🖊احمدحسين مظاہریؔ

 

فی الوقت ہمارا ملک جن مسائل سے جھوج رہا ہے وہ ہرکس و ناکس پر اظہر من الشمس ہے۔

آج سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جس طرح پوری انسانیت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے،اور انٹرنیٹ کی دنیا میں جس طرح نسلِ نو تباہ و برباد ہورہے ہیں،نیز اپنے قیمتی وقت کو ضائع کررہے ہیں،اس وقت منظم و مؤثر مکاتب کا نظام ہر محلے میں بلکہ ہر گلی میں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

حضوراکرمﷺنے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ۔

ترجمہ:تم سب راعی (حاکم) ہو اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیے جاؤ گے۔

مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ آدمی اپنے گھر والوں کا مسؤول ہے؛ اسے چاہیے کہ انھیں باری تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے،اس کی معصیت و نافرمانی سے روکے، نیز اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرے ورنہ عنداللہ گرفت ہوگی…….

یہ بات بھی گوش گزار کردینا ازحد ضروری سمجھتا ہوں کہ فی الوقت مدرسہ قائم کرنے سے زیادہ منظم و مؤثر مکاتب قائم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مدارس میں ایک مخصوص بچے ہیں جو ایک ہدف لیکر تعلیم حاصل کر رہے ہیں،لیکن دیگر بچے جو عصری تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کے لئے دینی تعلیم کا کوئی نظام منظم و مؤثر نہیں ہے مکاتب کے علاوہ…اس لیے مدارس و تبلیغی جماعت والے احباب ودیگر شعبہ جات والے حضرات منظم و مؤثر مکاتب قائم کرنے میں معاونت کریں۔

والدین کے لئے ایک نصیحت!

اگر کوئی باپ یہ چاہتا ہے کہ میرے بچوں کو ایمان پر باقی رہنا چاہیے، اگر وہ اپنے بچوں کو وہی وصیت کرنا چاہتے ہیں جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنےبیٹوں سے اپنی آخری عمر میں معلوم کیا تھا: ماتَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی۔ کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ اور بچوں نے جواب میں کہا تھا: قَالُوا نَعْبُدُ الٰهَكَ وَإِلَهَ اٰبَآئِكَ أَبْرَاهِمَ وَاسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ إِلهَا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔ ہم آپ کے رب،اور آپ کے آباو اجداد ابراہیم علیہ السلام و اسمعیل علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام کے رب یعنی ایک خدا کی عبادت کریں گے اور ہم لوگ ان پر ہی اسلام لانے والے ہیں۔

اگر ہمارا یہ جذبہ ہے کہ ہمارے بچوں میں توحید کا پیغام زندہ رہے، اسلام اور کفر کا فرق ان کے دل و دماغ میں رہے وہ اس اسلام پر قائم رہیں، تو اسکول کی تعلیم کے ساتھ علاحدہ وقت میں مکتب کی تعلیم انہیں ضرور دلانی ہوگی۔

مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحبؒ فرماتے ہیں: اسلامیات کی حفاظت کے لیے مکاتب اور مدارس سے زیادہ مؤثر کوئی نہیں ہے۔ آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جو تمام موانع اور رکاوٹوں پر غالب آسکتی ہے وہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کی دینی تعلیم کو ہر تعلیم پر مقدم رکھیں گے اور بغیر اس ضروری تعلیم کے جس سے وہ اپنے پیدا کرنے والے کو اپنے پیغمبر،اپنے عقائد اور فرائض دینی کو پہچان سکیں ، خالص رواجی یا معاشی تعلیم دلانا گناہ اور اپنے مذہب سے بغاوت سمجھیں،اگر ہمارا یہ فیصلہ ہے اور ہم اس میں سچے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت کوئی ترغیب، کوئی مصلحت، کوئی تعزیر ہم کو صراط مستقیم سے ہٹا نہیں سکتی اور ہماری نسلوں کو اسلام کی نعمت سے محروم نہیں کر سکتی ہے اگر ہمارا یہ فیصلہ نہیں ہے تو حکومت کی کوئی رعایت،کوئی استثناء کوئی تحفظ کوئی انتظام ہم کو فساد و الحاد اور انحراف وارتداد سے بچا نہیں سکتا ہے جس ارتداد کی طرف دنیا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ فرماتے ہیں: اگر مکاتب اور مدارس میں صحیح طریقے سے تعلیم کا نظام قائم ہوگا تو امت کے ایمان اور اسلام کو باقی رکھنے کے لیے کوئی خطرہ نہیں ورنہ امت گمراہیوں میں مبتلا ہوجائے گی۔

حضرت مولانا شبیر عثمانیؒ فرماتے ہیں: قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے بعد بچہ سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن کافر نہیں ہوسکتا۔

لہذا تمام قارئین سے استدعا ہے کہ منظم مکتب قائم کرنے کی فکر کیجیے اور اس کو بروئے کار لانے کے لیے منظم مکاتب والوں سے رابطہ کیجیے۔

حق جل مجدہ ہمیں منظم و مؤثر مکاتب قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے