بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): بیسک ایجوکیشن بورڈ اترپردیش کے اساتذہ شعراء پر مشتمل ادبی تنظیم پرواز کے زیراہتمام چوبیسواں آن لاٸن مشاعرہ و کوی سمیلن منعقد ہوا۔ یہ پروگرام ڈائریکٹر بیسک ایجوکیشن کی ایماں پر اور عبدالمبین کی فعال سرپرستی میں کرونا کے وقت سے ہو رہا ہے۔عبدالمبین سر نے اس موقع پر بتایا کہ اس میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ و ملازم اپنی شاعری پیش کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سماج اور طلبا کو مثبت سوچ دیتے ہیں۔
آج کے مشاعرے کی صدارت معتبر شاعر و استاد عدیل منصوری جو صدر جمہوریہ سے اعزاز حاصل کرچکے ہیں نے فرمائی۔ اور مہمان خصوصی روی شکل تھے جو ایک بلند ترین شاعر گیت کار، رنگ کرمی بھی ہیں۔ شاعری اور ڈرامے کے ذریعے بہترین خدمات انجام دے چکے ہیں۔ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
ایسی ترکیب ملے بات سرل ہو جائے
آپ سے بات کروں اور غزل ہو جائے
عدیل منصوری
وطن کے واسطے چلیے زرا عزم جواں لے کر
چلے ہیں ہم جدھر کو پرچم ہندوستاں لے کر
محبت کی زباں بس عام ہو جائے یہ خواہش ہے
اسی جذبے سے ہی پھرتا ہوں میں اردو زباں لے کر
فاروق عادل لکھنؤ
ملک کی ترجمان ہے اردو
دل ہے ہندی اور جان ہے اردو
یعقوب صدیقی عزم گونڈوی
کسی کی مسکراہٹ نے سنبھالا
جو گھر لوٹے تھکن سے چور ہو کر
جناردن پانڈے ناچیز لکھیم پوری
لکھے ہیں درد اشکوں سے لبوں سے گنگنایے ہیں
سخنور اس زمانے میں بھلا کب مسکراے ہیں
ڈاکٹر پون مصرا کانپوری
چلو طوفان سے لڑنے کا کچھ جزبہ دکھاتے ہیں
کہ اپنے حوصلوں کو آج پھر سے آزماتے ہیں
اکھلیش پانڈے
اماں تم ہم سب میں ہو کر جانے کتنی دور گیی
میرے جیون کے ہر دکھ کو کرکے چکناچور گیی
اسکے علاوہ مردلا شکلا نوئیڈا، ڈاکٹر رینو دیوی ہاپڑ، نیشنل اوارڈی ٹیچر آسیہ فاروقی فتحپور، ارچنا دویدی اجودھیا، ارچنا سنگھ پرتاپگڑھ،ڈاکٹر عتیق دانش بجنور، پنڈت بھانو پرتاپ تیواری بدایوں، پشپیندر کمار بارہ بنکی، الوک شریواستو کانپور دیہات، مہیش چندر گونڈہ اور نیے سال کے عنوان سے عبدالمبین نے کلام پیش کیا۔ یہ پروگرام حسب روایت پرواز کے تکنیکی جادوگر شوم سنگھ جونپور اور محمد منصور احمد لکھنؤ کے زریعے فیس بک اور یوٹیوب پر آن لائن رہا۔ملک کے کونے کونے سے اس پروگرام کو دیکھا گیا اور پزیرائی کی گئی۔ مشاعرے کی نظامت اکھلیش پانڈے اکھل نے کی۔
