نمازِ جنازہ میں نظر آیا سوگواروں کا سیلاب
انوار الحق قاسمی (ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال): گزشتہ سے پیوستہ روز (27/جون 2024ء) شام میں جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر مولانا محمد شفیق الرحمن صاحب قاسمی کا بذریعہ ایمو فون آیا کہ مولانا! کچھ خبر معلوم ہوئی ہے،تو میں نے کہا کہ : حضرت کیسی خبر؟ تو مولانا نے کہاکہ:’ابھی ابھی حضرت کا انتقال ہوگیا ہے،تو میں نے کہاکہ:کس حضرت کا؟تو مولانا نے کہا کہ: جمعیت علماء نیپال کے بانی اور ہم سب کے مربی حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صاحب انتقال کرگئے ہیں (اتنا مجھے سنناتھا کہ میرے دل و دماغ کی کیفیت ہی بدل گئی اور میں نے فوراً کہا:انا لله وانا إليه راجعون) کہ حضرت کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر ڈال دیں اور جب جنازہ کے وقت کی تعیین ہو جائے گی،تو پھر جنازہ کے وقت کا بھی اعلان کردیجیۓ گا،ابھی سردست انتقال کی خبر ڈال دیں،پھر مولانا نے والد محترم حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری سے اس سانحہ کے متعلق گفتگو کیا۔
   چوں کہ میرے ساتھ معاون ڈائریکٹر نیپال اسلامک اکیڈمی تھے ،تو انہوں نے کہا کہ: کیا کوئی سانحہ پیش آیا ہے؟تو میں نے کہا کہ ہاں نیپال کا آفتاب آج غروب ہوگیا،تو معاون ڈائریکٹر نے کہاکہ :کس شخصیت کا انتقال ہواہے؟تو میں نے کہا کہ :اب جمعیت علماء نیپال کے بانی حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صاحب اس دنیا میں نہیں رہے:انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اور پھر پروین شاکر کا یہ شعر’ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا*آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا’ میرے دماغ میں گردش کرنے لگا۔پھر میں نے پانچ منٹ کے وقفے کے بعد حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صاحب کے انتقال کی خبر کی ویڈیو بنایا اور پھر اسے فیس بک اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کردیا۔ معاون ڈائریکٹر نیپال اسلامک اکیڈمی نے کہا کہ: حضرت کی شخصیت چوں کہ بڑی ہی نہیں ،بل کہ بہت بڑی تھی اور حضرت کو ہندوستان اور خاص کر صوبہ بہار کے لوگوں سے انسیت تھی اور وہاں حضرت کے چاہنے والے بہت ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ حضرت کے انتقال کی خبر ہندوستان کے اُردو اخبارات میں بھی شائع کر دیئے جائیں،تو میں نے کہا کہ ایسا کیجئے کہ خبر آپ ہی لکھ دیجئے !چناں چہ انھوں نے خبر لکھ کردیا اور میں نے اسے ہندوستان کے تین اخبارات:(1) سہارا ایکسپریس پٹنہ(2) روزنامہ الحباب دہلی (3)نیوز لائن کولکاتا،میں شائع کروادیا،جس کے تراشے فیس بک اور علماء نیپال گروپ میں بھی ڈال دیئے گئےتھے۔
   کل ہوکر یعنی جمعہ (28/جون 2024ء مطابق :21/ذی الحجہ 1445ھ)کو بعد نماز جمعہ ،میں اور معاون ڈائریکٹر نیپال اسلامک اکیڈمی حضرت کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے راجپور گیا،تو سب سے پہلے مدرسہ محمودیہ راجپور میں قدم رکھا،تو گیٹ کی دائیں طرف دیکھا کہ حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صاحب اب بستر کی بجائے کھاٹ پر آرام فرما رہے ہیں۔وہاں حضرت کے محبین کا ایک بڑا ازدحام تھااور لوگ یکے بعد دیگرے حضرت کے پر رونق چہرے کا دیدار کررہے تھے،توہم لوگوں نے بھی حضرت کا دیدار کیا اور اس وقت شکیل اعظمی کا یہ شعر’ تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو* ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی’ میرے دماغ میں گھومنے لگا۔
   جب جنازہ گاہ کی طرف حضرت کو لےجایا گیا،تو دیکھا کہ لوگوں کا ایک بڑا مجمع ہے۔ میں تو آگے ہی تھا،اس لیے میں پیچھے کی طرف رخ کرکے حاضرین کی تعداد کا اندازہ لگانا چاہا؛مگر لوگ اتنے کثیر تعداد میں تھے کہ بہت پیچھے تک لوگ صف میں کھڑے تھے،جس کی بناء آخری صف نظر نہیں آرہی تھی اور میں حاضرین کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگاسکا۔ حاضرین کی تعداد کے سلسلے میں لوگوں کے مختلف اقوال ہیں:(1) ایک لاکھ بائیس ہزار(2)ایک لاکھ پانچ ہزار (3) اسی ہزار (55)ہزار (4) چالیس ہزار ۔خیر لوگوں نے بس اپنا اپنا اندازہ لگایا،مگر صحیح تعداد کا علم تو بس اللہ ہی کو ہوگا،البتہ لوگوں کا کہنا ہے کہ’ اتنا ضرور ہے کہ ملک نیپال کے ضلع روتہٹ میں آج تک کسی شخصیت کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی اس قدر تعداد ہم نے نہیں دیکھا ہے’۔حضرت ماسٹر سراج صاحب،جو اشرف العلوم کنھواں کے استاذ ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ‘ اشرف العلوم کنھواں کے صد سالہ اجلاس میں بھی لوگوں کی اس قدر بڑی تعداد نہیں تھی،جو آج میں حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صاحب بانی جمعیت علماء نیپال کی نمازِ جنازہ میں دیکھ رہا ہوں۔
    حاضرین کی صورت سے یوں محسوس ہورہاہے کہ گویا وہ یہ شعر’ کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی*کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے’ گنگنا رہے ہوں۔
  نمازِ جنازہ سے قبل کئی ایک اہم شخصیات نے حضرت علیہ الرحمہ کی عظیم شخصیت پر اپنے تاثرات پیش کیے،جن میں چند نام یہ ہیں: مولانا مفتی محمد خالد صدیقی صاحب صدر جمعیت علماء نیپال و اعزازی سانسد نیپال،مولانا انوار الحق قاسمی سابق صدر جمعیت علماء بہار،مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری مرکزی رکن جمعیت علماء نیپال،مولانا عبد السلام صاحب صدر مدرس مدرسہ آزاد ڈھاکہ،مفتی ذکاء اللہ مظاہری شیخ الحدیث مدرسہ دارالبنات خدیجہ الکبریٰ راجپور ۔
 جنازہ کی نماز حضرت علیہ الرحمہ کے صاحب زادے قاری محمد شہاب الدین عرفانی نے پڑھایا اور پھر ہزاروں نم آنکھوں کے ساتھ حضرت کو راجپور قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
  اور حضرت علیہ الرحمہ کے سپرد خاک کے مناظر دیکھتے وقت مجھے انور مسعود کا یہ شعر’خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ*ہم نے سونا سپردِ خاک کیا’یاد آگیا۔اللہ حضرت کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے