مسلمان ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں
عبدالغفارصدیقی
رسول، پیغمبر اور نبی کا مقام کسی بھی دین اور مذہب میں خدا کے بعد سب سے بلند ہوتا ہے ۔اگر ایسا نہیں ہے ،یعنی کوئی قوم ایسا نہیں سمجھتی تو پھر اس کا ایمان ،عقیدہ اور آستھا بے معنیٰ ہے ۔اس لیے کہ رسول ہی وہ ذات ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات ،اپنی مرضیات اور اپنا کلام اپنے بندوں تک پہنچاتا ہے ۔رسول بندوں اور اللہ کے درمیان کی وہ کڑی ہے ،جس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوسکتی ۔البتہ کوئی رسول بذات خود معبود نہیں ہوتا ،وہ بھی اللہ تعالیٰ کا غلام اور بندہ ہوتا ہے ،اسے بھی ان احکامات کی پابندی لازماًکرنی ہوتی ہے جن کی طرف وہ بندگان خدا کو دعوت دے رہا ہے ۔دنیا میں جتنے رسول آئے ،جس خطے میں آئے اور جس زبان میں آئے سب کی یہی حیثیت تھی اور رہے گی ۔یہ الگ بات ہے کہ رسولوں کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے ان کی شان میں الوہیت کے پہلو تلاش کیے اور ان کو معبود بناڈالا اور خود انھیں کی پوجا اور پرستش کرنے لگے ۔
کسی ذات کو رسول ماننا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔آپ کسی کو رسول تب ہی مانتے ہیں جب اس کی شخصیت میں کچھ غیر معمولی علامات اور صلاحیتیں دیکھتے ہیں ،جب آپ اس کو بات کا سچا اور معاملات کا کھرا پاتے ہیں ،جب آپ اس کے پیغام کو عقل و خرد کی کسوٹی پر پوراپاتے ہیں ،جب آپ اس کو اپنا اور انسانیت کا بے لوث ہمدرد اور بہی خواہ سمجھتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ایسی نشانیاں دیکھتے ہیں جو اس کے رسول برحق ہونے کی شاہد ہوتی ہیں ۔ان صفات کا حامل انسان پہلے آپ کے دل ا ور دماغ کو اپیل کرتا ہے ،وہ اپنے متعلق سوچنے پر آپ کو مجبور کرتا ہے ،پھر آپ کو وہ اچھا لگنے لگتا ہے اور آپ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔یہی جذبہ محبت آپ کو اس پر ایمان لانے کے لیے مہمیز کرتا ہے ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیغام کی سچائی اور پیغمبر کا حسن اخلاق آپ کے ایمان لانے کا سبب ہوتا ہے اور ایمان آپ کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے ۔
رسول سے محبت اور ایمان دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔کوئی شخص رسول پر ایمان کا دعویٰ کرے اور ان سے محبت کا انکار کرے تو وہ اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی ذات کو اللہ کا رسول بھی تسلیم کریں اور پھر آپ کو اس سے محبت نہ ہو ۔حالانکہ ایسا ممکن ہے کہ آپ کو محبت ہو اور ایمان نہ ہو ۔کتنے ہی غیر مسلم ہیں جو حضور اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے ۔اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں میں حضرت ابوطالب کا مقام بہت بلند ہے ۔انھوں نے اپنے جیتے جی آپؐ پر آنچ بھی آنا گوارا نہ کیا لیکن وہ ایمان نہیں لائے ۔ان کی محبت محض چچا کی محبت اور مرحوم بھائی کی نشانی بن کر رہ گئی ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی سے عام انسان کا رشتہ محبت صرف تسلیم نبوت پر منحصر ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ کے رسولوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں انسانوں سے خیرخواہی کی صفت بہت نمایاں ہے ۔ہر رسول اپنی قوم کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہے ،کوئی معاوضہ یا اجرت لیے بغیرجہنم سے بچانے کا جذبہ اور تڑپ انسانیت سے محبت کی معراج ہے ۔ قرآن مجید میںہُود علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیاہے :’’میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ اور امانت دار ہوں۔‘‘(الأعراف:68)یہی بات حضرت صالح علیہ السلام نے فرمائی :۔’’ اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی، لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔‘‘ (الأعراف:79)یہی جذبہ حضرت نوح ؑ کے اس بیان میں نظر آتا ہے :۔’’انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔‘‘ٍ (الأعراف:59)آخری رسول جناب محمد مصطفیٰ ﷺکے بارے میں تو خود اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا:۔’’یقیناً تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر گراں گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بڑے خواہش مند ہیں، ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔‘‘(التوبہ:128)یہ جذبہ خیرخواہی اورحب انسانیت اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گیا جب یہ منظر سامنے آیا:۔’’اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے‘‘(الشعرا۔3)’’شاید آپؐ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے اگر وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں۔‘‘(الکہف۔6)اسی بنا پر قرآن مجید اہل ایمان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ذات نبوی ؐ ان کے نزدیک اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہونا چاہئے :۔’’’’نبی (ﷺ) ایمان والوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘(الاحزاب۔6)‘‘یہی بات نبی ؐ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمائی :۔”لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ”(بخاری، مسلم)’’ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک میںاس کے نزدیک اس کے باپ ،اس کی اولاد اور تمام لوگوں کے مقابلہ زیادہ محبوب نہ ہوجائوں۔‘‘یعنی دنیا میں تمام رشتوں سے زیادہ آپ سے رشتہ مضبوط نہ ہوجائے یہاں تک جان سے بھی زیادہ ۔
نبی اکرم ﷺ کے احسانات کے مقابلہ میں ہماری جان کی قیمت ہی کیا ہے ؟ان کی وجہ سے ہمیں خدا ملا ،ان کی وجہ سے ہمیں سیدھا راستا میسر آیا ،ان سے ہم نے زندگی کا طور طریقہ سکیھا ،انھوں نے ہمیں ظلمات سے نکال کر اجالے سے واقف کرایا ۔ان کی بدولت ہم شرک اور کفر کے بجائے توحیدو اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے ۔بالفاظ دگرہماری جان ان کی عنایتوں کی مرہون ہے ۔اس لیے ایک جان کیا سو جان بھی ان پر قربان ہیں ۔
نبی اکرم ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کا ادب سے نام لیں ،ان پر درود بھیجیں، جہاں ان کا پسینہ گرے ہم خون بہائیں ،جہاں ان کا ذکر ہو ،ہم پر سکوت طاری ہوجائے ،جہاں ان کا حکم ہو گردنیں جھک جائیں۔ان کی بات سے بڑی کسی کی بات نہ ہو ،ان کی آواز سے اونچی کوئی آواز نہ ہو۔اہل ایمان کو اسی کا حکم دیا گیاہے :۔
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم۔‘‘(الحجرات۔1 تا 3)
اللہ کا شکر ہے کہ مسلمان نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں ۔ان کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ان کے لیے بخوشی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے کل بھی تیار تھے ،اور آج بھی تیار ہیں ۔پوری دنیا کی تاریخ کو چھوڑیے خود برصغیر کے مسلمانوں نے گستاخان رسول ؐ کو برداشت نہیں کیا ۔مغل دور میں خصوصاً اورنگ زیب عالمگیرؒ کے عہد میں گستاخیِ رسول ﷺ ناقابلِ معافی جرم تھا اور فتاویٰ عالمگیری میں اس کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں۔ اسی طرح برصغیر کے علماء اور صوفیاء نے حرمتِ رسول ﷺ کے تحفظ کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے بعد کے علماء نے اپنی تحریروں اور خطبات میں واضح کیا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ایمان سے محرومی کا سبب ہے، اور عوام کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کو بیدار رکھنے میں ان کی کاوشیں نمایاں رہیں۔
انگریزوں کے دور میں جب کچھ ہندو اور عیسائی مصنفین نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ تحریریں شائع کیں تو پورا برصغیر احتجاج میں کھڑا ہوا۔ سب سے نمایاں واقعہ لاہور کے پبلشر راجپال کا ہے، جس کے خلاف نوجوان ’’غازی علم الدین شہیدؒ ‘‘نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے قتل کر دیا۔ ان کی شہادت نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں حرمتِ رسول ﷺ کی تحریک کو زندہ کر دیا۔ علامہ اقبالؒ نے ان کی قبر پر حاضر ہو کر فرمایا: ”یہ نوجوان ہم سب پر بازی لے گیا۔” ۔ دہلی میںشاتم رسول شردھا نند کا قتل ایک عاشق رسول کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس کو ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔
کان پور پولس کے ذریعہ آئی لو محمد لکھنے پر ایف آئی آر کا درج ہونا قابل مذمت واقعہ ہے ۔آخر اس کے لکھنے سے کسی کو کیا تکلیف ہے ؟کیا مسلمان اب اپنے نبی سے محبت کا اظہار بھی نہیںکرسکتے ؟کیا اس کے لیے کسی اجازت نامہ کی ضرورت ہوگی ؟کانپور کے نوجوانوں نے بخوشی خود کو پولس کے حوالہ کرکے ایک بار پھر اپنی جاں نثاری کا ثبوت فراہم کیا ہے ۔
دنیا کے مسلمان اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمان ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اظہار و اعلان بھارتی آئین کے مطابق جرم ہے تو ہم اس کی ہرسزا بھگتنے کو تیار ہیں ۔ضرورت ہے کہ مسلمان رسول ؐ سے محبت کا اظہار قول اور عمل دونوں طرح سے کریں ۔جہاں وہ لبیک یارسول ؐ کے نعرے لگائیں ،جہاں وہ آئی لو محمد کے پوسٹر لگائیں ،یا اس کاہیش ٹیگ چلائیں ،جہاں وہ نعت کی مجلسیں ،میلاد کی محفلیں اورسیرت پر کانفرنسیں منعقد کریں وہیں وہ نبی ﷺ کے احکامات اور شریعت اسلامی پر عمل پیرا ہوں ،وہ دنیا کو بتائیں کہ حضرت محمد ﷺ صرف ہمارے ہی رسول نہیں ہیں بلکہ وہ سارے جگ کے رسول ہیں ،وہ صرف ہمارے ہی محسن نہیںہیں بلکہ ساری انسانیت کے محسن ہیں ،وہ صرف مسلمانوں پر ہی رحمت نہیں ہیں بلکہ رحمۃ اللعٰلمین ہیں ۔
یہی اک چیز بخشش کی مری فرد خطا میں ہے
شمار اپنا غلامان محمد مصطفیٰ میں ہے
