جاوید جمال الدین
استاد اور شاگرد کا رشتہ دنیا کے ان چند رشتوں میں شمار ہوتا ہے جن کی بنیاد محض کتاب، سبق اور امتحان پر نہیں ہوتی۔ استاد صرف حروف کی پہچان نہیں کراتا، وہ شخصیت بناتا ہے، سوچنے کا سلیقہ دیتا ہے، زندگی کے نشیب و فراز میں راستہ دکھاتا ہے اور بسا اوقات شاگرد کی زندگی کا وہ رخ متعین کردیتا ہے جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
کچھ استاد کتاب کے صفحات تک محدود رہتے ہیں اور کچھ اپنے شاگرد کی یادداشت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، اسکول کی عمارتیں بدل جاتی ہیں، کلاس رومز خاموش ہوجاتے ہیں، بلیک بورڈ کی جگہ جدید اسکرینیں لے لیتی ہیں، مگر بعض اساتذہ کی آواز، ان کا اندازِ گفتگو، ان کی شفقت اور ان کی ڈانٹ تک عمر بھر دل میں محفوظ رہتی ہے۔
یوم اساتذہ کے موقع پر جب میں اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں ایسے متعدد اساتذہ آئے جنہوں نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی بلکہ زندگی کو سمجھنے میں بھی مدد کی۔ آج جب تعلیم کا تصور بڑی حد تک ڈگری، نمبروں، مسابقت اور روزگار کے گرد گھومتا ہے تو ماضی کے ان اساتذہ کی یاد اور بھی شدت سے آتی ہے، جن کے لیے تدریس محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن تھی۔
انجمن اسلام: جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ملتی تھی
میری ابتدائی تعلیم جنوبی ممبئی کے مودی اسٹریٹ، فورٹ میں واقع میونسپل کارپوریشن پرائمری اسکول سے ہوئی۔ چوتھی جماعت کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد مجھے انجمن اسلام ہائی اسکول میں پانچویں جماعت میں داخل کرایا گیا۔
ہمارے خاندان میں اس اسکول سے ایک طرح کا جذباتی تعلق تھا۔ میرے بڑے بھائیوں صابر اور واجد، پھر چھوٹے بھائی عابد،چچازاد بھائی اور خاندان کے کئی دوسرے بچے بھی انجمن اسلام ہی میں زیر تعلیم تھے۔ چنانچہ میرے لیے انجمن اسلام میں داخلہ صرف ایک نئے اسکول میں قدم رکھنا نہیں تھا بلکہ خاندان کی ایک تعلیمی روایت کا حصہ بننا بھی تھا۔
یہ 1970 کی دہائی کا زمانہ تھا۔ ملک ابھی 1971 کی ہند۔پاک جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں آیا تھا۔ سیاسی حالات میں مسلسل اتار چڑھاؤ تھا۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج ہورہے تھے۔ ملوں، کارخانوں اور ریلوے کی ہڑتالوں نے ممبئی جیسے صنعتی شہر کی زندگی کو بھی متاثر کیا۔
پھر 1975 میں ایمرجنسی نافذ ہوئی۔ عوامی زندگی میں نظم و ضبط کے نام پر سختیاں بڑھیں اور پورا ملک ایک غیر معمولی سیاسی ماحول سے گزرا۔ ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد 1977 میں پہلی مرتبہ مرکز میں غیر کانگریسی جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ ایس ایس سی بھی یہیں سے کچھ عرصہ بعد کرلی۔
اس زمانے کی ممبئی آج کی ممبئی سے بہت مختلف تھی۔ زندگی کی رفتار نسبتاً سست تھی، مگر تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط نمایاں تھا۔ انجمن اسلام ہائی اسکول بھی اسی ماحول کی نمائندگی کرتا تھا۔ اسکول کی شناخت مضبوط نظم و ضبط، اعلیٰ تعلیمی معیار اور باصلاحیت اساتذہ کے سبب تھی۔
اسکول کی عمارت، گراؤنڈ اور وہ گزرے ہوئے دن
انجمن اسلام ہائی اسکول کی عمارت بھی ہماری یادوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ قدیم ہیرٹیج عمارت کے ساتھ 1960 کی دہائی میں تعمیر کی گئی نئی چھ منزلہ عمارت لب سڑک واقع ہے۔ سامنے کرکٹ اور فٹ بال کا گراؤنڈ ہے۔
عقبی حصے میں اردو ریسرچ سینٹر اور خوبانی ہاسٹل واقع تھا۔ آج اسی کیمپس میں مینجمنٹ، ہوٹل مینجمنٹ اور وکالت کے کالج بھی قائم ہیں۔
اس ادارے نے مختلف شعبوں میں جانے والی متعدد شخصیات کو تعلیم دی۔ اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار، مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ عبد الرحمن انتولے، ان کے بھتیجے اور داماد اور این سی پی کے رہنما مشتاق انتولے، معروف کرکٹر سلیم درانی، ایڈووکیٹ مجید میمن اور کئی دوسری نمایاں شخصیات کا تعلق بھی اس ادارے سے رہا۔
نئی عمارت کے نچلے حصے میں واقع اسمبلی ہال میں جنرل اسمبلی کے ساتھ پی ٹی کی کلاسیں بھی ہوتی تھیں۔ صدر محمد اسحاق جمخانہ والا کے دور میں عمارت کے مغربی حصے میں پانچ وقت کی نماز کا اہتمام شروع ہوا۔
ہمارے زمانے میں قدیم عمارت کے کریمی ہال میں ظہر، عصر اور مغرب کی نماز ہوتی تھی، جبکہ ثوبانہ ہاسٹل میں پانچ وقت کی نماز کا انتظام تھا۔
کریمی لائبریری بھی ہماری تعلیمی زندگی کا ایک اہم حصہ تھی۔ وہاں ہزاروں کتابیں مختلف موضوعات پر موجود تھیں۔ اس ذخیرے میں اردو میں رامائن، گیتا اور ہنومان چالیسہ جیسی کتابیں بھی شامل تھیں۔
یہ اس دور کے وسیع تر تعلیمی ماحول کی علامت تھا، جہاں کتاب کو محض مذہبی یا لسانی خانوں میں نہیں بلکہ علم کے وسیع ذخیرے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
اسکول کا یونیفارم سلیٹی پتلون اور سفید شرٹ تھا۔ کھیلوں میں کرکٹ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ایک طویل عرصے تک انجمن اسلام نے ہیرس شیلڈ میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔
اسکول صبح نو بجے شروع ہوتا اور شام چار بجے چھٹی ہوتی۔ گیارہ بجے شارٹ بریک اور دوپہر ایک بج کر پانچ منٹ پر لانگ بریک ہوتی، جس کے بعد دو بجے دوبارہ اسکول شروع ہوجاتا۔
فورٹ میں گھر ہونے کی وجہ سے ہم لانگ بریک میں گھر جاکر لنچ کرتے تھے۔
اسکول کے اطراف کا ماحول بھی اپنی جگہ ایک یادگار تھا۔ شمال کی جانب مشہور سر کے کے آرٹس کالج، جنوب میں ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی شاندار عمارت اور اس کے قریب ممبئی میونسپل کارپوریشن کا صدر دفتر واقع تھا۔ عقب میں محکمہ پولیس کے دفاتر تھے۔
آج جب اس علاقے سے گزرتا ہوں تو عمارتیں شاید وہی ہوں، مگر آنکھوں کے سامنے ایک مختلف ممبئی آجاتی ہے؛ وہ ممبئی جس میں ہم بستے، پڑھتے اور مستقبل کے خواب دیکھا کرتے تھے۔
اُس زمانے میں استاد کا رعب ضرور تھا، لیکن اس رعب کے پیچھے محبت اور خیرخواہی بھی ہوتی تھی۔
خلیفہ ضیاء الدین: نظم و ضبط اور دینی تربیت
اس دور میں اسکول کے پرنسپل خلیفہ ضیاء الدین تھے۔ وہ بااثر، باصلاحیت اور مضبوط انتظامی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے زمانے میں تعلیم کے ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی تھی۔
دوپہر کی اسمبلی کے بعد اسمبلی ہال میں قرآن مجید کا درس ہوتا تھا۔ خلیفہ ضیاء الدین خود قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ اسمبلی ہال کے ستونوں پر نصب دو بلیک بورڈوں میں سے ایک پر مولانا عبدالقادر کھتری اور مولانا عبدالعلیم قرآنی الفاظ ان کے معانی کے ساتھ تحریر کیا کرتے تھے۔
آج یہ منظر شاید معمولی محسوس ہو، مگر ہمارے لیے یہ اسکول کی تعلیم کا ایک اہم حصہ تھا۔ ہم کتابی تعلیم کے ساتھ قرآن، اخلاق اور دینی معلومات بھی سیکھتے تھے۔
دینی تعلیم اسکول کی دوسری سرگرمیوں کے ساتھ شامل تھی اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اساتذہ بھی موجود تھے، لیکن ہمیں کبھی مسلکی اختلاف کا احساس نہیں ہوا۔ شاید اس دور کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ استاد کی شناخت پہلے استاد کی تھی، کسی مسلک یا گروہی وابستگی کی نہیں۔
بچوں کے سامنے تعلیم، اخلاق اور محبت اہم تھے۔
خلیفہ ضیاء الدین کی سبکدوشی کے بعد کے۔ مقادم پرنسپل مقرر ہوئے۔ ایمرجنسی کے زمانے میں انہوں نے اسکول میں نظم و ضبط پر خاص زور دیا۔ ان کے دور کی ایک دلچسپ یاد یہ ہے کہ لمبے بال رکھنے والے طلبہ کے بال کبھی کبھی وہ خود قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔
آج یہ واقعہ شاید حیرت انگیز لگے، لیکن اس وقت اسکول کے نظم و ضبط کا معیار ہی کچھ اور تھا۔ ڈسپلن صرف بچوں تک محدود نہیں تھا؛ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے سے بھی اس کی پابندی کی توقع کی جاتی تھی۔
اس زمانے میں انجمن اسلام کے صدر بیرسٹر اکبر پیر بھائی تھے، جبکہ مجاہد آزادی اور روزنامہ ’’اجمل‘‘ کے مالک و مدیر معین الدین حارث بھی ادارے سے وابستہ اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ معین الدین حارث سوشلسٹ نظریات رکھتے تھے اور ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے مرارجی دیسائی کی جانب سے گورنر اور سفارت کار جیسے عہدوں کی پیشکش بھی قبول نہیں کی۔
انجمن اسلام کا ماحول محض ایک اسکول کا ماحول نہیں تھا؛ اس کے اردگرد تعلیم، صحافت، سیاست، سماجی خدمت اور ملی زندگی کے مختلف رنگ موجود تھے۔
مولانا عبدالقادر کھتری: شفقت، دین اور چاند رات کی یاد،
مولانا عبدالقادر کھتری دینیات کے استاد تھے۔ ان کی رہائش کرافورڈ مارکیٹ کے مقابل عبد الرحمن اسٹریٹ میں تھی۔ قریب ہی سارنگ اسٹریٹ کا علاقہ تھا جسے بھوساری محلہ یا مرغی محلہ بھی کہا جاتا تھا۔ وہاں کی مسجد کے خطیب اور پیش امام بھی مولانا کھتری ہی تھے۔
ان کی شخصیت میں عالم دین، استاد، خطیب اور شفیق انسان کے کئی پہلو جمع تھے۔ نورانی چہرہ، باریش صورت، رعب دار آواز، لیکن لہجے میں ایسی نرمی کہ بچے ان سے مانوس ہوجاتے تھے۔
ان کا پڑھانے کا انداز انتہائی متاثر کن تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو بنیادی دینی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہیے۔
ان کی سب سے بڑی خوبی بچوں کے ساتھ محبت بھرا برتاؤ تھا۔ وہ دینیات پڑھاتے تو ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ کوئی مشکل یا خشک مضمون پڑھایا جارہا ہے۔ ان کی زبان میں شفقت، لہجے میں اپنائیت اور انداز میں ایسی سادگی ہوتی کہ بچے ان کے قریب محسوس کرتے۔
ان کی محبت اور خلوص کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم سورتیں بھی نسبتاً آسانی سے یاد کرلیتے تھے۔
مولانا کھتری صرف کلاس روم کے استاد نہیں تھے۔ کسی اسلامی تہوار یا اہم دینی موقع سے ایک روز قبل اسمبلی ہال میں خصوصی خطاب کرتے۔ عیدالفطر ہو یا عیدالاضحیٰ، شب معراج ہو یا شب برات، شب قدر ہو یا عاشورہ، وہ اس موقع کی دینی اہمیت اور اس کے پیغام کو بچوں کے سامنے سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کرتے۔
آج جب اسکولوں میں ’’ویلیو ایجوکیشن‘‘ اور اخلاقی تربیت کے لیے الگ پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو مجھے مولانا کھتری اور ان جیسے اساتذہ یاد آتے ہیں، جنہوں نے اخلاقی تربیت کو کسی الگ مضمون کا محتاج نہیں بنایا تھا۔ ان کا اپنا کردار ہی بچوں کے لیے سبق تھا۔
لیکن مولانا عبدالقادر کھتری کی ایک یاد سب سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آتی ہے: چاند رات۔
اسلامی کیلنڈر کی 29 تاریخ کو جب رمضان یا کسی اہم اسلامی مہینے کے اختتام کا مرحلہ آتا تو مولانا کھتری جامع مسجد پہنچتے۔ نماز مغرب کے بعد رویت ہلال کے سلسلے میں علماء اور ذمہ داران کی نشست ہوتی اور اتفاق رائے سے چاند کا اعلان کیا جاتا۔
رمضان میں چاند دیکھنے کے لیے وہ جامع مسجد کے مینار پر بھی چڑھتے تھے۔ ان کی موجودگی اس پورے عمل کا ایک اہم حصہ محسوس ہوتی تھی۔عید الفطر کا چاند دیکھنے کیلئے وہ کھجور لیکر مینار پر چڑھ جاتھے۔
ان کی زندگی میں دو تین مرتبہ رمضان یا عیدالفطر کے چاند کے معاملے میں صورت حال کچھ پیچیدہ ہوئی، لیکن اختلاف کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا۔ مولانا شوکت علی نظیر سمیت دوسرے علماء کے ساتھ مل کر وہ ایسے مواقع پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔
آج جب چاند کے مسئلے پر اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں اور دو الگ کمیٹیاں تک وجود میں آچکی ہیں تو مولانا کھتری بہت یاد آتے ہیں۔ اختلاف اس وقت بھی ہوتے تھے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدلنے سے روکنے والے لوگ موجود تھے۔ آج مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے کم ہوتے جانے کا بھی ہے۔
چاند رات کی خوشی میں بھی ان کی یاد ایک عجیب سی اداسی لے آتی ہے۔
مولانا عبدالقادر کھتری کے بعد ان کے بیٹے فاروق کھتری بھی امامت اور درس و تدریس سے وابستہ رہے، لیکن کووڈ۔19 کے مشکل دور میں وہ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے داماد عبدالسلام آج بھی کرافورڈ مارکیٹ کی عبدالرحمن اسٹریٹ کی مسجد میں امامت اور دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یوں ایک استاد کی علمی اور دینی روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔
عبدالقادر بوٹ والا: استاد سے بڑھ کر ایک محسن
عبدالقادر بوٹ والا صاحب سے میرا تعلق قدرے مختلف نوعیت کا تھا۔ انہوں نے مجھے کسی کلاس میں باقاعدہ نہیں پڑھایا، لیکن وہ میرے محسن، رہنما اور گھریلو تعلق رکھنے والے بزرگوں میں شامل رہے۔ دراصل ان کا مقام میرے لیے بڑے بھائی جیسا ہے۔
دسویں جماعت کے بعد میری تعلیم میں وقفہ آیا اور عملی زندگی اور روزگار کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی دور میں عبدالقادر بوٹ والا نے میری رہنمائی کی اور ایک اہم تربیت دی جس سے مجھے ایسی کامیابی حاصل ہوئی جس نے میری زندگی کا رخ بدلنے میں مدد کی۔
انہوں نے مجھے آگے بڑھنے کے لیے اکسایا اور میری صلاحیتوں پر اعتماد پیدا کیا۔
میری زندگی میں مطالعے، زبان اور تاریخ کا شوق پیدا کرنے میں بڑے بھائی مرحوم صابر جمال الدین اورمرحوم واجد بھائی کااہم رول رہا،واجد بچپن میں انگریزی پڑھاتے،وہ خود فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور معاون ہدایت کار،رائٹر اور فلمساز کے طور پر کام کیا۔یہی شوق آگے چل کر صحافت کی طرف لے گیا۔
قادر بھائی نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔،عبدالقادر بوٹ والا صاحب علیل ہیں۔ اس موقع پر دل سے ان کی صحت یابی کی دعا کرےاہوں۔بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف استاد اور شاگرد کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رشتے محبت، سرپرستی اور خلوص سے بنتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
نصیرالدین قریشی: تعلیم سے صحافت تک
نصیرالدین قریشی بھی میری تعلیمی زندگی کی اہم شخصیت تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے اور تدریس کے ساتھ صحافت سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
وہ ’’عمران‘‘ نامی ہفت روزہ شائع کرتے تھے۔ صحافت سے ان کی وابستگی محض اخبار نکالنے تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے طور پر اس کے سرکولیشن کے لیے خاصی محنت کی۔ وہ خود اسٹالوں پر جاتے، اخبار فروشوں کو اخبار دیتے اور قارئین تک رسائی پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔
ان میں اردو کی خدمت کا جذبہ بھی تھا اور صحافت کے ذریعے لوگوں سے تعلقات استوار کرنے کا شوق بھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے لیے اخبار ایک کاروباری سرگرمی سے زیادہ ایک مشن تھا۔
نصیر قریشی، شفیق عباس اور سہیل لوکھنڈ والا میرے کلاس ٹیچر بھی رہے۔ ان اساتذہ کا اپنے شاگردوں کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا۔ وہ بچوں سے قریب رہتے، ان کی بات سنتے اور ضرورت پڑنے پر ان کی رہنمائی بھی کرتے۔
1986 میں ایس ایس سی کے بعد جب اعلیٰ تعلیم کے لیے مہاراشٹر کالج میں داخلے کا مرحلہ آیا تو قریشی صاحب نے اس سلسلے میں بھی میری مدد کی۔
زندگی کے بعض موڑ پر کسی استاد کی ایک چھوٹی سی مدد مستقبل کی بڑی بنیاد بن جاتی ہے۔ اس وقت شاید مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آگے چل کر صحافت میری زندگی کا بنیادی شعبہ بن جائے گا، لیکن آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو قریشی صاحب کی رہنمائی ایک اہم سنگ میل دکھائی دیتی ہے۔
شفیق عباس: استاد، شاعر اور حساس انسان
مرحوم شفیق عباس بھی میری تعلیمی زندگی کی اہم شخصیت تھے۔ وہ پہلے پانچویں جماعت میں اور پھر دسویں جماعت میں میرے کلاس ٹیچر رہے۔
ان کا بچوں کے ساتھ تعلق دوستانہ تھا۔ کلاس میں بچے ان سے گھلے ملے رہتے، لیکن میں نے انہیں بچوں کو بے جا ڈانٹتے یا مارتے نہیں دیکھا۔
بعد کے زمانے میں جب انجمن اسلام میں انگلش میڈیم اسکول کا آغاز ہوا اور مظفر نامی ایک استاد کے بیرون ملک جانے کے بعد اس شعبے کی ذمہ داری شفیق عباس کو سونپی گئی تو انہوں نے اسے بھی بخوبی سنبھالا۔
وہ اردو داں تھے اور شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ کلاسیکی شاعری سے ان کی دلچسپی تھی۔ جوانی میں لوک گیت سننے کے شوق میں اترپردیش کے دیہات کا دورہ بھی کرتے رہے۔ ان کی شخصیت میں استاد، شاعر، ادب دوست اور حساس انسان کے کئی رنگ موجود تھے۔
تاہم یہی شوق بعض اوقات ان کی عملی زندگی پر بھی غالب آگیا۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق وہ مقام حاصل نہ کیا جس کے وہ مستحق تھے اور نسبتاً جلد عمر رسیدگی کے احساس میں مبتلا ہوگئے۔
ان کی اہلیہ بھی میونسپل کارپوریشن کے ثانوی شعبے میں معلمہ تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شفیق عباس کچھ عرصہ ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہے اور بالآخر انگلش میڈیم کے پرنسپل کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔
عبدالرزاق اور عبدالحلیم: یادوں میں محفوظ دو چہرے
عبدالرزاق اور عبدالحلیم بھی ان اساتذہ میں شامل تھے جن کی یاد انجمن اسلام کے زمانے سے جڑی ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان سے وابستہ بہت سی جزئیات ذہن کے پردے سے دھندلا گئی ہوں، لیکن استاد کی حیثیت سے ان کی موجودگی اور ان کا اثر آج بھی اس دور کی مجموعی یاد کا حصہ ہے۔عبدالرزاق صاحب لائبرین تھے اور اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کیلئے بچوں کی مدد کرتے تھے
یادداشت بھی عجیب شے ہے؛ بعض چہرے پوری طرح یاد رہتے ہیں، بعض واقعات بھول جاتے ہیں، مگر کسی استاد کا مجموعی تاثر دل میں محفوظ رہتا ہے۔
انجمن اسلام کے اساتذہ کی ایک مشترکہ خوبی یہی تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کو محض کتاب کے ایک باب تک محدود نہیں رکھتے تھے۔ ان کے رویے، گفتگو اور زندگی کا انداز بھی غیر محسوس طور پر بچوں کی تربیت کرتا تھا۔
سہیل لوکھنڈ والا: استاد سے سیاست دان اور ،کینسر مریضوں کی مددتک۔
سہیل لوکھنڈ والا غالباً نویں جماعت میں میرے کلاس ٹیچر رہے۔ وہ تاریخ اور شہریت پڑھاتے تھے، لیکن ان کا درس محض نصابی کتاب تک محدود نہیں رہتا تھا۔
ہندوستان کی تاریخ، مغل بادشاہوں، اورنگ زیب، شیواجی مہاراج اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلقات جیسے موضوعات پر گفتگو شروع ہوتی تو کلاس روم ایک چھوٹے سے تاریخ کے سیمینار میں تبدیل ہوجاتا۔
ان کے اندر تاریخ کو سمجھنے اور سمجھانے کا خاص ذوق تھا۔ وہ کسی واقعے کو محض تاریخ اور سن کے حوالے سے بیان نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے پس منظر، اسباب اور نتائج پر بھی گفتگو کرتے۔
ان کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ اردو کے ساتھ مراٹھی بھی فراٹے دار بولتے ہیں،یعنی زبان پر بھی غیر معمولی عبور رکھتے تھے۔
انجمن اسلام میں تدریس کے دوران انہیں بیگ محمد ہائی اسکول، محمد علی روڈ کے پرنسپل کیلئے آفرآیااور ان کی رضامندی کے بعد انہیں پرنسپل مقرر کیا گیا۔ وہاں ان کی انتظامی اور تعلیمی صلاحیتوں کو مزید مواقع ملے۔ بعد میں وہ بلدیاتی سیاست میں آئے، میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر منتخب ہوئے اور پھر جنوبی ممبئی کے ناگپاڑہ حلقے سے رکن اسمبلی بھی بنے۔
استاد سے سیاست دان تک ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ اچھا استاد صرف دوسروں کو پڑھاتا نہیں بلکہ خود بھی زندگی بھر سیکھتا اور آگے بڑھتا رہتا ہے۔
بعد کے زمانے میں کارپوریشن اور اسمبلی کے دور میں بھی ان سے تعلق قائم رہا اور ہم اچھے دوست بن گئے۔ اسمبلی میں ان کی معلوماتی اور دلیل کے ساتھ کی جانے والی تقاریر آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔
میری صحافتی زندگی میں بھی ان سے وابستہ ایک یادگار واقعہ ہے۔ 1992۔93 کے ممبئی فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کا اردو ترجمہ میری جانب سے کتابی شکل میں شائع ہوا تو سہیل لوکھنڈ والا نے میرا تعارف پیش کیا اور اس موقع پر ایک جذباتی تقریر بھی کی۔
ایک سابق استاد کا اپنے شاگرد کی کامیابی پر اس طرح اظہار مسرت کرنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔
آج کل وہ کینسر سے متعلق مریضوں کے علاج کے لیے ایک ادارہ چلا رہے ہیں، جبکہ ان کا بیٹا کمرشل پائلٹ ہے۔ عمر کے اس حصے میں وہ ضعیف ہوگئے ہیں اور یادداشت بھی پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن ایک شاگرد کے ذہن میں ان کی وہی پرانی تصویر محفوظ ہے: کلاس روم میں تاریخ پڑھانے والا ایک پُرجوش استاد، جو ہندوستان کے ماضی کو اپنے مخصوص انداز میں ہمارے سامنے زندہ کردیتا تھا۔
استاد، مطالعہ اور صحافت کا سفر
میرے لیے انجمن اسلام صرف ایک اسکول نہیں تھا۔ یہ میری زندگی کے ایک ایسے دور کا نام ہے جس میں بچپن ختم ہورہا تھا اور شعور کی نئی دنیا سامنے آرہی تھی۔
یہاں کے اساتذہ، عمارتیں، گراؤنڈ، اسمبلی ہال، لائبریری، دوست، کلاسیں، وقفے اور اسکول کے آس پاس کی گلیاں سب میری یادداشت کا حصہ ہیں۔
سچ یہ ہے کہ میری اپنی زندگی پر اسکول کے تمام اساتذہ کا براہ راست کوئی یکساں اثر نہیں پڑا، میرے بڑے بھائی مرحوم صابر جمال الدین کی حوصلہ افزائی نے خاص طور پر مطالعے، زبان اور تاریخ کے شوق کو جلا بخشی۔
قادر بھائی نے ایک حد تک مجھے آگے بڑھنے کے لیے اکسایا۔ یہی شوق آہستہ آہستہ صحافت کے شوق میں تبدیل ہوا۔
دسویں جماعت کے بعد تعلیم میں وقفہ آیا۔ پھر عملی زندگی شروع ہوئی۔ لیکن کتاب اور قلم سے تعلق قائم رہا۔ آخرکار یہی تعلق مجھے صحافت کی دنیا میں لے گیا۔
آج کئی دہائیوں کے صحافتی سفر کے بعد جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں کامیابی کا کوئی ایک سبب نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ، بہت سے واقعات اور بہت سے چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر راستہ بناتے ہیں۔
اساتذہ بھی اسی راستے کے معمار ہوتے ہیں۔
تعلیم بدل گئی، مگر استاد کی ضرورت باقی ہے
آج تعلیم کا منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ ٹیکنالوجی نے تعلیم کو آسان بنا دیا ہے۔ معلومات ہماری انگلیوں پر دستیاب ہیں۔ آن لائن کلاسیں، ڈیجیٹل لائبریریاں اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے ذرائع نے علم تک رسائی کے امکانات کو بے حد وسیع کردیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تعلیم کے ساتھ وہ انسانی قربت بھی محفوظ رکھی ہے جو تعلیم کو محض معلومات نہیں بلکہ تربیت بناتی تھی؟
ہمارے اساتذہ کے پاس شاید آج کے دور جیسی سہولتیں نہیں تھیں، مگر ان کے پاس وقت تھا، صبر تھا، بچوں کو سمجھنے کی صلاحیت تھی اور سب سے بڑھ کر اپنے پیشے سے وابستگی تھی۔
وہ اپنے شاگردوں کو صرف امتحان میں کامیاب دیکھنا نہیں چاہتے تھے بلکہ انہیں زندگی میں کامیاب دیکھنا چاہتے تھے۔
آج والدین اپنے بچوں کے لیے بہترین اسکول، بہترین کوچنگ، بہترین ٹیکنالوجی اور بہترین سہولتیں تلاش کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری بھی ہیں، لیکن تعلیم کا ایک پہلو ایسا ہے جسے کوئی ٹیکنالوجی پوری طرح تبدیل نہیں کرسکتی: انسان کا انسان سے تعلق۔
استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا
وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ وہ کلاس روم نہیں رہے، وہ بلیک بورڈ نہیں رہے، وہ اسمبلی ہال بھی اپنی پرانی صورت میں نہیں رہا۔ ہمارے بہت سے استاد ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے۔ کچھ عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے جہاں ماضی ہی سب سے بڑی دولت بن جاتا ہے۔ کچھ کی آوازیں مدھم ہوگئیں اور کچھ کی یادداشت پہلے جیسی نہیں رہی۔
لیکن شاگرد کے دل میں استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔
آج جب میں اپنے صحافتی سفر، اپنی تعلیم اور زندگی کے مختلف مراحل پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری شخصیت کی تعمیر میں ان تمام اساتذہ کا کوئی نہ کوئی حصہ موجود ہے۔
کسی نے علم دیا، کسی نے اعتماد دیا، کسی نے راستہ دکھایا، کسی نے غلطی پر ڈانٹا، کسی نے مشکل وقت میں ہاتھ پکڑا اور کسی نے ایسا موقع پیدا کیا جس نے مستقبل کا دروازہ کھول دیا۔
مولانا عبدالقادر کھتری نے دین، اخلاق اور اختلاف کے باوجود اتفاق کی اہمیت کا احساس دلایا۔ خلیفہ ضیاء الدین نے نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کی اہمیت دکھائی۔ نصیرالدین قریشی نے تعلیم اور صحافت کے درمیان تعلق کا احساس دلایا اور عملی زندگی کے ایک اہم موڑ پر رہنمائی کی۔ شفیق عباس نے ادب، شاعری اور تدریس کے مختلف رنگ دکھائے۔ سہیل لوکھنڈ والا نے تاریخ کو محض کتاب نہیں بلکہ زندہ تجربہ بناکر پیش کیا۔ عبدالقادر بوٹ والا نے مجھے آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا۔ عبدالرزاق اور عبدالحلیم سمیت دیگر اساتذہ نے اس تعلیمی سفر کو مکمل کیا۔
اور پھر میرے بڑے بھائی مرحوم صابر جمال الدین جیسے لوگ بھی تھے جنہوں نے استاد کی رسمی حیثیت نہ رکھتے ہوئے بھی استاد کا کردار ادا کیا۔
شاید استاد کی اصل کامیابی یہی ہے کہ شاگرد برسوں بعد بھی اسے یاد کرے اور دل سے کہے:
’’آپ نے مجھے صرف پڑھایا نہیں، مجھے بنایا ہے۔‘‘
یوم اساتذہ میرے لیے محض ایک رسمی دن نہیں۔ یہ اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھنے، ان چہروں کو یاد کرنے اور ان کے احسانات کا اعتراف کرنے کا دن ہے۔
ان میں سے کچھ اس دنیا میں نہیں رہے، کچھ عمر کے آخری حصے میں ہیں، کچھ کی آوازیں مدھم ہوگئی ہیں اور کچھ کی یادداشت پہلے جیسی نہیں رہی، مگر ہمارے دلوں میں آپ کی یاد آج بھی روشن ہے۔
آج بھی چاند رات آتی ہے تو مولانا کھتری یاد آتے ہیں۔ تاریخ کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو سہیل لوکھنڈ والا کی کلاس یاد آجاتی ہے۔ صحافت کی دنیا میں کوئی پرانا اخبار یا اسٹال نظر آتا ہے تو نصیر قریشی اور ان کا ’’عمران‘‘ یاد آجاتا ہے۔ کسی کتاب کا ورق پلٹتا ہوں تو مطالعے کے وہ ابتدائی شوق یاد آتے ہیں جنہیں میرے بڑے بھائی صابر بھائی نے پروان چڑھایا تھا۔
اسکول کی عمارت کے قریب سے گزرتا ہوں تو سفید شرٹ اور سلیٹی پتلون میں اپنا بچپن سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔
یہی تو استاد کی اصل میراث ہے۔
وہ معلم محض کتاب نہیں پڑھاتا، زندگی کا ایک باب لکھ جاتا ہے۔اور کبھی کبھی شاگرد کی پوری زندگی اس استاد کے پڑھائے ہوئے ایک چھوٹے سے سبق کی توسیع بن جاتی ہے۔
اب زمانہ بدل گیا ہے۔
جیسے معلم شاید دوبارہ نہ ملیں۔
لیکن ان کی یادیں، ان کے سبق، ان کی محبت اور ان کی دعائیں ہماری زندگی کے صفحات پر آج بھی موجود ہیں۔
استاد چلا جاتا ہے، مگر اس کا سبق کبھی نہیں جاتا۔
اور شاید یہی استاد کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اب زمانہ بدل گیا ہے، مولانا عبدالقادر کھتری، خلیفہ ضیاء الدین، نصیرالدین قریشی، عبدالقادر بوٹ والا، شفیق عباس، عبدالرزاق، عبدالعلیم اور سہیل لوکھنڈ والا جیسے معلم کہاں سے لائیں!
