نوراللہ خان

پہلے صرف شہری افراد اور مالدار لوگوں کو شوگر ہوتا تھا۔ اب یہ دونوں لوگ کافی سدھر گئے اور احتیاط کررہے ہیں۔

دوسری طرف کسان یا گاؤں اس کا شکار ہیں۔ مشینوں سے کھیتی کا ماحول بن گیا۔ آر دن کھیتی کرکے سب چوراہے پر پیاز، گوبھی، کیلا اور دیگر قسم کی پکوڑی اور تلی ہوئی چیزیں کھاکر روز پانچ سے سات چائے پیتے ہیں۔ محنت ہے نہیں۔ ٹریکٹر سے کھیتی ہے۔ دوڑنے کا ماحول نہیں ہے۔ صبح دیر تک سونے کی روایت ہے۔ موٹے لوگوں کو بڑا اور دبنگ مانا جاتا ہے۔ یہ جاہلانہ طریقہ بر صغیر میں بہت زیادہ رائج ہے۔

لائف اسٹائل ایک فیصد لوگ جانتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔ باقی غربت یا سماجی رہن سہن کا انداز ایسا ہیکہ ان کو بیماری آنے کے بعد صحت کا خیال یا اسکی افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

چوک چوراہے برصغیر کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ پورا پورا دن لوگ چوراہے پر غیبت میں لگاتے ہیں یا نام ونمود میں گزارتے ہیں۔ چوراہے نا صرف وقت گزاری، بے جا اسراف کا اڈہ ہیں بلکہ نکما پن کی جانب دھکیلنے کا ذریعہ ہیں۔ چوک چوراہے پر جمی ہوئی مجلسیں طلبہ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ وہاں کی محفلوں سے متاثر ہوکر گھروں سے دور جاکر ہجرت کرکے کچھ بڑا کرنے کی ہمت نہیں آتی ہے۔

ادھیڑ عمر کے لوگ جو ابھی پیتالیس یا پچاس کے ہیں۔ بہت کچھ کررہے ہیں یا کرسکتے ہیں۔ ایک بچہ بھی دس ہزار کمانے لگا تو وہ سب کچھ چھوڑکر کھیت کو بٹائی پر دیکر چوراہوں پر نظر آتے ہیں۔

کئی کروڑ لوگ شطرنج کھیلتے ہیں اور پوری زندگی صرف گھر کی سبزی لانے میں گزارتے ہیں جبکہ یہ چھوٹا موٹا بزنس کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سب محنت سے دور چائے نوشی کرکے بیماریاں پالتے ہیں اور مزید گھروں پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔

کنجوسی اور صحت سے ناواقفیت یا روایتی ذہنیت کا یہ حال ہیکہ ہمارا سماج ہیلتھ چیک اپ کو فالتو اور بے جا خرچ سمجھتا ہے۔ دو چار ہار خرچ کرکے جو انسان پرہیز کرکے پانچ دس لاکھ کی بیماری سے بچ سکتا ہے وہ انسان بیماری آنے کے بعد بھی سالوں تک جھولا چھاپ ڈاکٹروں کے پاس جان بوجھ کر بخیلی کی وجہ سے جاتا ہے۔ اور جو ڈاکٹر مناسب ٹیسٹ وغیرہ کرکے علاج کرنا چاہے اسے لٹیرا کہکر بیماری کی شدت بڑھاتے ہیں۔ اور پھر آخر میں کسی بڑے شہر کے اسپتال میں لیٹ جاتے ہیں۔ افسوس تو ان کے اقرباء پر ہوتا ہیکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی سبق نہیں لیتے ہیں بلکہ وہ خود اسی طرح لاپروائی کرتے ہیں جیسا اس مریض نے مسلسل کیا ہوتا ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق ہر سال دس سے پندرہ لاکھ لوگ شوگر کے سبب دنیا میں مرتے ہیں۔

یہ تلخ بات مگر ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ چوراہے اگر کنٹرول میں آجائیں تو سماج میں سدھار، جرائم اور صحت کے مسائل میں کافی بہتری آسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے