شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی کی طلبہ کو مطالعہ، تحقیق اور مؤثر تحریر کی تلقین

مئو، 11 ستمبر 2026ء: جامعہ عالیہ عربیہ، مئو کی جامع مسجد میں جمعرات کے روز مغرب تا عشاء مقالہ نویسی، مضمون نگاری، تحقیق اور معیاری تحریر کے اصول وضوابط پر ایک خصوصی علمی و تربیتی نشست منعقد ہوئی۔ نشست کا بنیادی مقصد عالمیت وفضیلت کے طلبہ کو مقالہ نویسی کے اصولوں سے روشناس کرانا اور تمام طلبہ میں مطالعہ و مضمون نگاری کا ذوق بیدار کرنا تھا۔ پروگرام کا اہتمام شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی حفظہ اللہ کی خصوصی کاوش سے ہوا، جبکہ ڈاکٹر خالد کمال صاحب نے صدارت فرمائی۔

طلبہ کی علمی، ادبی اور فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے جامعہ میں وقتاً فوقتاً اس نوعیت کی تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں، جن کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کے اندر موجود خوابیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں علمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

نشست کے آغاز ہی میں شیخ الجامعہ نے طلبہ سے ایک براہِ راست اور فکر انگیز سوال کیا: ’’آپ لوگوں میں سے کتنے لوگ مقالہ لکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ اپنا اپنا ہاتھ اٹھائیں۔‘‘ تمام طلبہ نے ہاتھ بلند کرکے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شیخ الجامعہ نے تحریر وتقریر کی بنیادی تربیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا: ’’لکھنے سے لکھنا آتا ہے، پڑھنے سے پڑھنا اور بولنے سے بولنا آتا ہے۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ اگر طلبہ اپنے اندر مؤثر تحریر اور مقالہ نویسی کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کتابوں سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا، مطالعہ کو وسیع کرنا ہوگا اور الفاظ و تعبیرات کے ذخیرے کو وسعت دینی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مطالعہ وسیع اور الفاظ کا ذخیرہ مضبوط ہوجاتا ہے تو الفاظ، تعبیرات، افکار اور نظریات گویا انسان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’مجھے استعمال کرو، مجھے استعمال کرو۔‘‘

شیخ الجامعہ نے طلبہ کو یہ عملی مشورہ بھی دیا کہ وہ روزانہ کچھ وقت باقاعدگی سے تحریر کے لیے مخصوص کریں، کیونکہ مسلسل مشق ہی قلم میں پختگی پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے مقالہ نویسی کے مختلف مراحل پر گفتگو کرتے ہوئے موضوع کے درست انتخاب، معتبر مصادر ومراجع سے استفادہ، خُطَّةُ الْبَحْثِ کی تیاری، مواد کی ترتیب، ابواب و عناوین کی تقسیم، اقتباسات، حواشی وحوالہ جات اور نظر ثانی کی اہمیت بیان کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک معیاری مقالہ صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں تحقیقی دیانت، جدت فکر، غیر جانب داری، واضح اسلوب، درست زبان، مناسب تعبیر اور مضبوط حوالہ جات کا پایا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح تحریر کو ابہام، غیر ضروری تکرار، ذاتی تعصب اور جذباتیت سے پاک رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

نشست کے دوران پروجیکٹر کی مدد سے رموز اوقاف اور درست املا کی اہمیت بھی عملی مثالوں کے ذریعے سمجھائی گئی، تاکہ طلبہ اپنی تحریر کو نہ صرف علمی اعتبار سے مضبوط بنا سکیں بلکہ اسے زبان وبیان کے اعتبار سے بھی معیاری اور مؤثر بنائیں۔

پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں محمد عبید شیخ مازک نے تلاوتِ کلام اللہ پیش کی۔ بعد ازاں اطہر عالم نے نظم اور عبدالقادر استامل الانصاری نے نعت رسول ﷺ پیش کی، جسے حاضرین نے سراہا اور صدر مجلس ڈاکٹر خالد کمال صاحب کی جانب سے انہیں انعام سے نوازا گیا۔

اختتام پر صدر مجلس نے صدارتی کلمات میں طلبہ کو محنت، مسلسل جدوجہد اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض طلبہ اپنی صلاحیت کے مطابق کوشش نہیں کرتے، حالانکہ اگر وہ محنت اور مستقل مزاجی اختیار کریں تو علمی، لسانی اور فنی میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ نشست اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل رہی کہ اس میں طلبہ کو محض مقالہ لکھنے کے رسمی اصول نہیں بتائے گئے بلکہ مطالعہ، فکر، زبان، تحقیق اور اظہار کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے علمی شخصیت کی تعمیر کی طرف متوجہ کیا گیا۔ نشست کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ ایک اچھا قلم کار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے وسیع مطالعہ، گہری فکر، مسلسل مشق اور تحقیق کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔

جامعہ عالیہ عربیہ، مئو میں طلبہ کی علمی و فکری تربیت کے لیے منعقد ہونے والی یہ نشست یقیناً اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو طلبہ کو مستقبل کے محقق، مقالہ نگار، ادیب اور صاحبِ قلم بنانے کی سمت مؤثر پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔

پروگرام کے نظم و نسق اور دیگر انتظامی امور کی دیکھ ریکھ صدرِ انجمن تہذیب البیان انس پرویز، نائب سیکریٹری عبدالقادر اور مدیر التحریر عبید شیخ نازک نے انجام دی، جس کے باعث پروگرام منظم اور خوش اسلوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے