”زندگی کے ساتھ بھی، زندگی کے بعد بھی”
راج شیکھر پاٹل اشٹور 
بھارت کی مرکزی وزارت خزانہ کے زیر کنٹرول مشہور پبلک سیکٹر انشورنس کمپنی’’ لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا‘‘ نے یکم ستمبر 2024 کو اپنی 68ویں سالگرہ منائی۔ بیمہ کنندہ کے سماجی تحفظ کے لیے مشہور ، سادہ اور معنی خیز اشتہار کے ساتھ یہ کمپنی اپنے صارفین کو متوجہ کرتی ہے جیسے ”ہر پال آپکے ساتھ”اور”زندگی کے ساتھ بھی، زندگی کے بعد بھی”۔
 بھولا ہوا طویل سفر:۔ فیروز گاندھی بھارت کے پہلے وزیر اعظم جناب جواہر لال نہرو کے داماد اور سابق وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی کے شوہر اُتر پردیش کے رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ تھے۔ ان کے پوتے  لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف  جناب راہول گاندھی بھی اسی رائے بریلی حلقہ سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہیں۔ فیروز گاندھی نے اپنی عوامی زندگی میں ملک کی آزادی کی تحریک کیلئے سڑکوں پراُترکر احتجاج کرتے ہوئے قیادت کی۔ جیل گئے۔اس کے علاوہ وہ ایک سرگرم ایم پی رہے ۔انھوں نے حکمران پارٹی(کانگریس) کے غلط کاموں کو بھی نہیں بخشا جس کے قائداُن کے سسر (نہرو) تھے۔یہ فیروز گاندھی تھے جنہوں نے رام کرشنا ڈالمیا کا سکینڈل اٹھایا تھاجو بہت بڑے بزنس مین تھے۔ اور کانگریس کے حامی تھے جنہوں نے انشورنس  کی پریمئیم کے طور پر جمع کی گئی رقم کا اپنے کاروبار کیلئے غلط استعمال کیا۔اس مسئلہ کو فیروزگاندھی ، کانگریس پارٹی اور پنڈت نہرو نے وہیں ختم کرنے کے بجائے بیمہ کی اس صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا اور اس طرح ایل آئی سی آف انڈیا وجود میں آ گیا۔فیروزگاندھی کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ انھوں نے لوک سبھامیں انکشاف کیاکہ اس وقت کے مرکزی وزیر خزانہ TTکرشنماچاری نے اس وقت کے غیرمعتبر کاروباری ہری داس مندرا کی ایل آئی سی کی رقم کے ذریعہ مدد کی۔ جب کہ وہ کانگریس پارٹی کے انتخابی فنڈ کے عطیہ دہندگان میں سے بھی تھے۔ ٹی ٹی کرشنماچاری پنڈت نہرو کے قریبی ساتھی تھے ۔ حکومت نے کرشنماچاری کواستعفیٰ دینے کی ہدایت دی ۔
دردناک عمل :۔ فیروز گاندھی جیسے ایماندار شخص کو یاد کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے، آج ہم خاص طور پر سوشل میڈیا میں ان کو منفی انداز میں (ویلن کی طرح)پیش کر رہے ہیں،یہ عمل ہندوستان کے لئے ایک مرض کی طرح ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس عمل سے تکلیف ہوتی ہے۔
ایل آئی سی آف بیدر برانچ:۔ ہمارے بیدر میں 1974 میں جنتا بازار نزد پوار پیٹرول پمپ روبرو سیلز ٹیکس آفس کی کرائے کی عمارت میں ایل آئی سی نے اپنا برانچ آفس   کھولا۔ 1996 میں ریلوے اسٹیشن کے قریب اپنی عمارت میں منتقل ہونے سے پہلے وہ کئی نجی کرائے کی عمارتوں میں منتقل ہو گیا۔ اس کی تشکیل کے ابتدائی دنوں میں (ایل آئی سی) کو حیدرآباد ڈویژن سے منسلک کر دیا گیا تھا، پھر ریاستوں کی تنظیم نو کے بعد اسے گلبرگہ منتقل کر دیا گیا۔
مشہور LIC ایجنٹس اور ڈیولپمنٹ آفیسر:۔ آنجہانی سدرامپا گادگی کر ایل آئی سی کی پالیسیاں متعارف کرانے والوں میںپہلے شخص تھے، بعد میں ایک اور شخص مسٹر توفیق احمد اور بی جے پی کے موجودہ لیڈر جناب نند کشور ورما ایل آئی سی کے گاہکوں میں مقبول ہوئے۔آنجہانی G.Nراؤ ہمارے شہر میں ایل آئی سی ڈیولپمنٹ افسر کے طورپر مشہور تھے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں داخلے سے پہلے ہمارے شہر میں انشورنس انڈسٹری کے LIC ایجنٹوں کا کاروبار کافی پھلتا پھولتارہا۔ ایسے افراد سے ان کے روابط تھے جن کی معاشرے میں پوزیشن اچھی تھی۔ یہاں کا ٹرن اوورسوکروڑ میں تھا، وہ لوگ سب سے زیادہ انفرادی طور پرٹیکس ادا کرنے والوں میں شامل  تھے۔میں ایک محاورے کے ساتھ اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں ”سچ کو اگلی نسل تک پہنچائیں، انہیں(وہ چیزیں) جلد سکھائیں جنہیں ہم دیر سے سیکھ سکے ہیں”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے