ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
خرد کا نام جنوں پڑ گیا،جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ جو ایک ماہ سے چل رہی ہے صرف مشرق وسطی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک چلینج ہے- اس جنگ سے صرف مشرق وسطی میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اتہل پتہل مچی ہوئی ہے- اس جنگ کا سب سے اہم پہلو اس کے معاشی نقصانات ہیں – آج تقریباً پوری دنیا میں معاشی تنزلی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے- خود امریکہ میں عوام پریشان ہے – ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف” نوکنگر” کے نام سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے مظاہرہ کیا- اسی طرح”تل ابیب” میں بڑی تعداد میں خواتین اور معمر افراد بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی اور ایران پر جنگ کی زبردست مخالفت کر رہے ہیں –
قابل غور بات یہ ہے کہ موجودہ جنگ کئی پہلوؤں سے عبرتناک ہے- خاص طور سے خلیجی ممالک کو اس جنگ سے سبق لینا چاہیے- انہیں ہمیشہ اپنے پیر پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنی چاہیے- خلیجی ممالک نے امریکی فوجیوں پر کروڑوں روپئے خرج کئے اور ہنوز خرج کر رہے ہیں لیکن انہیں اس سے کیا حاصل ہوا؟ اس جنگ میں انہوں نے خود دیکھ لیا-اب مزید دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے-
موجودہ جنگ کا اصل مقصد کیا ہے ؟
امریکہ نے موجودہ جنگ کیوں چھیڑی؟ اس سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی قریب میں جانا پڑے گا-
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا دو خیموں میں تقسیم ہوگئی- ایک امریکی خیمہ اور دوسرا روسی خیمہ جو 1945 سے 1991 تک چلتا رہا جس کو Cold War یعنی سرد جنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- لیکن 1991 میں سوویت یونین کے انتشار کے بعد پوری طاقت امریکہ کے ہاتھ میں آگئی- اس وقت امریکہ نے سوچا کہ اب اگر کوئی ہمارا حریف ہے تو مذہب اسلام ہے –
چنانچہ 11ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگن پر حملے کا ڈرامہ کیا گیا اور افغانستان کے طالبان کےسرخیل اسامہ بن لادن کو اس کا کلید بردار قرار دے کر پورے افغانستان کو تباہ و برباد کر دیا گیا- اس وقت جماعت طالبان پرزور انداز میں ابھر رہی تھی- اس میں کوئی شک نہیں امریکی عیسائی وسائل اور یہودی دماغ دونوں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ازل سے کوشش کر رہے ہیں-
7 ستمبر 2006 کے ٹائمس آف انڈیا میں لندنی روزنامہ آبزرور کے حوالہ سے 75 امریکی دانشوروں کے بیان سے یہ بات فیصلہ کن طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ ڈرامہ وہائٹ ہاؤس کا ترتیب دیا ہوا تھا ،امریکہ کی مختلف یونیورسٹی کے 75 پروفیسروں نے پانچ سال کی چھان بین کے بعد جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ ایک ایسی سازش کا نتیجہ ہے جس میں امریکہ کے چند کنزرویٹو( قدامت پرست ) سیاستداں،امریکی حکام اور امریکی وزارت دفاع( پنٹاگن ) شامل تھے- اس کا مقصد پہلے افغانستان پھر عراق اور سب سے آخر میں ایران پر حملوں کا جواز مہیا کرنا تھا تاکہ عالم اسلام پر قبضہ کیا جا سکے-( ٹائمس آف انڈیا 7 ستمبر 2006) بحوالہ مغربی میڈیا اور اسکے اثرات از نذر الحفیظ ندوی ص،45-
اسی طرح امریکہ نے اس وقت کے طاقتور ملک عراق کو نشانہ بنایا کہ اس کے پاس WMD یعنی Weapons of Mass Destruction یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں،چنانچہ مارچ 2003 کو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے عراق پر حملہ کر دیا-
جس کے نتیجے میں پورا عراق تباہ ہو گیا- اس جنگ کو ختم ہوئے 23 سال ہو چکے ہیں لیکن پہلا والا عراق اب تک نہیں بن سکا-
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعد میں امریکہ کے اتحادیوں نے معذرت کی کہ انہیں عراق میں(WMD) یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں غلط معلومات دی گئ تھی-
حالیہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ بھی اسی نوعیت کا ہے- محض ظن کی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا-
دراصل اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ عراق کی طرح ایران کو بھی سکنڈوں میں تباہ کر دینگے ِاور اس طرح مشرق وسطیٰ پر بھی اسی کا پورا کنٹرول اور بول بالا ہو جائے گا لیکن نتیجہ اس کے برعکس ہوا-اب امریکہ کا گھمنڈ اور غرور ختم ہوتا نظر آرہا ہے-
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کو حق ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر حملہ کر دے محض ظن کی بنیاد پر کہ فلاں ملک کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں؟
اگر عالمی برادری نے اس پر امریکہ کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پوری دنیا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا-
بہرحال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انانیت اور تکبر اس کے علاوہ اپنے آپ کو دنیا کا بے تاج بادشاہ کا جو تصور تھا وہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے-
اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا کہ روزنامہ جنگ کا ایک اداریہ پیش کیا جائے تاکہ امریکہ کا اصل چہرہ صاف طور پر سامنے آجائے-
وہ( ڈونلڈ ٹرمپ ) امریکہ کا خیرخواہ نہیں، اسرائیل کی کٹھ پتلی ہے۔ جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے، ایک سانس میں کہتا ہے کہ اس نے ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹادیا ہے، اس کی فضائیہ کوتباہ کر دیا ہے، بحریہ کو نابود کر دیا ہے، فوجی تنصیبات اُڑا کر رکھ دی ہیں، سیاسی و مذہبی قیادت کو قتل کر دیا ہے مگر دوسری سانس میں ناٹو اور دوسرے ملکوں کو پکار رہا ہے کہ میری مدد کرو ورنہ ایران سب کو ہڑپ کرلے گا۔ انہیں دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تم نے میری مدد نہ کی تو ہم بھی یاد رکھیں گے۔ تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ اس نے اپنی ساکھ کھو کر اپنے ملک کی مٹی تو پلید کی ہے ، باقی دنیا کو بھی آگ میں جھونکنے کے در پر ہے ۔ ایک طرف ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعوے کر رہا ہے تو دوسری طرف اس کے خلاف مدد کے لئے دنیا کی منت بھی کر رہا ہے۔ جس ملک کو مختار مطلق ہونے کا دعویٰ ہے اس کے غیر منطقی فیصلوں کی وجہ سے وہاں کے ووٹروں میں اس کی ساکھ گر کر 41 فیصد رہ گئی ہے _ 59 فیصد اس سے جان چھڑانے کی فکر میں لگ گئے ہیں، اس کے غیر آئینی اقدامات کو امریکی عدالتیں ایک ایک کر کے کالعدم قرار دے رہی ہیں ، پھر بھی وہ باز نہیں آ رہا۔ صہیونی یہودیوں کی طاقتور لابی کے دباؤ پر اس نے یہ کہہ کر ایران پر حملہ کر دیا کہ وہ ایٹم بم بنا رہا ہے حالانکہ ایران نے بار بار کہا کہ وہ ایٹمنی ہتھیار نہیں بنائے گا – ایران کی مذہبی قیادت نے فتویٰ بھی دے دیا تھا کہ ایٹم بم جیسے ہلاکت خیز ہتھیار انسانیت کے خلاف جرم ہیں اور انہیں تیار کرنا اسلام میں جائز نہیں مگر وہ نہیں مانا – حملے کا فیصلہ امریکہ ایک سال پہلے کر چکا تھا پھر بھی اس نے ایران سے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا – ایران اس کے مطالبات مانتا چلا گیا ، پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر اصرار کے سوا اس نے ہر مطالبہ مانا لیکن اس وقت جب دنیا کو یقین ہو چلا تھا کہ امن سمجھوتا بس ایک دو دن کی بات ہے ، اس نے نیتن یاہو کی بات مان لی اور ایران پر آگ برسانا شروع کر دیا – خود اس کے وزیر خارجہ نے اس کی تصدیق کی – اتنا بڑا دھوکہ کھانے کے بعد ایرانیوں نے پلٹ کر جو منہ توڑ جواب دیا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے –
زمینی صورتحال اس وقت وہ نہیں جو بدترین سنسر شپ کی وجہ سے غیر ملکی بالخصوص صہیونی ذرائع ابلاغ بتا رہا ہے – وہ اپنے نقصانات کا ذکر تک نہیں کرتے اور ایران کی تباہی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں – اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک اسکول پر حملہ کر کے پونے دو سو کم سن بچیوں کی جانیں لے لیں یا سائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایران کے رہبر اعلی قومی سلامتی کے مشیر اور کچھ جرنیلوں کو شہید کر دیا – اس کے میزائل اور ڈرون حملوں نے بھی نقصان پہنچایا – مگر غیر جانبدار غیر ملکی ذرائع نے شواہد کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ وہ اس غیر اخلاقی جنگ میں صرف پہلے دس دن میں ہی اپنے قومی خزانے کو 13 سو ارب ڈالر کا ٹیکہ لگا چکا ہے اور محکمہ جنگ نے مزید دو سو ارب ڈالر مانگے ہیں – ایران نے ابنائے ہرمز کو بند کر کے تیل کی فراہمی جو روکی ہے اس سے پوری دنیا میں معاشی زلزلہ آگیا ہے _ پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں _ مہنگائی ناقابل برداشت ہو رہی ہے – بارہ ممالک براہ راست جنگ کی زد میں ہیں اور باقی عالمگیر جنگ کے روز بروز بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں – موجودہ جنگ میں اسرائیل کی بھی فوجی تنصیبات , فیکٹریاں اور بلند و بالا عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں _ مشرق وسطی میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے بربادی کے ساتھ مسلم عرب ملکوں کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا جو ایک بڑا المیہ ہے _ وہاں سے غیر ملکی خصوصا مغربی ممالک کی کمپنیاں اپنا کاروبار بند کر کے بھاگ رہی ہیں اور ان کے ملازمین امریکہ اور اسرائیل کو بد دعائیں دے رہے ہیں _ امریکی انٹلیجنس کے سربراہ جو کینٹ نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا ہے _ اس کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کا کوئی جواز نہ تھا _ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا تھا نہ اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا _ اس جنگ میں بھارت بھی جارح قوتوں کی منصوبہ بندی میں برابر کا شریک ہے چنانچہ اسے امریکہ میں دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائزی قائم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا ہے _ پاکستان کی ویسے تو بڑی تعریفیں کی جا رہی ہیں مگر امریکی انتظامیہ کے ایک بزرجمہر نے پانچ ملکوں کو ایٹمی بدمعاش قرار دے کر ان سے نمٹنے کی سفارش کی ہے _ ان میں ایران ، روس ، چین اور شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان بھی شامل ہے _ روس کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران کو سیٹلائٹ سہولت کی ٹیکنالوجی مہیا کر رہا ہے جن کی مدد سے ایران امریکہ اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے _ یہ یوکرین کو روس کے خلاف امریکی ہتھیاروں اور اربوں ڈالروں کی فراہمی کا نتیجہ ہے- روسی صدر اعلان کر چکے ہیں کہ وہ پوری طرح ایران کے ساتھ ہیں _ انہوں نے ایران پر حملے روکنے کا بھی بار بار مطالبہ کیا ہے _ چین کا کردار خاموشی سے اپنا کام کرنا ہے جو وہ کر رہا ہے ویسے تو پروپیگنڈے کے محاذ پر امریکہ اور اسرائیل ایران کو خدانخواستہ صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہیں مگر اس حقیقت کو چھپائے ہوئے ہیں کہ اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 16 لڑاکا طیارے تباہ اور دو سب سے بڑے بحری بیڑے تقریباً غرق ہو چکے ہیں ، ڈر کے مارے ان کے بچے کھچے ڈھانچے عرب ساحل سے جہاں سے وہ ایران پر حملہ کر رہے تھے دور پہنچائے جا چکے ہیں _ ٹرمپ جب سے وہائٹ ہاؤس میں آیا ، اس نے اپنے ملک کے آئین ، روایات اور بین الاقوامی قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھ لیا ہے جس کے خلاف امریکی عدالتیں جرات مندانہ فیصلے بھی دے رہی ہیں مگر اسے اقوام متحدہ کی پرواہ ہے ،نہ اپنی قوم کی ،وہ اس کام کو مکمل کرنا چاہتا ہے جسے ہٹلر اور مسولینی نے ادھورا چھوڑ دیا تھا –

