محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ شاندارمستقبل 
وہ خودکشی کرنے والوں پرآج حددرجہ مغموم نظرآیااور میں خودکشی نہ کرنے والوں کے مسائل کوحل کرنے میں پہلے سے لگاہواتھا۔ اس نے مجھ سے کہا’’یار ، یہ قطعاً غلط بات ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ خودکشی کرلیں ‘‘
مجھے گٹکھا کھانے کی بری عاد ت ہے۔ گٹکھا منہ میں ڈال لینے کے بعدمیں نے اطمینان سے اس کاجواب دیا’’تم صحیح کہہ رہے ہو، خودکشی سے روکنے کی مہم سال بھر چلنی چاہیے۔ دوتین اچھے بول ، مدد کے لئے آگے بڑھنا،تحائف دینا،محلہ کے بچوں کی تعلیم کاخیال رکھنا، سرکاری اورNGOsکی اسکیمات اور پروگراموں کوایک دوسرے کو بتلانا ، اپنے سے زیادہ اپنے بھائی بہن اور پڑوسیوں کی مدد کیلئے گھر کے ذمہ دار اور نوجوانوں کا وقت نکالنا ،خودکشی کے واقعات کو کم یاپھر ختم کرنے میں ممدومعاون ہوگا‘‘
وہ جانے لگاتو میں نے پوچھا ’’کدھر؟‘‘ بولا ’’لوگوں کی مدد کرنے‘‘پھروہ مجھے حیرت زدہ چھوڑ کرآگے بڑھ گیا۔ایسے بھی لوگ ہیں جو منہ سے نکلنے والے جملوں کو فوراًعملی جامہ پہنانے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ توپھر مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ مستقبل شاندار ہے۔
۲۔ اجتماعیت کے باہر 
ہم اجتماعیت کے خول میں بند رہ کر تنگ آچکے تھے۔ کسی مرغی کے چوزے کی طرح اس اجتماعیت کے خول سے باہر نکل آناچاہتے تھے۔ کیوں کہ اجتماعیت کی فضا پہلے جیسی نہیں تھی۔آج کی فضا میں بلاشبہ دم گھٹتاہے۔ طرفداری، ہٹ دھرمی، غیرمشاورتی طرز ، گروپ بندی اور خفیہ نویسی نے اجتماعیت کو اس قابل نہ چھوڑ اتھاکہ اس پر بھروسہ کیاجاتا۔
اور جب اجتماعیت کے خول سے نکل آئے تو محسوس ہواکہ واقعی آزاد ہیں ۔ یہ کام تو بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔آج آزاد ی سے سانس لینے کے علاوہ وہ کام جو خیر کے ہیں، کئے جارہے ہیں۔ بہت سے کام کھٹاکھٹ ہورہے ہیںلیکن کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ کوئی ٹوکنے والا اورراہ بتلانے والا گروہ نہیں ہے ۔جو کچھ کام انجام دینا ہے ہمیں ہی انجام دیناہے۔لگتاہے خلیج کے صحرا میں آگئے ہیں ۔وہاں تھے تو دم گھٹتاتھا ، اِدھر آئے ہیں توکوئی سی کمی کا احساس ہے۔ ہم آخرکس صدی کے لوگ ہیں کہ کہیں پر بھی یکسوئی مقدر نہیں ٹہری؟
آپ کس طرح یکسو رہنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ضروربتلائیں ؟
۳۔ نکلنے والے 
وقت ایسے نکل گیاجیسے وہ نہ نکلتا تو اس کا یہیں دم گھٹ جاتا۔ یہ جو زندگی ہے نا اس سے ہرکوئی نکل جانے پرتلابیٹھاہے۔ سرسے بال نکل گئے ہیں اورآنکھوں سے خواب ۔ آگے کس کے نکلنے کانمبر ہے پتہ نہیں ۔
۴۔ پاگل پن 
کپڑے مجھ سے کہہ رہے تھے ’’ہم انسانیت کوبرہنگی سے بچالیتے ہیں، لیکن انسان ہے کہ ہماری ناقدری  اور اس سے چھٹکار اپانے میں لگاہواہے۔ جیسے ہم کپڑے نہ ہوں ،اِن انسانوں کے بوڑھے اور بیمار والدین ہوں جن سے جتنی جلدی چھٹکار اپالیں ، سکون کی زندگی کے لئے اس قدر اچھا ہو‘‘
اب میں ان کپڑوں کی دلجوئی میں لگاہواہوں۔ یہ پاگل پن نہیں تو اور کیاہے ؟ کس کاپاگل پن ؟ نہیں پتہ ۔مگر پاگل پن تو ہے ۔
۵۔ حضرت کی تلقین 
حضرت نے بارش رُکا دی تھی تاکہ اجتماع بخیروخوبی ہوسکے۔مریدین کو پتہ چلا تو ان کا رویہ اس طرح ہوگیا جیسے بارش خود مریدین نے رکوادی ہو۔حضرت کا بیان جاری تھاکہ اچانک بیان نے موڑ لے لیا اورانھوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ”بارشیں رب کے حکم سے برستی اور اسی کے حکم پر توقف کرتی ہیں۔اس میں بندے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔لہٰذا شرک سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے”
مریدین کے چہرے لٹکے ہوئے تھے۔بیان جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے