ترتیب وپیشکش: ڈاکٹر عبد الغنی القوفی

عالمِ اسلام میں شاید ہی کوئی ایسا اجتماعی عمل ہو جو حرمین شریفین کی روحانی فضا میں ادا ہونے والے حج جیسا اتحاد، مساوات اور تزکیۂ نفس عطا کرتا ہو۔ فلسطینی عوام کی متواتر آزمائشوں نے اس مقدّس سفر کو اُن کے لیے اکثر دسترس سے دور کر رکھا ہے، مگر سعودی عرب برسوں سے حجِّ فلسطین کو اپنی خصوصی توجہ کا محور بنائے ہوئے ہے۔ تازہ ترین مثال 19 مئی 2025ء کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی وہ شاہی ہدایت ہے جس کے تحت غزہ اور غربِ اردن کے شہداء، اسیران اور زخمیوں کے ایک ہزار قریبی رشتہ دار امسال 1446ھ کے حج میں مملکت کے مہمان ہوں گے۔ یہ اعلان نہ صرف زخمی دلوں پر مرہم رکھتا ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ بیت اللہ کے وارثوں نے اپنے دروازے مظلومینِ فلسطین پر ہمیشہ وا رکھے ہیں۔

ماضی سے آج تک: حج کے باب میں خصوصی رعایات
سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے حج سہولتوں کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔ 2015ء سے اب تک ضیوف خادم الحرمین الشریفین پروگرام کے تحت ہر سال کم از کم ایک ہزار فلسطینی مہمان کی حیثیت سے فریضۂ حج ادا کرتے آ رہے ہیں۔ 2019ء کے اعلان نے پہلی مرتبہ غزہ کے شہداء کے اہلِ خانہ کو شامل کیا، جب کہ 2021ء میں وبا کے باوجود محدود کوٹے میں سے فلسطینی مہمانوں کو ترجیح دی گئی۔ کوٹے کے علاوہ بھی مملکت نے بارہا "فی سبیل اللہ ” اخراجات برداشت کرتے ہوئے خصوصی فلائٹس اور رہائش کا بندوبست کیا۔ شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کے بیان کے مطابق یہ اقدام ’’سعودی عوام کے دلوں میں فلسطین کے راسخ مقام‘‘ کا مظہر ہے۔

زمینی حقائق: فلسطینی کوٹہ میں اضافہ اور سفری سہولتیں:
عام ضابطے کے تحت حج کوٹہ ایک ہزار عازمین فی دس لاکھ مسلمان کی عالمی شرح پر طے ہوتا ہے۔ اگر فلسطینی آبادی کو دیکھا جائے تو ان کے حصے میں سالانہ لگ بھگ چار ہزار نشستیں آتی ہیں، لیکن سعودی حکومت نے گاہے یہ عدد دس ہزار تک بڑھایا اور قرعہ اندازی سے محروم رہ جانے والوں کو شاہی خرچ پر مدعو کیا۔ اس کے علاوہ خصوصی امیگریشن ڈیسک، طبی عملہ جس میں عربی اور عربی لہجے کی عبرانی بولنے والے رضاکار شامل ہوتے ہیں، اور غزہ کے لیے براہِ راست جدہ و مدینہ پروازیں وہ سہولتیں ہیں جو دیگر ممالک کے حاجیوں کو میسر نہیں ہوتیں۔

روحانی ضیافت سے بڑھ کر عملی اعانت:
یہ حج مہمان نوازی اُس وسیع تر انسانی و امدادی پالیسی کا حصہ ہے جس میں سعودی عرب نے پچھلے سات ماہ کے دوران غزہ کے لیے 185 ملین ڈالر کی ہنگامی نقد و طبی امداد روانہ کی، جب کہ سعودی عوامی مہم برائے امدادِ فلسطین نے  714 ملین ریال سے زیادہ عطیات جمع کیے۔ سفارتی محاذ پر مملکت نے قاہرہ اور بغداد کے عرب سربراہ اجلاسوں میں جنگ بندی، تعمیرِ نو فنڈ اور فلسطینی ریاست کے لیے مربوط لائحۂ عمل پیش کیا۔

فلسطینیوں کے لیے حج کی معنویت: دینی فریضہ اور نفسیاتی بحالی: غزہ میں بمباری اور محاصرے سے جڑے صدمے کے بعد مکہ و مدینہ کی سکون آور فضا فلسطینی زائرین کو نئی زندگی کا حوصلہ دیتی ہے۔

عالمی یکجہتی کی علامت: مسجد حرام کے سفید احراموں میں فلسطینی وجود عالمی میڈیا کے لیے خاموش مگر مؤثر پیغام ہوتا ہے کہ امت اپنے زخمی حصے کو نہیں بھولی۔

تعلیم وتربيت کا موقعہ: شاہی پروگرام کے تحت آنے والے مہمانوں کو حرمین کی زیارتوں کے علاوہ مدینہ میں خصوصی لیکچرز اور سیرت کورسز بھی کرائے جاتے ہیں، تاکہ وہ واپسی پر علمی سفیر بن سکیں۔

شکریے کے چند کلمات:
ہم اپنے تحریری سلام کے ذریعے شاہ سلمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، اور سعودی عوام کا شکر گزار دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ پھر عالمِ عرب کے دکھی دلوں میں اُمید جگائی۔ یہ محض مہمان نوازی نہیں؛ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو عبادت، خدمت اور سفارت، تینوں سطحوں پر فلسطینی کاز کو تقویت دیتی ہے۔

ہماری آواز:
میڈیا، دانشور اور دینی قیادت مل کر اس اقدام کو اجاگر کریں، تاکہ دیگر مسلم ممالک بھی اپنے کوٹے میں فلسطینیوں کے لیے نشستیں مختص کریں۔
بین الاقوامی ادارے حج سیزن کو ہیومینیٹیرین کوریڈور کی شکل دے کر غزہ کے مریضوں اور طلبہ کے لیے عارضی سفری سہولتیں پیدا کریں۔
امت کے مخیر افراد فلسطینی حجاج کے بعد کی زندگی میں تعمیرِ نو، تعلیم اور روزگار کے منصوبوں میں تعاون جاری رکھیں۔
حج کی عظیم عبادت کو فلسطینیوں کے لیے آسان بنانے کا سعودی جذبہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ خدمتِ حرمین کا منصب صرف مقامی نہیں، عالمی ذمہ داری ہے۔ دعا ہے کہ یہ مقدّس سفر مظلوموں کا حوصلہ، مسلمانوں کا اتحاد اور عالمی ضمیر کا امتحان بنے اور ایک دن بیت المقدس کی فضا بھی اہل توحید کے نعروں سے گونج اٹھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے