احمد حسین مظاہریؔ پرولیا 

قارئین! بعض لوگوں کو مقامات کی صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے حج کے ارکان میں غلطی کرتے ہیں،ذیل میں انہی الفاظ کو سپرد قرطاس کیا گیا ہے،ملاحظہ فرمائیں۔

احرام: کے معنی حرام کرنا۔ حاجی جس وقت حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت پختہ کر کے تلبیہ پڑھتا ہے تو اس پر چند حلال اور مباح چیز یں بھی احرام کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں اس لیے اس کو احرام کہتے ہیں او مجازاًان دو چاروں کو بھی احرام کہتے ہیں جن کو حاجی احرام کی حالت میں استعمال کرتاہے۔

استلام: حجر اسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا یا حجر اسود اور رکن یمانی کو صرف ہاتھ لگانا۔

اصطباع: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا۔

آفاقی: وہ شخص ہے جو میقات کی حدود سے باہر رہتا ہو جیسے ہندوستانی’ پاکستانی ’ مصری’ شامی’ عراقی اور ایرانی وغیرہ۔

ایام تشریق: نویں ذی الحجہ سے تیرہ ذی الحجہ تک جن ایام میں تکبیر تشریق پڑھی جاتی ہے۔

ایام نحر: دس ذی الحجہ سے بارہویں تک۔

افراد: صرف حج کا احرام باندھنا اور صرف حج کے افعال کرنا۔

اشعار: ہدی یعنی قربانی کے جانور کی شناخت کے لیے اس کے داہنے شانے پر اتناضفیف ساز خم کرنا جس سے صرف کھال کٹے اور گوشت نہ کٹے۔

بیت اللہ: یعنی کعبہ یہ مکہ معظمہ میں مسجد حرام کے بیچ میں ایک مقدس مکان اور دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ ہے اس کو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بھی پہلے بنایا تھا۔ پھر مہندم ہوجانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام نے اس کو تعمیر کیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے پھر قریش نے۔ پھر عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پھر عبد الملک نے اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں کچھ اصلاح اور مرمت ہوتی رہی ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور بڑا بابرکت اور مقدس مقام ہے۔

بطن عرنہ: عرفات کے قریب ایک جنگل ہے اب میدان ہے جس میں و قوف درست نہیں ہے کیونکہ یہ حد عرفات سے خارج ہے۔

تجلیل: قربانی کے جانور پر جھول ڈالنا۔

تسبیح: سبحان اللہ کہنا۔

تقلید: قربانی کے گلے میں جوتی یا درخت وغیرہ کی چھال رسی وغیرہ میں ہاربنا کر ڈالنا۔

تکبیر: اللہ اکبر کہنا۔

تمتع: حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کرنا پھر اسی سال میں حج کا احرام باندھ کر حج کرنا۔

تلبیہ: لبیک پوری پڑھنا۔

تہلیل: لا الہ الا اللہ پڑھنا۔

جمرات یا جمار: منی میں تین مقام ہیں جن پر قد آدم ستون بنے ہوئے ہیں یہاں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ان میں سے جو مسجد خیف کے قریب مشرق کی طرف ہے اس کو جمرۃ الاولی کہتے ہیں اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف بیچ والے کو جمرۃ الوسطی اور اس کے بعد والے کو جمرۃ الکبری اور جمرۃ القبۃ اور جمرۃ الاخری کہتے ہیں۔

جحفہ: رابغ کے قریب مکہ مکرمہ سے تین منزل پر ایک مقام ہے شام سے آنے والوں کی میقات ہے۔

جنت المعلی : مکہ مکرمہ کا قبرستان

جبل شبیر: منی میں ایک پہاڑ ہے۔

جبل رحمت: عرفات میں ایک پہاڑ ہے۔

جبل قزح: مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے۔

حج: مخصوص زمانہ میں احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور وقوف عرفہ وغیرہ افعال حج کرنا۔حجر اسود: سیاہ پتھر۔ یہ جنت کا پتھر ہے جنت سے آنے کے وقت دودھ کی مانند سفید تھا: لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کر دیا۔ یہ بیت اللہ کے مشرقی جنوبی گوشہ میں قد آدم کے قریب اونچائی پر بیت اللہ کی دیوار میں گڑا ہوا ہے اس کے چاروں طرف چاندی کا حلقہ چڑھا ہواہے۔

حرم: مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک زمین حرم کہلاتی ہے۔ اس کے حدود پر نشانات لگے ہوئے ہیں اس میں شکار کھیلنا۔ درخت کاٹنا۔ گھاس جانور کو چرانا حرام ہے۔

حرمی: وہ شخص جو زمین حرم میں رہتا ہے خواہ مکہ مکرمہ میں رہتا ہو یا مکہ مکرمہ سے باہر حدود حرم ہیں۔

حل: حرم کے چاروں (۱) طرف میقات تک جو زمین ہے اس کو حل کہتے ہے کیونکہ اس میں وہ چیزیں حلال ہیں جو حرم کے اندر حرام تھیں۔

حلی: زمین حل کا رہنے والا۔

حلق: سرک ے بال منڈانا۔

حطیم: بیت اللہ شمالی جانب بیت اللہ سے متصل قد آدم دیوار سے کچھ حصہ زمین کا گھرا ہوا ہے اس کو حطیم اورحجر اور خطیرہ بھی کہتے ہیں۔

جناب رسول اللہ ﷺ کو نبوت ملنے سے ذرا پہلے جب خانہ کعبہ کو قریش نے تعمیر کرنا چاہا تو سب نے یہ اتفاق کیا کہ حلال کمائی کا مال اس میں صرف کیا جائے لیکن سرمایہ کم تھا اس وجہ سے شمال کی جانب اصلی قدیم بیت اللہ میں سے تقریباً چھ گز رعی جگہ چھوڑ دی۔ اس چھٹی ہوئی جگہ کو حطیم کہتے ہیں۔ اصل حطیم چھ گز شرعی کے قریب ہے اب کچھ احاطہ زائد بنا ہوا ہے۔

دم: احرام کی حالت میں بعض ممنوع افعال کرنے سے بکری وغیرہ ذبح کرنی واجب ہوتی ہے اس کو دم کہتے ہیں۔

ذوالحلیفہ: یہ ایک جگہ کانام ہے۔ مدینہ منورہ سے تقریباً چھ میل پر واقع ہے۔ مدینہ منورہ کی طرف سے مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے میقات ہے اسے آج کل بیر علی کہتے ہیں۔

ذات عرق: ایک مقام کانام ہے جو آج کل ویران ہوگیا مکہ مکرمہ سے تقریباً تین روز کی مسافت پ رہے عراق سے مکہ مکرمہ آنے والوں کی میقات ہے۔

رکن یمانی: بیت اللہ کے جنوبی مغربی گوشہ کو کہتے ہیں چونکہ یہ یمن کی جانب ہے۔

رکن عراقی: بیت اللہ کا شمالی مشرقی گوشہ جو عراق کی طرف ہے۔

رکن شامی: بیت اللہ کا جو گوشہ شام کی طرف ہے یعنی مغربی شمالی گوشہ۔

رمل: طوف کے پہلے تین پھیروں میں اکٹر کر شانہ ہلانے ہوئے۔ قریب قریب قدم رکھ کر ذرا تیزی سے چلنا۔

رمی: کنکریاں پھینکنا۔

زمزم: مسجد حرام میں بیت اللہ کے قریب ایک مشہور چشمہ ہے جواب کنوئیں کی شکل میں ہے۔ جس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اپنے نبی حضرت اسمعیل علیہ السلام اوران کی والدہ کے لیے جاری کیا تھا۔

سعی: صفا اور مروہ کے درمیان مخصوص طریق سے سات چکر لگانا۔

شوط: ایک چکر بیت اللہ کے چاروں طرف لگانا۔

صفا: بیت اللہ کے قریب جنوبی طرف ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے سعی شروع کی جاتی ہیں۔

ضب: ایک پہاڑی کانام ہے جو مسجد خیف سے ملی ہوئی ہے اور منیٰ میں ہے۔

طواف: بیت اللہ کے چاروں طرف سات :چکر مخصوص طریق سے لگانے۔

عمرہ: حل یا میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اورصفا ومرہ کی سعی کرنا۔

عرفات یا عرفہ: مکہ مکرمہ سے تقریباً ۹ میل مشرق کی طرف ایک میدان ہے۔ جہاں پر حاجی لوگ نویں ذی الحجہ کو ٹھہرتے ہیں۔

قرآن: حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ کر پہلے عمرہ کرنا پھر حج کرنا۔

قارن: قران کرنے والا۔

قرن: مکہ مکرمہ سے تقریباً ۴۲ میل پر ایک پہاڑ ہے نجدیمن اور نجد حجاز او رنجد تہامہ سے سے آنے والوں کی میقات ہے۔

قصر: بال کتروانا۔

محرم: احرام باندھے والا۔

مفرد: فقط حج کرنے والا۔

میقات: وہ مقام جہاں سے مکہ مکرمہ جانے والے کے لیے احرام باندھنا واجب ہے۔

مطاف: طواف کرنے کی جگہ جو بیت اللہ کے چاروں طرف ہے اوراس میں سنگ مر مر لگا ہواہے۔

مقام ابراہیم: جنتی پتھر ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر کھڑے ہو کر بیت اللہ کو بنایا تھا۔ مطاف کے مشرقی کنارے پر منبر اور زمزم کے درمیان اب ایک جالی دار "قبہ”میں رکھا ہوا ہے۔

ملتزم: حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان کی دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔

منیٰ: مکہ معظمہ سے تین میل مشرق کی طرف ایک گاؤں ہے جہاں پر قربانی اور رمی کی جاتی ہے یہ حرم میں داخل ہے۔

مسجد حیف: منی کی بڑی مسجد کانام ہے جو منیٰ کی شمالی جانب میں پہاڑ(۱) سے متصل ہے۔

سجد نمرہ: عرفات کے کنارے پر ایک مسجدہے۔

مدعی: دعا مانگنے کی جگہ مراد اس سے مسجد حرام اور مکہ مکرمہ کے قبرستان کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں دعا مانگنا مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت مستحب ہے۔

مزدلفہ: منیٰ اور عرفات کے درمیان ایک میدان ہے جو منیٰ سے تین میل مشرق کی طرف ہے۔

محسر: مزدلفہ سے ملا ہوا ایک میدان ہے جہاں سے گز رتے وقت دوڑ کر نکلتے ہیں اس جگہ اصحابِ فیل پر جنہوں نے بیت اللہ پڑچڑھائی کی تھی عذاب نازل ہوا تھا۔

مروہ: بیت اللہ کے مشرقی شمالی گوشہ کے قریب ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس پر سعی ختم ہوتی ہے۔

میلین اخضرین: صفاءاور مروہ کے درمیان مسجد حرام کی دیوار میں دو سبز میل لگے ہوئے ہیں، جن کے درمیان سعی کرنے والے دوڑ کر چلتے ہیں۔

مکی: مکہ مکرمہ کا رہنے والا۔

موقف: ٹھیرنے کی جگہ حج کے افعال میں اس سے مراد میدانِ عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہر نے کی جگہ ہوتی ہے۔

میقاتی: میقات کا رہنے والا۔

وقوف: کے معنی ٹھہرنا، اور احکامِ حج میں اس سے مراد میدان عرفات یا مزدلفہ میں خاص خاص وقت میں ٹھیرنا۔

ہدی: جو جانور حاجی حرم میں قربانی کرنے کے لیے ساتھ لے جاتا ہے۔

یومِ عرفہ: نویں ذی الحجہ جس روز حج ہوتاہے۔ اور حاجی لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔

یوم الترویہ: آٹھویں ذی الحجہ کو کہتے ہیں۔

یلملم: مکہ مکرمہ سے جنوب کی طرف دو منزل پر ایک پہاڑ ہے اس کو آج کل سعدیہ بھی کہتے ہیں یہ یمن

اور ہندوستان اور پاکستان سے آنے والوں کی میقات ہے۔

بارِ الہ سے دعا گو ہوں کہ حق جل مجدہ اپنے بیکراں فضل و احسان کے صدقے میں صحیح طور پر حج کے ارکان کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (معلم الحجاج)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے