بیدر۔ 28/اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب رحیم خان بیدر سے6مرتبہ انتخاب میں حصہ لے کر 4دفعہ اسمبلی انتخاب جیت چکے ہیں۔ اور دوسری مرتبہ دووزارتوں (بلدیہ اورحج) کے وزیربنائے گئے ہیں۔ دیکھاجائے تو انہیں مزید وزارتیں ملنی چاہیے۔ کیوں کہ دونوں وزارتوں کی دیکھ بھال میں وہ اب تک کامیاب رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کچھ شکایتوں سے قطع نظر پارٹی اور سیاست کے نچلے اور غیرضروری معاملات میں اُن کانام نہیں آسکاہے۔ ایسی رپورٹ بھی نہیں ہے جن کے بارے میں کہاجاسکے کہ جناب رحیم خان وزیر ہوتے ہوئے عوام کو ستارہے ہیں یا ہندومسلم تنازعات کھڑا کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ وزارت کے ری شیفل ہونے کے دوران انہیں تیسری زائد وزارت بھی دی جاسکتی ہے۔ اورکیا عجب کہ انھیں وزیراوقاف بھی بنایاجائے۔
گذشتہ دِنوں داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ کو لے کر جس طرح کاماحول مسلم قائدین کے خلاف جن بھی طبقات کے قائدین نے بنایا بنایا، تاہم اس طرح کے متنازعہ معاملات سیاست میں آکسیجن کاکام کرتے ہیں۔ سیاست وہ ماں ہے جوہمیشہ درد میں مبتلا رہتی ہے مگر ہمیشہ دردِ زہ ہو یہ ممکن نہیں۔ اس دفعہ جو کچھ کانگریس کے مسلمان قائدین کے خلاف ہواوہ وقت کے ساتھ دب جائے گا۔ پارٹی ایکشن واپس لئے جانے کی قوی امید ہے۔کیوں کہ کانگریس پارٹی کرناٹک میں علمائے کرام کے خلاف جانے کارِسک نہیں لے سکتی۔
ہماراموضوع رحیم خان کووزارت سے نکالنے یا ڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی دئے جانے سے متعلق ہے۔ یہ بات بیدر اسمبلی حلقہ اور بیدر ضلع میں تیزی سے پھیل رہی یاپھیلائی جارہی ہے کہ وزیر رحیم خان وزرات سے ہاتھ دھوسکتے ہیں۔ دوسرے حقائق یہ ہیں کہ جب کبھی وزارت میں تبدیلیوں کی بات آئی ہے ایک مخصوص طبقہ ان کو وزارت سے باہر دیکھنے کاخواہشمند رہاہے۔ اسی کے بین بین بیدر ضلع میں رحیم خان کی مقبولیت میں اضافہ بھی دیکھنے کوملاہے۔ کانگریس کے دشمن خیمہ میں بھی ان کے چاہنے والے مل جاتے ہیں۔ کسی مسلمان لیڈر کی اس قدر مقبولیت سابق میں شاید ہی رہی ہو۔ اس معاملے میں وہ گرپا دپا ناگمارپلی کی جگہ لے چکے ہیں۔ یعنی ہر پارٹی میں رحیم خان کے چاہنے والے موجود ہیں۔ کیوں کہ رحیم خان آسانی سے دستیاب ہونے والے وزیر ہیں۔ اور تمام طبقات میں یکساں طورپر مقبول ہیں۔ پارٹی کے بجائے اپنے بل بوتے پر کامیاب ہونا ان کامزاج اورطریق کار رہاہے۔ ایسے قائدین سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا۔
دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی پر نگاہ رکھنے کی بات ہے۔ رحیم خان صاحب کاسیاست کا شعور ی سفر وزارت پر آکر ختم ہوچکاہے۔ انھوں نے اس سے آگے نہ سوچا اور نہ ہی کبھی اس سے آگے کی بات کی لیکن ان کے چاہنے والے انہیں ڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور کیاعجب کہ حالات کچھ ایسے بن جائیں کہ وزارتوں کی تبدیلی کے حوالے سے رحیم خان کو ڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی مل جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایک بے ضرر وزیر ہیں۔ ان کی جانب سے کسی بھی طبقہ کو کبھی الجھن یاپریشانی نہیں رہی (چند ایک واقعات کے حوالے سے شکایات پید اہونا فطری بات ہے)۔ کام ہوں یا نہ ہوں لیکن عزت دینا اور عاجزی سے رہنا رحیم خان کے مزاج کاحصہ رہاہے۔ ہر انسان عزت چاہتاہے اورہر کسی کو عزت دینا رحیم خان کو بخوبی آتاہے۔اب دیکھنا یہ ہے، ڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی رحیم خان کے حصہ میں کب آتی ہے؟ان کے چاہنے والوں کی جانب سے انہیں پیشگی مبارک باد۔
