سدھارتھ نگر: جیسا کہ آپ کو پہلے سے معلوم ہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و ادیب اور جامعة الإصلاح و جامعة المحسنات کے بانی و ڈائریکٹر مولانا ممتاز احمد معروف بہ سالک بستوی رحمہ اللہ کا کل بروز سنیچر نیپال کے ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا ہے، ان للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا موصوف ہنس منکھ، خلیق و ملنسار، احکام شریعت کے پابند، خوش فکر و سنجیدہ عالم دین اور جماعت اہلحدیث کے کہنہ مشق و قادر الکلام شاعر تھے۔
معتمد ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ان کی نماز جنازہ آج بتاریخ :4/2/24 بروز اتوار بعد نماز ظہر بوقت دو بجے دن ان کے آبائی گاؤں غوری، بجہا بازار، سدھارتھ نگر کے قبرستان میں پڑھی جاۓ گی۔ ان شاءاللہ۔
آپ تمام حضرات سے گزارش ہے کہ بشرط سہولت و فرصت زیادہ تعداد میں شریک ہوکر ثواب حاصل کریں۔
اللہ تعالی مولانا موصوف کی حسنات، طاعات و عبادات اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو شرفِ قبولیتِ سے نوازے اور بشری لغزشوں کو در گذر کرتے ہوئے جنت الفردوس کا مکین بنائے اور تمام لواحقین و پسماندگان اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمين۔
ناظم ضلعی جمعیت اھل حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے تمام قارئین کرام سے پرخلوص دعائے مغفرت کی درخواست کی ہے-
إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ".
اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته والهم أهله وذويه الصبر والسلوان۔
