میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

مراجہاں فروخت کردیاگیا
یہ سائباں فروخت کردیاگیا

یقیں ،گماں فروخت کردیاگیا
ترانشاں فروخت کردیاگیا

حسیں بہت تھا ، بھائیوں کابھائی تھا
وہ اک جواں فروخت کردیاگیا

ہوائیں ڈرتے ڈرتے چلتی ہیں یہاں
یہ آسماں فروخت کردیاگیا

وہ بننے اور سنورنے کاتھاعادی یوں
تو کہکشاں فروخت کردیاگیا

وہی ہوا کہ بیٹی کی تھی شادی اور
وہ اک مکاں فروخت کردیاگیا

کوئی تو پوچھے میرؔجان لینا ہے
ہمیں کہاں فروخت کردیاگیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے