كتبه: محمد محب الله بن محمد سيف الدين المحمدي

دکتور ایمن حبشی حفظہ اللہ ہمارے قواعد فقہیہ کے استاد ہیں ۔ الحمدللہ بہت زبردست پڑھاتے ہیں ۔ آپ پڑھاتے پڑھاتے طلباء کی تربیت بھی کرتے ہیں زندگی کے ہنر اور گر بھی سکھاتے ہیں ،مشاہدہ اور طویل تجربے کی چیزیں اورحقیقی واقعات بهي بتاتے ہیں ایک روز کہنے لگے ہمیشہ ظلم سے بچوں مظلوم کی آہوں سے بچنے کی فکر کرو ۔ یاد رکھو ظالم کا حساب ضرور ہوتا ہے ۔ ہاں وقت لگتا ہے مگر ظالم اپنے کیفر کردار تک ضرور پہنچتا ہے ،اللہ تعالٰی ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر جب انتقام لینے پر آتا ہے تو ایسے انداز سے انتقام لیتا ہے کہ ظالم عبرت و موعظت کے ساتھ ساتھ حسرت وندامت کا بھی نمونہ بن جاتا ہے ،اسے ایسی جگہ سے پکڑتا ہے جو اس کے خواب وخیال میں نہیں ہوتی ،اسے ایسے گرفتار کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹس مس نہیں ہوپاتا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ دو قسم کے لوگ ضرور پہلے دنیا میں سزا پاتے ہیں پھر آخرت کی باری آتی ہے ایک ماں باپ کا نافرمان اور دوسرا لوگوں پر ظلم کرنے والا ۔ اسی طرح جو لوگ ظلم وزیادتی پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ،معصیت ونافرمانی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ان میں دوستی کی رسی بظاہر مضبوط وقوی نظر آۓ مگر حقیقت میں وہ بہت ہی کمزور ہوتی ہے ،اللہ تعالٰی اسے جب چاھتا ھے چند لمحوں میں تہس نہس کردیتا ہے ۔

پھر اپنا ایک آنکھوں دیکھا قصہ سنایا بتایا کہ ایک تاجر تھا اس کے پاس بڑا سا کپڑوں کادکان تھا اور بہت سارے ہیلپر اور عامل کام کرتے تھے اس کے دکان میں لیکن یہ تاجر اپنے ماتحتوں پر بہت ظلم کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ ایک مزدور کی تنخواہ انھوں نے ہڑپ لیا وہ مزدور پریشان تھا بہت گذارش کے بعد بھی اسے تنخواہ نہیں مل سکا ۔ پھرمایوس وہ مزدور اپنا ملک واپس آگیا ۔ اور تقریباً ایک سال بعد وہ تاجر عمرہ کی غرض سے سعودیہ آیا اور پھر جاکر اس تاجر سے ملا تو تاجر نے اسے خوب زدوکوب کیا سب وشتم کیا ۔ یہاں تک مزدور نے کہا میں کعبے میں جاکر تم پر بد دعا کروں گا ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا ۔ شیخ بتاتے ہیں کہ آئیندہ سال وہ تاجر حج کے موسم میں منی میں خیمہ زن تھا کہ آگ لگ گئی اور وہ تاجر جل کر کوئلہ ہوگیا اور راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔

فأتقوا دعوة المظلوم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے