ابو احمد مہراج گنج

فلسطین اور غزہ پر یہودیوں کی بمباری اور معصوم بچوں یا فلسطین میں مسقبل کے معماروں کی مسماری اب ہمارے مردہ ضمیر پر کوئی دستک نہیں دے رہی ہے ۔یہودیوں کے ذریعے فلسطین میں کیے جارہے قتل عام اور نسل نو کو مٹانے کی مذموم کاروائی اب ہم مسلمانوں کے لیے کوئی قابل ذکر بات نہیں رہ گئی ہے۔

یہودیوں نے جس طرح بچوں اور عورتوں کو ٹارگٹ کیا ہے اس سے یہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ اس ارض فلسطین سے اقصیٰ کے تحفظ کے لیے پیدا ہونے والی نسلوں کو معدوم کرنے پر کام کررہا ہے اور مسلمان جو ہیں وہ اپنے گھر ،بیوی ،بچوں کے ساتھ مست خرام ہیں ۔

ذرا اک بار فلسطین میں شہید کئے جانیوالے بچوں کی جگہ اپنے بچوں کی تصویر لگاکر دیکھئے،اک بار فلسطین میں قتل کی جارہی ماوں کے جگہ اپنے بچوں کی ماں کا تصور لائیے اس تصور اور فلسطین کی موجودہ تصویر سے اگر آپ کی آنکھوں میں نمی نہیں ہیدا ہورہی ہے آنکھوں کے مژگاں پہ موتیوں کی جھڑیاں نہیں لگ رہی ہیں تو ہمیں اورأپ کو اپنے دل میں جھانک کر دیکھنا چاہئیے کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی” تری المؤمنین فی تراحُمِہم وتوادِّہِم وتعاطُفِہم کمثل الجسد إذا اشتکٰی عضوا تداعٰی لہٗ سائر الجسد بالسہر والحمٰی۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲)

’’تم مومنوں کو آپس میں رحم دلی، محبت اور شفقت میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے، جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم میں بے چینی اور بخار محسوس ہوتاہے۔‘‘

۲:-’’المؤمنون کرجل واحد إن اشتکٰی عینُہٗ اشتکٰی کلُّہٗ وإن اشتکٰی رأسُہٗ اشتکٰی کلُّہٗ۔‘‘ (رواہ مسلم،بحوالہ مشکوٰۃ:۴۲۲)

’’تمام مومن ایک شخص کی طرح ہیں، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کا سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔‘‘ پر کس قدر یقین ہے۔اور ہماری حالت کیا ہے ۔حضور پاک صلی علیہ وسلم کےا س فرمان میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے!!ہاں اب ہم کو ہمارے دعوے مسلمانی کے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے ۔

ہم بھارتیہ مسلمان قبلہ اول اور اس کے لیے جام شہادت نوش کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ ۔اگر کچھ نہیں کرسکتے تو قبلہ اول کے تحفظ اور اس کے لیے سینہ سپر ہونے والوں کی فتح ونصرت کے لیے اللہ رب العزت کے حضور میں دعائیں تو کر ہی سکتے ہیں ۔کبھی تنہائی میں فلسطین اور اہل فلسطین کے لیے رحمت ،نصرت،اور عزیمت کے لئے اللہ رب العزت کے حضور اپنے دامن کو تو پھیلا سکتے ہیں !! اگر ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔تو ہمیں چاہئے کہ اپنے ایمان اور اپنے مسلمان ہونے کا ٹیسٹ کرالیں ،چیک اپ کرالیں کہ ہم میں ایمان اور اسلام کے کتنے شعبے یہودیت زدہ ہوگیے ہیں ۔ہمارے جسموں کے شریانوں میں گوشت پوست کے خلیوں میں یہودیت اور ان کے اخلاق رذیلہ کے جراثیم کس حد تک اپنا گھر بنا چکے ہیں ۔

جبھی تو ہم اپنے بچوں کے قاتلوں سے، اپنی اسلامی بہنوں کے خون سے فلسطین کو رنگ دینے والے یہودیوں کی مصنوعات سے نفرت نہیں پیدا کر پارہے ہیں ۔ان کے مصنوعات کا استعمال ترک نہیں کررہے ہیں ۔ہمارے ترک کرنے سے ان یہودیوں کو کوئی نقصان پہنچے یا نہ پہنچے۔ہمارے مقاطعے سے ان یہودیوں مصنوعات کی مارکیٹ گھٹے یا نہ گھٹے ہمارے ایمان اور ہمارے مسلمان ہونے کی حمیت اور غیرت کا گراف ضرور بلند ہوجاۓ گا۔ہم اپنے آپ سے شرمندہ نہیں ہوں گے کہ ہم اپنے اسلامی بھائیو ،اسلامی بہنوں کے قاتلوں کے سامان استعمال کرتے ہیں ۔خدا نخاستہ اگر کوئی دکان دار آپ کے بچے کو قتل کردے۔أپ کی بیوی کو بیوہ کردے اور آپ کے بچے کو یتیم کردے تو آپ اس سے کوئی سامان خریدیں گے نہیں ہرگز نہیں بھوکوں مرجائیں گے لیکن اس دکان دار سے سامان نہیں خرید سکتے ہیں!!!

تو پھر ہم کیوں یہودیوں کے مصنوعات کا استعمال کررہے ہیں ، کیوں نہیں ہم اس سے باز آرہے ہیں ۔ہم کس منھ سے بیت اللہ میں جارہے ہیں جبکہ بیت المقدس کے غاصبوں سے ہمارے مراسم ہیں ۔ہم کس منھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھ رہے ہیں جب کہ یہودیوں سے ہمارے تجارتی تعلقات ہیں ۔ہم کس منھ سے سجدے میں سر رکھ رہے ہیں جبکہ قبلہ اول میں ناپاک یہودیوں کی فوجیں ٹہل رہی ہیں ۔سچ ہے ہم میں شرم باقی نہیں ہے۔

کعبہ کس منھ سے جاوگے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے