معزز جسٹس ایس۔وشواجیت شیٹی نے تعلیمی اداروں کو اربوں روپئے کا ٹیکس دینے سے بچالیا
بیدر۔ 29؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری کی خصوصی رپورٹ): ہائی کورٹ آف کرناٹک کے کلبرگی بنچ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی عمارتیں میونسپل پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔ عدالت نے بیدر کے ایک تعلیمی ادارے کو جاری کردہ ٹیکس نوٹس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ادارے کے حق میں فیصلہ سنایا۔
کیس کا پس منظر:۔تفصیلات کے مطابق، بیدر کی ستیہ نکیتن ایجوکیشن سوسائٹی نے ٹاؤن میونسپل کونسل (TMC) بھالکی کی جانب سے جاری کردہ پراپرٹی ٹیکس نوٹس کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ سوسائٹی کا موقف تھا کہ وہ ایک تعلیمی ادارہ ہے، اس لیے قانون کے مطابق اس سے ٹیکس کا مطالبہ کرنا غیر قانونی ہے۔
عدالتی مشاہدات اور فیصلہ:۔کیس کی سماعت معزز جسٹس ایس۔ وشواجیت شیٹی کی عدالت میں ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل جناب ایڈوکیٹ جے راج بکا نے کرناٹک میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1976 کی دفعہ 110(1)(i) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے اور سابقہ عدالتی فیصلے بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درج ذیل اہم احکامات جاری کیے۔
ٹیکس نوٹس کی منسوخی: ۔عدالت نے میونسپل کونسل بھالکی کی جانب سے جاری کردہ پراپرٹی ٹیکس نوٹس کو فوری طور پر منسوخ (Quash) کر دیا۔
مکمل استثنیٰ: ۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ عمارت تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اس لیے درخواست گزار سوسائٹی کسی بھی قسم کا میونسپل پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے۔
مشروط رعایت:۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ادارے کی جائیداد تعلیمی مقاصد کے علاوہ کسی اور تجارتی سرگرمی کے لیے استعمال ہوتی پائی گئی، تو کارپوریشن کو قانون کے مطابق دوبارہ نوٹس جاری کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ضلع بیدر سمیت یاست بھر کے تعلیمی اداروں کو بڑی راحت ملی ہے جو بلدیاتی اداروں کی جانب سے ٹیکس نوٹسز کا سامنا کر رہے تھے۔زائد معلومات کے لئے سابق ڈپٹی سالسیٹر جنرل آف انڈیا ایڈوکیٹ جے راج بکا سے 9341120756پررابطہ کیاجاسکتاہے۔ موصوف نے ہی اس مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے اس کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے ریاست بھر کے لاکھوں تعلیمی اداروں کواربوں روپیوں کا مالی فائدہ پہنچانے کابالراست اہتمام کیاہے۔
