقول کرنے کے لیے جیبیں خالی ہو جاتی ہیں۔
سوال یہ ہے؟
کیا ہم صرف وقتی جذبات اور اسٹیج کی گونج چاہتے ہیں یا اپنی نسلوں کے لیے مستقل علمی سرمایہ کاری؟
اگر آج ہم نے مدرس اور امام کی قدر نہ کی، تو آنے والی نسلیں جلسوں کی شور و شین میں تو پروان چڑھیں گی، مگر علم کی مضبوط بنیاد سے محروم رہ جائیں گی۔بقول شاعر
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی۔
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا۔

