چٹگوپہ۔ 21؍مئی (قدیر لشکری): چٹگوپہ تعلقہ کے منااکھیلی کی مین روڈ کا کام تقریباً 4 سال سے مکمل نہیں ہورہاہے ۔یہاں کی عوام کا کہنا ہے منااکھیلی بس اسٹینڈ کے اندر پانی جمع ہوتا ہے اور منااکھیلی کی مین روڈپر بھی بارش کا پانی جمع ہونے سے پیدل مسافروں ،موٹر سائیکل سواروںاور دیگر کو دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ مین روڈ پر پوری طرح سے پانی جمع ہونے سے گلبرگہ، ہمناآباد، حیدرآباد، اور دیہات کے بسوں اور آٹو رکشہ کو چلانے کے لئے مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ پانی جمع ہونے سے یہاں پر سنگل بس کا گزرنا بھی مشکل ہے۔ بیدر جنوب ایم،ایل،اے ڈاکٹر شیلندر بیلداڑے اور منااکھیلی پنچایت کے ذمہ داروں کو چاہیے کے اس طرف فوری توجہ دیتے ہوے مین روڑ کے کام کو جلد مکمل کرانے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے کسی بھی حادثات کو روکا جاسکتا ہے کیونکہ ڈیوائڈر کے بائیں طرف پانی جمع ہونے سے منااکھیلی کو آنے اور جانے والی گاڑیاں ڈیوائڈر کی دائیں طرف سے گزر رہی ہیں ۔اس لئے تیز رفتار گاڑیوں سے حادثات ہوسکتے ہیں۔
منااکھیلی گرام پنچایت اور یہاں کے ایم،ایل،اے کو چاہیے کہ اس طرف توجہ دے اور کام کو جلد مکمل کرنے کی پہل کرے ۔واضح رہے کچھ دن قبل بیدر جنوب ایم،ایل،اے نے کروڑوں روپئے کی سڑکوں کا افتتاح کرنے کی بات کیاتھا لیکن منااکھیلی بس اسٹینڈ میں پانی پہلے کی طرح جمع ہونا عام بات ہے اور بیدر جنوب ایم ایل اے نے منااکھیلی بس اسٹینڈ ایک سال قبل دورہ کرتے ہوئے اسے درست کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن ابھی تک کوئی کام رکن اسمبلی کے طرف سے ہوتاہوادیکھا نہیں گیا اس لیئے اس طرف توجہ دیتے ہوئے اس کو جلد پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
