دامن میں لے کے خیر کا سامان آگیا
جس کا تھا انتظار وہ مہمان آگیا
رب کے کرم سے کٹ گیا روز غم حیات
خوشیاں منا مومنوں رمضان آگیا،،
ہر وقت ہو تلاوت قرآں کا اہتمام
برکت لٹاتا یہ مہ ذی شان آگیا
تازہ ہوئی ہے روح، معطر ہوا ہے دل
لے کر بہار حاصل ایمان آگیا
شیطان منھ چھپانے لگے ہیں گپھاؤں میں
دنیا کے کفر و شرک میں طوفان آگیا
باطل ہوا ہے زیر ندامت سے سر ہیں خم
لوگوں میں حق پرستی کا رجحان آگیا
سرور تمھارے حق میں الی! کا ہے کرم
یہ لے کے اپنے ساتھ میں فیضان آگیا
جاوید۔۔۔۔۔سرور۔۔۔۔۔۔کشی نگری

