کنیڈا: پیس اینڈ پروگریس فاؤنڈیشن کی جانب سے 17 مئی 2026 بروز اتوار، بی بی باغان کے قریب سیوا کینڈر میں ایک عظیم الشان کیریئر کونسلنگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام خاص طور پر اُن طلبہ و طالبات کے لیے رکھا گیا تھا جنہوں نے حال ہی میں دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کامیابی کے ساتھ پاس کیے ہیں۔

اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو اُن کے بہتر مستقبل، اعلیٰ تعلیم، اور مختلف کیریئر کے مواقع کے بارے میں صحیح رہنمائی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق درست فیصلہ لے سکیں۔

Peace and Progress Foundation نہ صرف تعلیمی رہنمائی کے میدان میں کام کر رہی ہے بلکہ غریب اور مستحق بچوں کی مدد بھی وظیفہ (Scholarship) کے ذریعے کرتی ہے۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن سماج کی بھلائی اور زمینی سطح پر ہونے والے فلاحی کاموں پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

اس پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا حصہ ہمارے ریاست کی قابلِ احترام اور کامیاب شخصیات کی موجودگی اور ان کی مفید تقاریر سے شروع ہوا، جس سے طلبہ کو نئی معلومات حاصل ہوئیں اور ان کے حوصلے بلند ہوئے۔

ڈاکٹر تسلیم عارف نے کالج اور یونیورسٹی میں داخلے سے لے کر فراغت تک کے مختلف مراحل کو نہایت تفصیل اور عمدگی کے ساتھ سمجھایا۔ اس کے علاوہ محمد نسیم – HEAD TEACHER OF A.M.O GHANI SCHOOL ، جلیل اقبال – ٹیچر انچارج جبریل انٹرنیشنل اسکول، محمد توقیر محمد جان اسکول ٹیچر، محمد انور (SNAP ASSOCIATION)، حافظ شہادت حسین ندوی(سیکریٹری آل انڈیا پیام انسانیت) اور محمد عالم اللہ (اسسٹنٹ انجینئر اگری ایریگیشن )نے بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔

مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے علاقائی اور بیرونی سطح کی کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں Swapan Maity ، محمد رئیس، محمد نوشاد ، روشنی آفریں، محمد نسیم، عالم حسین عالم، شریف ضیا، ظہیر خان اور سمیر عالم ، محمد ساجد ، محمد عادل وغیرہ شامل تھے۔

پروگرام کے آخری حصے میں پیس اینڈ پروگریس فاؤنڈیشن کے ٹرسٹیز اور ذمہ داران کی محنت، قربانی اور خلوص کو خاص طور پر سراہا گیا۔ شدید گرمی اور مختلف دشواریوں کے باوجود تمام اراکین نے نہایت جذبے کے ساتھ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خصوصی طور پر محمد صادق حسین، محمد شاہد، محمد افسر، شاہِ معصوم رضا، آصف حسین، ابو سفیان، شیخ ظہور عالم، محمد کلیم الدین، محمد تسلیم، محمد شمس الدین، محمد مستقيم، محمد سعد ذمام اور محمد وقاص اختر کی خدمات قابلِ ذکر رہیں۔

الحمدللہ، یہ پروگرام نہایت کامیاب رہا اور طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے اسے خوب سراہا گیا۔ یہ کوشش نوجوانوں کی صحیح رہنمائی اور سماج کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے