ریاض (منصور قاسمی)

ریاض کی فعال ادبی تنظیم "عالمی اردو محور” کے زیرِ اہتمام معروف شاعر خورشید الحسن نیّر کی ریاض آمد پر ایک پروقار شعری نشست اور پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ خورشید الحسن نیّر القصیم سے ریاض پہنچے تھے ۔ ذمہ دارانِ عالمی اردو محور نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیا۔

اس نشست کی صدارت افتخار راغب نے کی اور خورشید الحسن نیّر مسند اعزاز پر براجمان رہے ۔ نظامت کے فرائض منصور قاسمی نے انجام دیے۔

نمازِ عشاء اور پر تکلف عشائیہ کے بعد عبدالرحمن راشد کی تلاوت کلام پاک سے باضابطہ نشست کا آغاز ہوا۔ منصور قاسمی نے مہمان اعزازی کا تعارف کراتے ہوئے کہا : خورشید الحسن نیّر ادبی فورم ریاض کے قدیم اور مخلص کارکن رہے ہیں ، وہ تیس سالوں تک ریاض میں مقیم تھے ۔ کہنہ مشق شاعر ہیں ۔ آپ کے والد بھی شاعر تھے اور وہ دو شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔ نیّر کو ذوق سخن وراثت میں ملا ہے ۔ ان شاءاللہ ان کا بھی شعری مجموعہ عنقریب آ رہا ہے ۔ "

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مہمانِ اعزازی خورشید الحسن نیر نے کہا: ایک طویل مدت کے بعد آپ احباب سے مل کر بے حد خوشی ہوئی اور جس محبت سے آپ سب نے میری پذیرائی کی اس کے لئے ممنون ہوں ۔ افتخار راغب صاحب سے غائبانہ تعلق تھا آج بالمشافہ مل کر دل باغ باغ ہو گیا – عالمی اردو محور شاندار کام کررہا ہے ۔”

صدر محفل افتخار راغب نے کہا : تمام شعراء نے عمدہ کلام پیش کیے ۔ خورشید الحسن نیّر سے مل کر بے انتہا خوشی ہوئی ۔ آمد کی خبر سن کر استفادہ کا موقع ہاتھ آیا۔ تمام شعرا نے عمدہ کلام پیش کیے۔ "

محفلِ شعر میں افتخار راغب اور خورشید الحسن نیر کے علاوہ طاہر بلال، حسان عارفی، منصور قاسمی، سراج عالم زخمی، ضیا عرشی علیگ، سعید اختر اعظمی، راشد عمری اور دانش ممتاز نے متعدد منتخب غزلیں پیش کیں اور خوب داد و تحسین کے نذرانے وصول کیے۔ پیش ہیں چند منتخب اشعار:

 

اب اترجائے روح تک نہ مری

تیری کھڑکی میں جو اداسی ہے

افتخار راغبؔ

جانے کس کو ہو ضرورت جھوٹ کے میدان میں

پھر رہا ہوں ہاتھ میں اک سچ کی پرچھائی لیے

خورشید الحسن نیر

کتنے بھلے سخن کہے اجداد نے مرے

دے کر لبوں کو لذتِ اردو کہاں گئے

طاہر بلال

دعا کی واپسی میرا نصیب تھا حسان

بچھڑ کے ہونٹوں سے دوبارہ آہ مل نہ سکی

حسان عارفی

اے چراغِ شامِ ہستی شان سے جل یا ہو گُل

سسکیاں بھرتی ہوئی یہ زندگی اچھی نہیں

منصور قاسمی

ہم اپنے غم کی حقیقت بیان تو کر دیں

مگر ہماری زبانی کہانی لگتی ہے

سراج عالم زخمی

آنکھوں کے راستے کوئی دل میں اتر گیا

خاموش چپکے چپکے ہوئی وارداتِ عشق

سعید اختر اعظمی

لب پہ بخشا تھاجس کے تبسم وہی

میری راہوں میں کانٹے بچھاتا رہا

عبدالرحمن راشد عمری

باقی رہے یہ مَوْسِمِ گُل رَنگ ہَمِیشہ

خُوشْبُو کا سَفَر اور تِیرے سَنگ ہَمِیشہ

دانش ممتاز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے