ابو احمد مہراج گنج

ادھر تقریباً ایک ہفتے سے واٹس ایپ کے بیشتر گروپ میں مودودی ،جماعت اسلامی اور ان کی گمراہی کو بیان کرنے کی اک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے ہر کوئی مودودی اور ان کی جماعت کو گمراہ بتانے میں دوسرے پر سبقت لے جانے کے فراق میں ہےاور کوشاں ہے کہ مودودی اور ان کے جماعت کی ایسی بکھیا ادھیڑےکی لوگ دانتوں تلےانگلی دباتے نظر آئیں ۔

میں نہ تو جماعت کا ہمنوا ہوں اور نہ ہی اس سے منسلک ۔مگر میں محسوس کررہا ہوں کہ جس قدر واویلا مچایا جارہا ہے یہ سب بھارت میں مسلمانوں کے مستقبل کے لیے مفید اور نیک فالی کی علامت نہیں ہے ۔

بالفرض اگر جماعت اسلامی کے امیر ،بانی ،رہنما گمراہ عقائد کے تھے ،تواس کا عذاب اور ثواب تو ان کا مقدر ہے۔

لیکن جن تحریروں کےلئے ان کو موردالزام ٹھرایاجاتا ہے ۔وہ تحریریں دیوبندی علماء کی نظر میں گمراہی کا سبب ہیں لیکن کیا ان علماء کے گمراہ کہہ دینے سے کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بھی گمراہ ٹھہر جائے گا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب ہم اہل حدیث کو بھی گمراہ ،بریلوی کو بھی گمراہ،تبلیغی کو بھی گمراہ اور جماعت اسلامی کو بھی گمراہ ثابت کرہی چکے ہیں تو اب بچا ہی کون ہے ۔؟سواۓ چند دیوبندی کے ۔

یہ بھارت ہے پاکستان تو ہے نہیں کہ یہاں غامدی، مماتی، حیاتی اور چکڑالوی کو بھی تختہ مشق پر لایا جائے گا۔

پورا میدان صاف ہے، بس دیوبندی ہی روئے زمین خاص کر بر اعظم ایشیا پر ایسا فرقہ ہے جو ہر طرح کی گمراھی ، گستاخی، کج فہمی اور کج روی سے پاک و صاف ہے۔ بقیہ ساری دنیا میں موجود مسلمان میں کوئی ملحد تو کوئی متشدد کوئی گمراہ تو کوئی گستاخ ہے۔

مجھے اس پر افسوس بھی نہیں ہے کیونکہ اس کو ملحد اس کو کافر اس کو مشرک اس کو بدعتی، اس کو جہنمی کہہ کر ہی تو کچھ کی پہچان بنی ہے۔

اگر ہم بڑے ہیں تو ہم کو اپنے بڑکپن کا مظاہرہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ منافقین کو بھی مسلمان مان کر اپنی جمعیت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا نبوی طریقِ کار تو حدیث پڑھنے اور پڑھانے والے بخوبی جانتے ہوں گے ۔

اگر سیاسی مفاد پیش نظر ہو تو ہم سارے گمراہ جماعتوں کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور جب اپنی مسند اور خانقاہوں میں گوشہ نشین ہوتے ہیں تو گروہ بازی کو ہوا دینے میں دیر نہیں لگتاتے ہیں ۔

کچھ مذہبی اسکالر تو اپنی آنکھوں پر ایسے چشمہ لگائے ہوئے ہیں جس سے شرک، کفر، نفاق، گمراہ، بدعقیدہ لوگ ہی نظر آتے ہیں، ان کو ان مسلمانوں میں موجود 99% اسلام نظر نہیں آتا ہاں مگر 01٪ موجود کمی کوتاہی ضرور نظر آتی ہے ۔

نہ جانے کیوں کسی کو مشرک، کافر، ملحد، گمراہ، قرار دینے والی تحریروں کو پڑھ کر دل بیٹھنے لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ بھارت میں جب ہی رکے گا جب سجدہ میں جھکنے والے سروں کا مینار بن جاۓگا، اور پہچاننا مشکل ہوگا کہ کس کا پائجامہ اونچائی پر تھا اور کس کی ٹوپی بلند ترین تھی۔ کس کی داڑھی کے بال ناف تک تھے تو کس کے گال کو بوسہ دینے والے ۔

منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے