(نیپال /19/دسمبر 2024ء): یقینا روئے زمین پر ‘تبلیغی جماعت ‘ سے ایک بڑا دینی انقلاب آیاہے۔ تبلیغی جماعت نے بے دینوں اور گمراہوں کو دین اور صراط مستقیم پر لاکھڑا کرنے کا جو بلند ترین کارنامہ انجام دیا ہے،اس سے کسی کو قطعی انکار نہیں ہے؛ مگر گزشتہ قریب کے چند سالوں سے’ شخصیت پرستی’ نے تبلیغی جماعت پر جو ایک گہرا اور بدنما چھاپ ڈالا ہے ،اس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہے۔
  ‘تبلیغی جماعت’ کہ جس کا کام ہے ربع مسکوں پر امن وامان بحال کرنا اور مسلمانوں میں ایمان کے مدھم چراغ کو افزوں کرنا،نہ کہ انسانیت کا قتل کرنا،فساد بڑپا کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا:جیساکہ بنگلہ دیش کے حالیہ اور سابقہ خون ریز لڑائیوں سے بخوبی معلوم ہوتاہے۔
   چند سالوں سے تبلیغی جماعت میں جو نفرت کی آگ لگی ہے،اس کی زد میں صرف ہندوستان  بنگلہ دیش ہی نہیں،بل کہ  نیپال تک آگئی ہے۔اور نیپال میں بھی دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی اور زبانی جنگ کی خبریں گاہے بگاہے سننے کو ملتی رہتی ہے؛ اس لیے میرے قاشہ قلب میں یہ بات آئی کہ کیوں نہیں نیپال میں’ تبلیغی جماعت’ کے ‘دونوں گروپوں’ سے نفرت کی آگ کے خاتمے پر اور امن وامان کے بحالی کے ساتھ دعوت وتبلیغ کے کام کو مزید سرگرم کرنے پر اپنی رائے پیش کردوں۔
  تبلیغی جماعت کے موجودہ صورت حال کے پیش نظر احقر (انوار الحق قاسمی)کی ذاتی رائے یہ ہے کہ : نیپال میں اس وقت تک کے لیے  ہندوستان ،بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں (یعنی جہاں کہیں بھی اختلافات ہیں)کی ‘جماعت’ آنے پر بالکل روک اور پابندی لگادی جائے،جب تک یہ لوگ امارت و شوریٰ کے اختلافات ختم نہیں کرلیتے ہیں اور اس کا اعلان بھی کروایا دیا جائے۔
   اورنیپال کی جماعت کو بس نیپال اور دیگر غیر اختلافی ملکوں ہی  میں بھیجنے پر اکتفا کریں۔ اس طرح کرنے سےہم  صحیح معنوں میں نیپال میں صحیح طور پر دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دے سکیں گے؛ ورنہ ہم اختلافات میں  پڑ کر اپنی زندگی اور آخرت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں کرپائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے