وصی اللہ عبد الحکیم مدنی
ناظم ضلعی جمعیت اہلحدیث سدھارتھ نگر
اہلِ علم سے ملاقات، ان کی خدمت میں حاضری اور بالخصوص بیماری کے ایام میں ان کی عیادت محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ محبت، تعلق، قدرشناسی اور اسلامی اخوت کا ایک حسین مظہر ہے۔ اسی جذبۂ محبت و خیرخواہی کے تحت مجھے عزیز مکرم اسامہ منصور اور مولانا محمد شارق سلفی کے ہمراہ مرکز تحفیظ القرآن والدعوة والتعليم، سدھارتھ نگر کے دفتر میں بزرگ عالمِ دین شیخ عبدالقدوس مدنی حفظہ اللہ سے ملاقات اور عیادت کا موقع ملا۔
شیخ محترم کی طبیعت کافی ناساز معلوم ہوئی۔ بیماری کے باعث زیادہ گفتگو بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر طبیعت میں تشویش پیدا ہوئی، تاہم مختصر ملاقات بھی باعثِ مسرت اور اطمینان کا ذریعہ بنی۔ اللہ تعالیٰ شیخ محترم کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، تمام امراض و عوارض کو دور فرمائے اور انہیں صحت و عافیت کے ساتھ دین و علم کی خدمت کے لیے طویل زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔
ملاقات کے موقع پر شیخ محترم کی خدمت میں ان کے حالات و خدمات پر لکھی گئی کتاب "ريح العبير۔ مولانا عبدالقدوس بن محمد نذیر مدنی حفظہ اللہ۔حیات وخدمات” پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ مرکز السلام التعليمي والخيري، تلسی پور، بلرام پور، یوپی سے طبع شدہ بعض دیگر کتب بھی پیش کی گئیں، جنہیں شیخ نے محبت کے ساتھ قبول فرمایا۔
اس موقع پر شیخ محترم کے نواسے حافظ محمد اسماعیل سلفی، صغیر احمد مکی، محمد ایوب مدنی، محمد اسحاق سراجی مدنی وغیرہم سے بھی ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں طلبہ کے ساتھ بدر کی جامع مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی۔
نمازِ ظہر کے بعد شیخ ثمر صادق حفظہ اللہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات خصوصی طور پر باعثِ خوشی تھی، کیوں کہ شیخ کے ریاض سے تشریف لانے کے بعد تقریباً 21 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے محبت و خلوص کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ کھانا تو آپ شیخ صاحب کے گھر ہی تناول فرمائیں گے، البتہ چائے ہمارے ساتھ ضرور پئیں۔ یہ محبت بھرا انداز ملاقات کو مزید خوش گوار بنا گیا۔
بعد ازاں حافظ محمد اسماعیل سلفی کے ہمراہ شیخ عبدالقدوس مدنی حفظہ اللہ کے گھر حاضر ہوئے، وہاں کھانا تناول کیا اور شیخ محترم سے دوبارہ ملاقات کے بعد رخصت ہوئے۔
اس کے بعد شیخ محمد ایوب مدنی کے ہمراہ شیخ ثمر صادق حفظہ اللہ کے گھر پہنچے، جہاں چائے وغیرہ سے تواضع ہوئی۔ پھر انہوں نے اپنے ادارے کا معائنہ کرنے کی دعوت دی، چناں چہ ان کے ادارے احمد پبلک اسکول، کھجوریہ جانے کا موقع ملا۔ ادارے کا نظم و ضبط، صفائی و ستھرائی اور مجموعی انتظام دیکھ کر ماشاء اللہ طبیعت خوش ہوگئی اور ان کی محنت و حسنِ انتظام کا اندازہ ہوا۔
یہ مختصر سا سفر بنیادی طور پر شیخ عبدالقدوس مدنی حفظہ اللہ کی عیادت و ملاقات کے لیے تھا۔ اس مختصر حاضری میں ایک بزرگ عالم کی بیماری کی کیفیت دیکھنے، ان سے دعائیں لینے اور دیرینہ تعلقات کو تازہ کرنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ شیخ محترم کو جلد از جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے، ان کے علم و عمل اور دینی خدمات میں برکت دے اور تمام اہلِ علم و دعوت کو صحت و عافیت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
