عظیم بادشاہ بھالکی کی قیادت میں کرناٹک سے وفد کی شرکت
بیدر۔ (پریس ریلیز): سماجی جہدکار اور مصنف نریندر دابھولکر شہیدکی 10ویں برسی (20؍اگست )پر مہاراشٹرااندھ شردھا نرمولن سمیتی(MANS) نے ’’جٹا(چوٹی ) مکتی ابھیان‘‘ چلایاتھاجس کی قیادت نندنی جادھو نے کی۔ سالہاسال سے اپنے سرکے بال نہ نکالتے ہوئے انہیں دیوی کے بال کہہ کر بالوں کابوجھ ڈھورہی خواتین سماج میں جی رہی ہیں۔ ان کو اس بوجھ سے آزادی دِلانے کے لئے نندنی جادھو نے 250خواتین کو بالوں کے اس بوجھ سے آزادی دِلائی ۔ اس کام کولوگوں سے متعارف کرانے کے لئے پونہ کے بال گندھروا رنگ مندرکی آرٹ گیلری میں تصاویر کی نمائش 16اور
17؍اگست کو رکھی گئی تھی ۔جو انتہائی کامیاب رہی ۔ ہزاروں افراد نے اس نمائش میں حصہ لے کر اس کام کی تعریف کی۔بیدر سے ایک وفد جناب عظیم بادشاہ بھالکی کی قیادت میں پونہ پہنچاتھا۔ اس موقع پر نریندر دابھولکر شہید کی دختر نیک اختر مکتا پٹ وردھن اور ان کے فرزند حمید دابھولکر بھی موجودتھے۔ محترمہ نندنی جادھو اور مکتاپٹ وردھن نے مہاراشٹرااندھ شردھا نرمولن سمیتی(MANS)کے کام کو کرناٹک میں بھی شروع کرنے کی توقع ظاہر کی۔ اوریہ بھی بتایاکہ کرناٹک میں بھی ہمارے ادارہ سے جڑے کچھ لوگ ہیں۔ بید رکاوفد اس کام سے جڑجائے۔واضح رہے کہ نریندر دابھولکر کو 20؍اگست 2013ء کو گولی چلاکرشہید کردیاگیاتھا۔دائیں بازو والوں پر اس کاالزام لگاتھا۔ پھر 2014ء میں نریندردابھولکر کو بعدازمرگ پدم شری ایوارڈ سے نوازاگیا۔لوگوں نے اس بات پر حیرت کااظہار کیاہے کہ 10سال بعد بھی دابھولکر کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔ دابھولکر ایک خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ ملحد تھے۔
