عبدالرحمن راشد عمری
غم کے زیر اثر ہو گیا
خشک دل کا شجر ہو گیا
ذوق سجدہ بڑھا اس قدر
بار سر معتبر ہوگیا
منزلوں نے بھی آواز دی
عزم جب ہم سفر ہو گیا
ہوگئی داستاں جب طویل
واقعہ مختصر ہوگیا
اہل فن کی جو صحبت ملی
میں بھی نور نظر ہوگیا
رب نے راشد کو رتبہ دیا
بالیقیں با اثر ہوگیا

