ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی یوپی، انڈیا
بخش دی عالمی پہچان ذرا دیکھو تو
مجھ پہ رب کا مرے احسان ذرا دیکھو تو
سارے پھولوں کی صفات اس کے بدن میں ہیں بھری
وہ تو ہے پورا گلستان ذرا دیکھو تو
آپ کے ساتھ کے بن، جان کسی دن آکر
زندگی کتنی ہے ویران ذرا دیکھو تو
جس کا دنیا سے کرایا ہے تعارف میں نے
آج مجھ سے ہے وہ انجان ذرا دیکھو
آ رہا ہے بڑی تیزی سے مٹانے کو تمہیں
اشک اور آہ کا طوفان ذرا دیکھو تو
جب بھی پلٹے گا تو آئے گا مرے پاس ہی وہ
اس کا کیا کوئی ہے امکان ذرا دیکھو تو
حسنِ شہکار بھی بن اس کے ہے بے معنٰی سا
عشق کو کیا ہے ملی شان ذرا دیکھو تو
آگئی ان کے عیادت کو "ذکی” آتے ہی
ڈوبتی نبض میں پھر جان ذرا دیکھو تو
