اٹوا(سدھارتھ نگر): بزم ارباب ادب اٹوا کی 116 ادبی طرحی نشست جناب التجاحسین نور صدیقی صاحب کی صدارات اور حافظ صفی الرحمٰن صفی کی نظامت میں جمال ٹریڈرس پر منعقد ہوئی شب میں آنلائن تحریری مشاعرہ بھی ہوا ۔قرب و جوار اور دور دراز کے شعرآء نے اپنے کلام پیش کیے چنندہ اشعار ادب نواز، اردو دوست ، باذوق قارئین کی نذر ہیں۔
میری آواہ مزاجی کااے جانِ جاناں
مان، مت مان ،گنہگار ہیں تیری آنکھیں
جمال قدوسی
چاند کے سامنے بےچارہ ستارہ کیا ہے
پرکشش منبعِ انوار ہیں تیری آنکھیں
التجاحسین نور صدیقی
میں سمجھتا ہوں تری دید کو یوں آبِ حیات
مجھ پیاسے سے جو بیزار ہیں تیری آنکھیں
سیدعزیزالرحمٰن عاجز
حسنِ دنیا سے پرے تجھ میں جھلکتا ہے جمال
اک الٰہی کا چمتکار ہیں تیری آنکھیں
ضمیراحمد ضمیرقاسمی
اک نظر ہی میں بدل دیتی ہیں رنگِ محفل
حسنِ فطرت کی اداکار ہیں تیری آنکھیں
عبدالرحمٰن راشد عمری
دیکھتے ہی مرا دکھ درد سمجھ لیتی ہیں
اے مرے یار سمجھدار ہیں تیری آنکھیں
ایڈوکیٹ شاداب شبیری
جادوئی آنکھ تری اس پہ ترا مکرِ حسیں
کتنی فنکار و عیار ہیں تیری آنکھیں
محبوب عالم محبوب عالیاوی
کل ہی تو، تونے محبت کے کیے تھے وعدے
آج کیوں مائلِ انکار ہیں تیری آنکھیں
جمال شاکر بھرتھناوی
اک نظر دیکھ لیں جس کو وہ فنا ہوجائے
وار کرتی ہوئی تلوار ہیں تیری آنکھیں
نیاز کپلوستوی
یوں تو جاوید لگیں نیل کمل کے جیسی
اور کبھی دیکھا کہ انگار ہیں تیری آنکھیں
ڈاکٹر جاوید کمال
یہ نگاہیں تجھے پلکوں میں سماتی ہیں صفی
روز و شب کرتی یہ اظہار ہیں تیری آنکھیں
صفی الرحمٰن صفی
اک نظر میں جسے چاہیں تو بنادیں مجنوں
پرکشش جادوئی فنکار ہیں تیری آنکھیں
عبدالرب جوہر
دردِ ہجراں ہو کہ تسکینِ محبت کا سفر
مرہمِ جاں بھی ہیں آزار ہیں تیری آنکھیں
اعجاز سراجی
تو زلیخا ہے تو پھر یاد رہے یہ تجھ کو
حسنِ یوسف کی پرستار ہیں تیری آنکھیں
ارشد اقبال
تیری آنکھوں میں سنورتا ہے مرا سارا جہاں
میرے احساس کا سنسار ہیں تیری آنکھیں
عبدالرب اسد بستوی
رو برو جو بھی ہوا اس کا جنازہ نکلا
آلہ ء قتل ہیں تلوار ہیں تیری آنکھیں
محمدجمال اجمل
خانہ ء دل میں اتر آیا ہے جادو ان کا
جب سے آںکھوں سے ہوئی چار ہیں تیری آنکھیں
عبدالماجدماجد
زینت رخ کا ہی اظہار ہیں تیری آنکھیں
ہاں مرے عشق میں سرشار ہیں تیری آنکھیں
عبدالقیوم ہمدم علی نگری
پھول شبنم کبھی انگار ہیں تیری آنکھیں
قتل کرنے کو بھی تیار ہیں تیری آنکھیں
جنیدفرہاد لٹیاوی
یہ مرے رب کی عنایت ہے جو پایا تجھ کو
رب کی نعمت کے ہی آثار ہیں تیری
قاریہ محمدقاسم
رازِ الفت کو چھپائیں بھی تو کیسے ہاشم
بےزباں عشق کا اظہار ہیں تیری آنکھیں
عبدالرحیم ہاشم سراجی
ایک پل میں اشاروں کو سمجھ لیتی ہیں
میں سمجھتا ہوں سمجھ دار ہیں تیری آنکھیں
شیو ساگر سحر
ان کےعلاوہ عبدالرقیب سابق پردھان کمہریا نے بھی اشعار سنا کر سامعین کو محظوظ کیا ، شیخ عزیزالدین سلفی ،شیخ شکیل ضاغط جھکہیاوی ، شفیق فیضی ،یحییٰ وغیرہ شریک رہے۔
