صدر انجمن اسلام اور ماہر تعلیم ڈاکٹر ظہیر اسحق قاضی سے خصوصی گفتگو

ممبئی،(26 فروری): مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اگر کسی مسلم تعلیمی ادارے کا نام احترام اور اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے تو وہ ہے،انجمن اسلام فورٹ ،ممبئی،یہاں پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے ادارے، پیشہ ورانہ کورسز، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب اور ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیمی رہنمائی،یہ سب اس ادارے کی پہچان ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس ادارے نے جو غیر معمولی ترقی کی ہے، اس کا بڑا سہرا اس کی فعال قیادت، خصوصاً صدر ڈاکٹر ظہیر اسحق قاضی کے سر جاتا ہے۔
ماہِ رمضان کے موقع پر ڈاکٹر ظہیر قاضی سے ایک تفصیلی نشست کے دوران انہوں نے رمضان کی اپنی مصروفیات، انجمن اسلام کی تعلیمی خدمات، ملت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
ڈاکٹر قاضی نے گفتگو کا آغاز ایک دلچسپ نکتے سے کیا کہ ان کے مطابق عام تاثر یہ ہے کہ رمضان میں کام کی رفتار کم ہو جاتی ہے، لیکن ان کا ذاتی تجربہ اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“پورے سال کی جو مصروفیت ہے وہ رمضان میں کم نہیں ہوتی، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ توانائی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کھانے پینے میں جو وقت عام دنوں میں صرف ہوتا ہے، وہ بچ جاتا ہے۔ نہ ناشتہ، نہ دوپہر کا کھانا، نہ چائے کا وقفہ—وقت زیادہ منظم ہو جاتا ہے اور کام میں برکت بھی محسوس ہوتی ہے۔”
وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ مہمان نوازی کا دباؤ بھی نسبتاً کم ہو جاتا ہے، اس لیے ملاقاتیں مختصر اور بامقصد رہتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود رمضان سماجی روابط کا بھی مہینہ ہے۔یہ عبادت کا مہینہ ہے، افطار کی دعوتیں، سحری کی محفلیں اور مختلف تنظیمی ذمہ داریاں—یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ظہیرقاضی کے نزدیک رمضان صرف عبادت کا نہیں بلکہ اجتماعی احساسِ ذمہ داری کا مہینہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انجمن اسلام کے ذمہ داران کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ جمع کی جائے، کیونکہ کووِڈ کے بعد معاشی حالات نے متوسط اور نچلے طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
“بہت سے ایسے لوگ ہیں جو پہلے اچھی ملازمتوں پر تھے، مگر آج بے روزگار ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو باعزت طریقے سے زندگی گزار رہے تھے، لیکن اب زکوٰۃ کے مستحق بن گئے ہیں۔ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے—خاموشی سے، باوقار انداز میں۔”
انجمن اسلام اس حوالے سے نہ صرف طلبہ کی فیس میں رعایت دیتی ہے بلکہ مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے بھی منظم نظام رکھتی ہے۔ ڈاکٹر قاضی کے مطابق ادارے کی ذمہ داری صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ اور ان کے خاندانوں کے حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
بچپن کی رمضان یادیں ان کے ذہن میں آج بھی پیوست ہیں،
بچپن میں رمضان کیسے منایاجاتاتھا،اس کا ذکر آتے ہی ڈاکٹر قاضی کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وہ اپنے بچپن کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کی رہائش گاہ کے علاقے میں ایک بزرگ آیا کرتے تھے جو سحری کے وقت نعت پڑھتے ہوئے لوگوں کو جگاتے تھے۔
“ہم سب ان کا انتظار کرتے تھے۔ وہ ہماری سحری کا الارم تھے۔ عید کے دن ہم سب ان سے ملتے، انہیں عیدی دیتے اور وہ خوشی خوشی اپنے گاؤں لوٹ جاتے۔”
وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اب وہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ موبائل فون اور جدید سہولیات نے انسانی رابطے کو کم کر دیا ہے۔ “پہلے جو روحانیت اور اجتماعی احساس تھا، وہ اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے بدل گیا ہے۔”
ڈاکٹر ظہیرقاضی اعتراف کرتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی،گزشتہ پچیس تیس برسوں میں مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال میں جو تبدیلی آئی ہے، اس پر ڈاکٹر قاضی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک بھر میں مسلم تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بچوں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
ان کے مطابق "جب میں ملک اور بیرون سفر کرتا ہوں اور کسی شہر میں کوئی نوجوان اعلیٰ عہدے پر نظر آتا ہے، تو خوشی ہوتی ہے کہ یہ وہی نسل ہے جس نے بیس برس پہلے محنت شروع کی تھی۔ اب اس کا پھل سامنے آ رہا ہے۔”
وہ خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غریب طبقے کے بچوں میں آگے بڑھنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ “اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ بہت سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے والے نوجوان متوسط یا غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔”
انجمن اسلام نے  مستقبل کے لیے متعدد منصوبوں بنائے ہیں ،لیکن سب اول اور ترجیح بنیاد پرڈاکٹر ظہیر قاضی کا ایک بڑا خواب میڈیکل کالج کا قیام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انجمن اسلام کے پاس مختلف شعبوں کے ادارے موجود ہیں، لیکن میڈیکل کالج کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
“ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا میڈیکل کالج قائم ہو جہاں سے نہ صرف ڈاکٹر نکلیں بلکہ وہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہوں۔ صحت کا شعبہ ملت کے لیے نہایت اہم ہے، اور ہمیں اس میدان میں بھی مضبوطی سے قدم رکھنا ہوگا۔”
اس کے ساتھ ساتھ وہ “ہولسٹک اپروچ” کی بات کرتے ہیں۔ انجمن اسلام نے ایک منفرد نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت ہر استاد کو مخصوص طلبہ کی نگرانی سونپی گئی ہے۔ اساتذہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک بار طلبہ کے گھروں کا دورہ کریں تاکہ ان کے خاندانی حالات سے واقفیت حاصل ہو سکے۔
“کبھی پتہ چلتا ہے کہ بچے کے والد نہیں ہیں، یا آمدنی بہت کم ہے، یا گھر میں بیماری ہے۔ ایسے میں ادارے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچے کو سہارا دے۔”
اسی طرح بعض ماؤں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بھی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، تاکہ پورا خاندان تعلیمی شعور سے آراستہ ہو۔
ڈاکٹر قاضی واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ ملت کو درپیش بے شمار مسائل کا بنیادی حل تعلیم ہے۔ “اگر کوئی ایک راستہ ہے جو ہمیں ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے تو وہ تعلیم ہے—معیاری، بامقصد اور کردار ساز تعلیم۔”
وہ والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیٹیوں کی تعلیم میں خوش آئند پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بیٹوں کے معاملے میں غفلت برتی جا رہی ہے۔ کئی گھروں میں لڑکیوں کی کارکردگی لڑکوں سے بہتر ہے۔ اس کا سماجی اثر یہ ہو رہا ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے ہم پلہ رشتے تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
انہوں نے وارننگ دی کہ "یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہمیں بیٹوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی توجہ دینی ہوگی جتنی بیٹیوں پر دیتے ہیں۔ لاڈ پیار میں انہیں بے راہ نہ چھوڑیں۔”
وہ ایک مثال دیتے ہیں کہ بعض والدین بیٹے کو انگریزی میڈیم اسکول میں داخل کرانے کے لیے قرض لے لیتے ہیں، لیکن بیٹی کو اردو میڈیم میں بھیج دیتے ہیں۔ بعد میں نتائج اس کے برعکس نکلتے ہیں—بیٹی نمایاں کامیابی حاصل کرتی ہے اور بیٹا پیچھے رہ جاتا ہے۔
ڈاکٹر قاضی کے نزدیک رمضان محض انفرادی عبادت کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں انسان اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنی ترجیحات درست کرتا ہے اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کا عزم کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انجمن اسلام کا کردار صرف ایک تعلیمی ادارے کا نہیں بلکہ ملت کے ایک خادم کا ہے۔ “ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو نہ صرف ڈگری دیں بلکہ انہیں اخلاق، نظم و ضبط اور سماجی شعور سے بھی آراستہ کریں۔”
 ڈاکٹر ظہیر قاضی کا پیغام نہایت سادہ مگر جامع ہے:
“تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ بچوں کی تربیت پر توجہ دیں۔ رمضان کی روح کو سال بھر زندہ رکھیں۔ اور یاد رکھیں کہ قوموں کی تقدیر اسکولوں اور کالجوں میں لکھی جاتی ہے۔”
ڈاکٹر قاضی کی باتوں سے ایک ایسے قائد کی تصویر سامنے آتی ہے جو روایت اور جدت دونوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ جس کے دل میں ملت کا درد بھی ہے اور مستقبل کا واضح خاکہ بھی۔ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں ان کی گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر عزم، دیانت اور وژن ہو تو تعلیمی ادارے محض عمارتیں نہیں رہتے—وہ قوموں کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے