ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی انڈیا 

اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے شروع کر دیئے ہیں ہے گناہ لبنانیوں کو حسب اللّہ کے لڑاکے بتاکر اُنکے آشیانوں اور زندگیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے غزہ کی طرح ہی لبنان میں بھی معصوم بے گناہ مارے جا رہے ہیں 2000 پاؤنڈ کے چھوٹے ایٹمی بم  لبنان کے تمام شہروں پر گرائے جا رہے ہیں اور کوئی اُسے روکنے والا  نظر نہیں آ رہا ہے۔ امریکا کا دوغلہ پن یہ ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار دیکر مسلمان ممالک میں رہنے والے تمام مومنین کا قتلِ عام چاہتا ہے اور جب کوئی مُسلم ملک اُس کا جواب دینا چاہتا ہے تو امریکا حفاظت کے نام پر اسرائیل پر کئے جانے والے حملوں کو ناکام بنانے کی غرض سے سامنے آجاتا ہے۔ صِرف اتنا ہی نہیں امریکا نے اپنی افواج مڈل ایسٹ میں بھیج دی ہے جو باہری حملوں کو ناکام بنائے گی اور اسرائیلی فوج جِس طرح فلسطین پر قبضہ کر چکی ہے اُسی طرح اب لبنان پر بھی قبضہ کرنے کی غرض سے بڑھنے والی ہے۔ اگر امریکا براہِ راست اِس جنگ میں اُترتا ہے تُو حزب اللّہ کے خلاف ناٹو اتحادی افواج بھی مدِ مقابل آجائیں گی اور ترکی سے اِن پر حملہ کرنے کا دباؤ بھی بنائیں گی۔ ترکی کے منع کر دینے پر اُسے ناٹو اتحاد سے باہر کر دِیا جائے گا پھر اُس سے بھی ناٹو اتحادی افواج کا مقابلہ ہوگا۔ ایسا مُجھے لگتا ہے کہ ابھی دو چار دن بعد ہی شام اور عراق پر بھی حملے شروع ہو جائیں گے۔ اسرائیل کی پلاننگ گریٹر اسرائیل بنانے کی ہے۔ اگر اِس وقت مُسلم ممالک ایک نہ ہوئے تو آنے والا وقت مُسلم ممالک کو گھٹنوں پر بیٹھنے کے لئے مجبور کر دیگا اور ذلّت ہی اُن کا نصیب ہوگا۔

اِس وقت ضرُورت ہے اسرائیل کی پلاننگ کو سمجھنے کی، اگر وہ اِس وقت اُس کی پلاننگ نہیں سمجھے تو پھر وقت ہاتھ سے نکل جائیگا اور اسلامی حکومتیں ہاتھ ملتی رہ جایئں گی۔ مُجھے پوری اُمّید ہے کہ ایران بہت جلد اِس جنگ میں براہِ راست اُترے گا، حزب اللّہ سے ابھی جنگ جاری ہے، ایران اپنا حملہ کرنے سے پہلے ابھی شام، عراق اور یمن سے بھی حملے کرائیگا۔ ایران چاہتا ہے اسرائیل کو جنگ کا میدان بنایا جائے جبکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ لبنان، عراق اور شام کو بیٹل فیلڈ میں تبدیل کیا جائے، مگر میرا نظریہ ہے کہ ایران کے جنگ میں اُترتے ہی امریکا اور یورپ کا اتّحاد ایران کو اپنا نشانہ بنائیں گے جِس کے جواب میں چین، کوریا اور روس اِسے فوجی مدد دینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ اِس جنگ کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز سمجھنا غلط نہ ہوگا۔

اسرائیل اور امریکی اتحادی افواج جِس وقت جنگ سے شکست خوردہ ہو کر واپس ہونگی تب اسرائیل اپنی ہار ماننے کے بجائے اِس خطے پر خطرناک ایٹم بم کا استعمال کریگا۔ اِس طرح تیسری عالمی جنگ ضرور ہوگی۔ مگر اِس کا اختتام کب ہوگا، اِسے بتا پانا بہت مشکل ہے۔ لیکِن اتنا ضرور ہے کہ اِس جنگ سے یا تو اسرائیل ختم ہو جائے گا یا پھر گریٹر اسرائیل کی بُنیاد پڑ جائے گی اور سارے اسلامی ممالک امریکا اور اسرائیل کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے ذلّت زدہ وجود کو کوسیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے