ابو احمد مہراجگنجی

شہر میں بلدیاتی انتخابات کی چہل پہل ہے صبح سے شام تک زندہ باد مردہ باد کے نعروں سے گونجتی گلیوں اوران سے پیدا ہوتے شور نے مجھ کو میرے معاشرے کو منافق نما بھیڑ میں تبدیل کردیا ہے۔میں ہر امیدوار کواپنا قیمتی ووٹ دینے کی حامی بھرتا ہوں،اور چند منٹ بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر دوسرے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا وعدہ بھی کرتا ہوں۔ پھر تیسرے پہر چوتھی پارٹی کے امیدوار کے ساتھ سیلفی لینے کی رسمی کوشش کرکے اس کو بھی یقین دلادیتا ہوں کہ میں تمہارے ہی ساتھ کھڑا ہوں اور جب کبھی تنہائی میں جاتاہو تو اپنی اس منافقانہ طرز عمل پر نادم کیا ہوتا، اپنی چالاکیوں پر خوش ہوتا ہوں گویا میں زبان حال سے کہہ رہاہوتا ہوں ۔

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے

تم خوب منافق ہو منافق بھی بلا کے

پھر سوچتا ہوں اس میں کوئی قباحت بھی تو نہیں ہے،ہر امیدوار میرے گاؤں محلے کا ہی ہے ،اگر سائیکل نشان والے کو ووٹ دینے کا وعدہ نہ کروں تو میرے سیکولرزم پر سوال اٹھنے لگے گا۔اگر ہاتھ کے پنجے والے امیدوار سے وعدہ نہ کروں تو کمل نشان والی پارٹی جیت جاۓگی اور اسے ہرانا میرا مذہبی فریضہ جو بن گیا ہے۔ اگر ہاتھی نشان والے امیدوار سے ووٹ دینے کا وعدہ نہ کروں تو بہن جی کی پارٹی مجھ کو غدار اور بے وقوف سمجھنے لگے گی۔ اور اگر کمل کے پھول نشان والے امیدوار کو اپنا ووٹ دینے کی یقین دہانی نہ کراؤں تو ممکن ہے کہ میرے پاکستان جانے کا ٹکٹ کرادے !!! الغرض میں سمجھ ہی نہیں پاتا کہ میں کروں تو کیا کروں کٹنا تو مجھے ہے ہی لیکن کس کے ہاتھ سے کٹوں۔لٹنا تو مجھے ہے ہی لیکن کس کے ہاتھ سے لٹوں افسوس کہ اس کا اختیار ابھی میرے پاس ہے ۔۔شاید اسی لیے ابھی میں منافق بن کر ہی ٹھیک ہوں لیکن اگر میرے اندر ضمیر نام کی کوئی چیز ہے تو وہ مجھے ملامت کرتی ہے اور کہتی ہے

ممکن نہیں مجھ سے یہ طرز منافقت

دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں

لیکن کیا کروں میں اس ضمیر کا اسی دنیا میں مجھے جینا بھی ہے یہیں پہ اپنے ماضی کے زخموں سے رستے ہوئے خون کو دیکھ کر اس کی ان دیکھی بھی کرنا ہے کتنا کربناک ہے میرا سفر ،کتنا تاریک ہو تا جارہا ہے میرا مستقبل مجھے مرتے مرتے زندہ بھی رہنا ہے اور جیتے جی مرتے بھی رہنا ہے تو بہتر ہے کہ میں ان سیاسی منافقین کے ساتھ منافق ہی بن کے رہوں۔

کس درجہ منافق ہیں سب اہل ہوس ثاقب

اندر سے تو پتھر ہیں اور لگتے ہیں پانی سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے