از قلم:۔۔۔۔محمد اسرارضیغم

کربلائی افسانہ

رات کی تاریکی فرات کے کناروں پر اتر چکی تھی۔ ہوا میں عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ ریت کے ذروں پر چاندنی یوں بکھری تھی جیسے کسی نے بے شمار آنسو زمین پر نچھاور کر دیے ہوں۔۔۔خیموں کی بستی خاموش تھی، مگر اس خاموشی کے اندر کتنی صدائیں تھیں، کتنی دعائیں تھیں اور کتنے درد تھے جنہیں صرف آسمان سن رہا تھا۔
دس سالہ علی اصغر خیمے کے ایک کونے میں سویا ہوا تھا۔ اس کی ماں رباب اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں۔ بچہ بار بار ہونٹ ہلاتا اور پھر خاموش ہو جاتا۔ پیاس نے اس کی ننھی جان کو بے چین کر رکھا تھا۔رباب نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’اے پروردگار! یہ کیسی آزمائش ہے؟‘‘
دور کہیں گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دے رہی تھیں۔ دشمن کے لشکر کی مشعلیں اندھیرے میں جلتے ہوئے انگاروں کی مانند دکھائی دیتی تھیں۔ خیمے کے باہر امام حسینؑ کھڑے تھے۔ان کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔ ایسا سکون جو صرف حق والوں کو نصیب ہوتا ہے۔حضرت زینبؑ قریب آئیں۔
’’بھائی جان! بچے بہت پیاسے ہیں۔‘‘
امام حسینؑ نے ایک لمحے کے لیے خیموں کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں درد کی ایک موج ابھری اور پھر وہ مسکرا دیے۔
’’بہن! اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
یہ مختصر سا جملہ گویا پوری کائنات کی طاقت اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔رات گزرتی رہی۔۔۔ہر خیمے میں عبادت جاری تھی۔کوئی قرآن پڑھ رہا تھا، کوئی دعا مانگ رہا تھا اور کوئی اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔دوسری طرف دشمن کے خیموں میں شور تھا، ہنسی تھی، قہقہے تھے۔مگر تاریخ جانتی تھی کہ صبح کس کے نام ہونے والی ہے۔
فجر طلوع ہوئی۔سورج نے افق سے سر اٹھایا تو ریت کے ذرے سرخ دکھائی دینے لگے۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین آنے والے سانحے سے پہلے ہی خون کے رنگ میں رنگ گئی ہو۔ایک ایک کر کے اصحاب میدان میں اترنے لگے۔ہر جانب ’’اللہ اکبر‘‘کی صدائیں گونج رہی تھیں۔
کبھی کوئی نوجوان شہید ہوتا، کبھی کوئی بوڑھا جانباز۔ہر شہادت کے ساتھ خیموں میں صبر کا ایک نیا چراغ روشن ہو جاتا۔دوپہر تک کربلا کی سرزمین لاشوں کے گلستان میں تبدیل ہو چکی تھی۔حق کے پھول ایک ایک کر کے خاک پر بکھر رہے تھے۔حضرت قاسمؑ گئے۔ حضرت علی اکبرؑ گئے۔عباسؑ گئے۔ہر رخصتی ایک قیامت تھی۔
جب حضرت عباسؑ فرات کی طرف بڑھے تو بچوں کی آنکھوں میں امید جاگ اٹھی۔سکینہ دوڑتی ہوئی آئی۔
’’چچا! میرے لیے پانی ضرور لائیے گا۔‘‘
عباسؑ نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ’’بیٹی! اگر زندہ واپس آیا تو پانی ضرور لاؤں گا۔‘‘
وہ گئے۔فرات تک پہنچے۔پانی ہتھیلی میں لیا۔پیاس شدت سے ستا رہی تھی۔مگر اچانک بچوں کے سوکھے ہوئے ہونٹ یاد آگئے۔ انہوں نے پانی واپس دریا میں گرا دیا۔
’’عباس پانی کیسے پی لے جبکہ حسینؑ پیاسے ہوں!‘‘
یہ وفا کا وہ لمحہ تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ مگر واپسی پر نیزوں اور تیروں نے ان کا راستہ روک لیا۔مشک چھلنی ہو گئی۔ بازو قلم ہو گئے۔اور وفا کا علم زمین پر آ گرا۔ جب یہ خبر خیموں تک پہنچی تو سکینہ نے خالی مشک کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ کبھی کبھی آنسو بھی نکلنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اب میدان میں صرف امام حسینؑ رہ گئے تھے۔ خیموں سے بچوں کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ علی اصغر کی حالت بہت نازک تھی۔ رباب بچے کو اٹھائے امام حسینؑ کے پاس آئیں۔
’’مولا! اس معصوم کے لیے پانی مانگ لیجیے۔‘‘
امام حسینؑ نے بچے کو گود میں لیا۔وہ میدان کی طرف بڑھے۔دشمن کے سامنے کھڑے ہوئے۔ان کی آواز بلند ہوئی۔
’’اگر مجھ سے دشمنی ہے تو اس بچے کا کیا قصور؟ اسے ایک گھونٹ پانی دے دو۔‘‘
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ہوا بھی رک گئی۔فرات بھی شاید سن رہا تھا۔مگر ظلم کا دل کب پگھلتا ہے؟ حرملہ نے کمان اٹھائی۔ تیر چھوڑا۔اور ایک لمحے میں ننھی گردن چھلنی ہو گئی۔ امام حسینؑ کے ہاتھ خون سے بھر گئے۔ آسمان لرز اٹھا۔ زمین کانپ گئی۔ مگر امام حسینؑ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔
انہوں نے خون کو آسمان کی طرف اچھالا۔ گویا کہہ رہے ہوں:
’’اے رب! یہ قربانی بھی تیری راہ میں قبول ہو۔‘‘
سورج ڈھلنے لگا۔ کربلا کا میدان خاموش تھا۔ شہداء کی لاشیں ریت پر پڑی تھیں۔ ہوا آہستہ آہستہ ان کے چہروں کو چھو رہی تھی۔ امام حسینؑ تنہا کھڑے تھے۔ مگر حقیقت میں وہ تنہا نہیں تھے۔ سچائی ان کے ساتھ تھی۔ انصاف ان کے ساتھ تھا۔ انسانیت ان کے ساتھ تھی۔
انہوں نے آخری مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا۔ پھر گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ دشمن ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ تلواریں چلیں۔ نیزے برسے۔اور آخرکار وہ لمحہ آ پہنچا جس کے انتظار میں تاریخ صدیوں سے کھڑی تھی۔ امام حسینؑ سجدے میں تھے۔ ہونٹوں پر خدا کا نام تھا۔ اور روح اپنے رب کی طرف پرواز کر رہی تھی۔
شام اتر آئی۔ میدان خاموش تھا۔ مگر حقیقت میں کربلا خاموش نہیں ہوئی تھی۔ اس دن ایک جسم شہید ہوا تھا مگر ایک فکر زندہ ہو گئی تھی۔ ایک خاندان اجڑا تھا مگر انسانیت کو نئی زندگی مل گئی تھی۔ صدیاں گزر گئیں۔ فرات آج بھی بہتی ہے۔ ریت آج بھی اڑتی ہے۔ سورج آج بھی طلوع ہوتا ہے۔ مگر کربلا کا پیغام اب بھی زندہ ہے۔ جب کبھی ظلم طاقت کے نشے میں مست ہوتا ہے، حسینؑ کی یاد اسے للکارتی ہے۔ جب کبھی حق تنہا رہ جاتا ہے، کربلا اسے حوصلہ دیتی ہے۔ اور جب کبھی انسانیت پیاس سے تڑپتی ہے تو علی اصغرؑ کا ننھا سا چہرہ یاد آتا ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ سچائی کی قیمت کبھی کبھی خون سے ادا کرنی پڑتی ہے۔
اسی لیے کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک چراغ ہے۔ ایسا چراغ جو صدیوں سے جل رہا ہے اور قیامت تک جلتا رہے گا۔ پیاس کا وہ آخری چراغ، جس کی روشنی میں حق اور باطل کی پہچان ہمیشہ ہوتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے