مولانا مجیب الدین، مدنی 

________________

سعودی عرب ہر سال 23 ستمبر کو اپنا قومی دن مناتا ہے در حقیقت یہ وہ دن ہے جس روز 1932ء میں اس عظیم ملک کے بانی و مؤسس شاہ عبد العزیز بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ایک فرمان جاری کر نجد و حجاز کے علاقے کو ضم کیا تھا اور اس ملک کو "مملکت سعودی عرب” کا نام دیا تھا اور عربی زبان کو اس ملک کا سرکاری زبان اور قرآن و سنت کو اس ملک کا دستور اور آئین قرار دیا تھا، اسی مناسبت سے حکومت سعودی عرب نے 2005 میں اپنے پچہترویں یوم تاسیس کے موقع پر ہر سال 23 ستمبر کو قومی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔

معزز قارئین! اس اسلامی ملک کے کئی ایسے امتیازی خصائص ہیں جو اسے دیگر تمام ممالک سے ممتاز بناتے ہیں، اس کے چند نمایاں خصوصیات پیش خدمت ہیں۔

1۔ اس ملک کا دستور کتاب و سنت ہے: اس عظیم ملک کی دستور سازی کے وقت دفعہ نمبر ایک میں یہ بات درج کی گئی: المملكة العربية السعودية دولة ذات سيادة تامة دينها الإسلام و دستورها كتاب الله و سنة رسوله و لغتها هي اللغة العربية و عاصمتها مدينة الرياض” يعنی سعودی عرب ایک مستقل اسلامی عربی ملک ہے جس کا دین اسلام ہے جس کا دستور کتاب و سنت ہے جس کی زبان عربی ہے اور جس کی راجدھانی ریاض ہے۔

اس طرح سے یہ کتاب و سنت کو اپنے ملک کا آئین اور دستور قرار دینے والا دنیا کا منفرد اور اکیلا ملک قرار پایا۔

2۔ دین و سیاست میں شاندار ہم آہنگی: اس حکومت کے قیام کے روز اول سے ہی یہ طے ہوا تھا کہ حکومت کو دین سے الگ نہیں رکھا جائے گا بلکہ دین اسلام میں سیاست کے جو رہنما اصول موجود ہیں انھیں کے تناظر میں سیاسی و سماجی مسائل کو حل کیا جائے گا اور قابل ستائش بات یہ کہ اس حکومت کے ابتدائی ادوار میں دونوں بزرگوں محمد بن سعود اور محمد بن عبد الوہاب کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا سعودی حکومت آج تک اس پر قائم ہے اور اس شاندار تجربے نے یہ ثابت کردیا ہیکہ جب بھی،جہاں بھی ارباب اختیار و اقتدار اور اہل دین و اہل علم کے مابین اس قسم کی ہم آہنگی اور اتفاق ہوگی وہاں امن امان اور تعمیر ترقی کی باد بہار چلے گی اور جس کے نتیجہ سعودی عرب جیسا ترقی یافتہ، پرامن، پاکیزہ، صالح اور مثالی ملک وجود میں آئے گا۔

3۔ کتاب و سنت کی نشر و اشاعت: اس ملک نے اپنے قیام کے روز اول سے ہی اسلام کے دونوں سرچشمے قرآن مجید اور سنت رسول کی جو خدمت کی ہے وہ عدیم المثال ہے۔

مدینہ منورہ میں اس حکومت کے عظیم فرمانروا شاہ فہد رحمہ اللہ نے ایک عظیم قرآن کمپلیکس قائم کیا جہاں سے لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں قرآن چھاپ کر پوری دنیا میں بالکل مفت تقسیم کیا جاتا ہے اور حکومت سعودی عرب نے اسی كمپلس سے اپنی نگرانی میں دنیا کی تمام زندہ زبانوں میں قرآن کے تراجم شائع کرائے ہیں اور اسے بھی پوری دنیا میں تقسیم کیا ہے اور پورے تسلسل کے ساتھ یہ کام آج تک جاری و ساری ہے ۔

مدینہ منورہ ہی میں "شاہ سلمان حدیث کمپلیکس” قائم کیا گیا جہاں سے احادیث مبارکہ کی تحقیق اور ترویج و اشاعت پر پورے زور و شور کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔ اللہ انھیں مزید خدمت کتاب و سنت کی توفیق بخشے ۔

4۔حرمین شریفین کی خدمت: بلاشبہ اس حکومت نے حرمین شریفین کی تعمیر و ترقی، تزئین و آرائش اور اسکی خدمت و حفاظت کے جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں وہ تاریخ حرمین کا ایک روشن باب ہے اور یقینا اس کا یہ کارنامہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ جب سے یہ حکومت قائم ہوئی ہے ہر دور میں ہر بادشاہ نے حرمین شریفین کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے کسی نے سچ ہی کہا ہیکہ سعودی عرب کے قیام سے لیکر آج تک کبھی بھی حرمین کا تعمیراتی کام رکا نہیں ہے۔

5۔حجاج کرام کی خدمت: یہ حکومت اپنے قیام کے روز اول سے ہی حجاج کرام کی راحت رسانی اور انھیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے ۔حجاج کرام کی خدمت کو نہ صرف سعودی حکومت بلکہ سعودی عوام بھی اپنے لئے باعث شرف و صد افتخار سمجھتی ہے۔

کوئی بھی فرد جب تعصب کے عینک کو نکال کر پوری امانت و دیانت کے ساتھ حج انتظامات کا معائنہ کرتا ہے تو وہ سعودی حکومت کے اعلی اور معیاری حج انتظامات کو سراہے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ سعودی حکومت حجاج کی راحت رسانی کے خاطر اپنے خزانے کا دہانہ کھول دیتی ہے اور انھیں اپنا مہمان تصور کر کے ان کی مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی ہے۔

6۔ تعلیم و تعلم: تعلیم و تعلم کے میدان میں جو کوشش اور کامیاب تجربات سعودی عرب نے کئے ہیں وہ بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہیکہ جس طرح سے اس حکومت نے اپنے ملک کے بچوں کے لیے تعلیم و تعلم کے شاندار انتظامات کئے ہیں اسی طرح سے دنیا بھر کے لاکھوں تشنگان علم و معرفت کو اپنے خرچ پر بلاکر انھیں اپنے ملک کی مایاناز یونیورسٹیوں میں زیور علم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا نظم کیا ہے۔ سعودی عرب میں کم وبیش پچاس ایسی اسلامی و عصری یونیورسٹیاں ہیں جہاں پوری دنیا سے طلبہ آکر اپنا علمی پیاس بجھاتے ہیں اور حکومت انھیں ہر ممکن سہولت فراہم کرتی ہے ۔

7۔پوری دنیا کے مسلمانوں کی سرپرستی: سعودی حکومت کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ اس نے ہر زمانے میں ہر محاذ پر بڑی حکمت عملی اور پورے سوجھ بوجھ کے ساتھ قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے پر امن مذاکراتی اقدامات،اور پورے تسلسل کے ساتھ کے کانفرنسز اور مشاورتی اجلاس کا انعقاد کرتی رہی ہے۔

عالمی مسائل میں اس کے موقف کو ہر اعتدال پسند اور منصف شخص نے ہمیشہ سراہا ہے ،دنیا میں جہاں کہیں بھی ناگہانی آفت آتی ہے اس ملک کے بری اور بحری بیڑے رسد اور مساعدات لے کر پہونچ جاتے ہیں اور پوری دنیا میں جتنے تعلیمی اور رفاہی ادارے ہیں ان میں سے اکثر نے حکومتی یا شخصی سطح پر اس سے فیض حاصل کیا ہے۔

محترم قارئین! بطور مثال یہاں سعودی عرب کے چند بارز خصوصیات ذکر کئے گئے ہیں ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے امتیازی خصوصیات ہیں جنھیں اس مختصر سی تحریر میں ثبت کرنا ممکن نہیں تاہم اس پر فتن اور اتہامات کے دور میں ہر مؤحد مسلمان کو ہوشیار اور چوکنا رہنا چاہئے سعودی حکومت پر لگائے گئے الزامات و اتہامات پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کر لینا چاہئے یہ ایسا ملک ہے جس پر ہر چہار جانب سے یلغار ہے دشمنان اسلام اس کے صاف و شفاف کردار کو ہمیشہ داغدار کرنے کے فراق میں رہتے ہیں ۔

دنیا بھر کے باشعور مسلمانوں کو چاہئے کہ حرمین شریفین کی مبارک سرزمین پر قائم اس مملکت توحید اور اس کے فرمانروا سے للہ فی اللہ محبت کریں اور اس کی بقا کے لئے رب سے دعا کرتے رہیں کہ جب تک یہ حکومت قائم رہے گی یہاں سے کتاب و سنت کی نشر و اشاعت ہوتی رہے گی، مسلمان امن و سکون کے ساتھ فریضۂ حج و عمرہ ادا کرتے رہیں گے۔

سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے ہم خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود، ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود / حفظہما اللہ اور پوری سعودی عوام کو مبارکبادی پیش کرتے ہیں

ساتھ ہی دعاء کرتے ہیں کہ اللہ اس ملک کو حاسدوں کی حسد سے محفوظ رکھے اور اسے روز افزوں ترقی عطا فرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے