ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگی ماہرین کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کبھی بھی جنگی بگل بج سکتا ہے صِرف اتنا ہی نہیں ایران اسرائیل پر 3 سے 4 دن تک لگاتار حملے جاری رکھے گا کیوں کہ امریکا،برطانیہ اور فرانس اب کھل کر اسرائیل کی حمایت میں اُتر گئے ہیں اور ایران کو لگاتار دھمکیاں دے کر اُسکے غصّے کو بڑھا رہے ہیں اصل میں وہ ان دھمکیوں سے ایران کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کھڑے ہیں اِس طرح امریکا مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھا کر مڈل ایسٹ کے ملکوں کو ڈرانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہ سمجھ رہا ہے کہ اُسکے ساتھی برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی اسرائیل کے ساتھ مل کر جس طرح ماضی میں عرب ملکوں کو یورپین ایک جٹتا سے ہرا لئے تھے اُسی طرح پھر سے تاریخ دوہرا لینگے لیکِن یہاں بات کُچھ دوسری ہے یہاں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اسرائیل کو یورپی یونین صِرف ہتھیار اور گولا بارود ہی مہیا نہیں کراتی ہے بلکہ اپنی فوج اور فوجی صلاحیتیں بھی فراہم کراتی ہے اسلحہ کے ساتھ اُسکے آپریٹرز بھی بھیجتی ہے ورنہ اسرائیل کی اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ حماس کو بھی اکیلے ہرا سکے یہ صِرف اور صِرف امریکا اور اُسکے دوستوں کی طاقت پر پھولتا ہے پھولے بھی کیوں نہ یہاں موساد کے زیرِ سر پرستی  امریکی لیڈرز اور افسران کو اُنکی حیثیت کے مطابق اُنہیں خوش کیا جاتا ہے ایسے میں کون انسے پنگا لے سکتا ہے موساد جیسی شاطر تنظیم سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے امریکا اور اُسکے حامی دیش اسرائیلی موساد کی بلیک میلنگ سے ڈرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے جو امریکا ہر ناجائز کام میں اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے اور پشت پناہی بھی کرتا ہے وہیں دوسری طرف حماس کے لیڈر ہوں یا ممبرز کسی پر بھی ابھی تک عصمت دری کا الزام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک اسرائیل کی یرغمال لڑکیاں جو حماس کی قید سے آزاد ہو کر اپنے دیش اسرائیل گئیں ہیں کسی نے بھی یہ الزام نہیں لگایا ہے کہ اُنکے ساتھ کہیں کُچھ غلط ہوا ہو یا کسی نے بھی انسے جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش بھی کی ہو۔ یرغمال  بنائی ہوئی لڑکیوں نے بتایا کہ اگر کسی مرد سے کوئی چیز اٹھانے کے لئے بھی کہہ دیتے تھے تو وہ ہاتھ پر کپڑا باندھ کر ہمیں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ آپ نامحرم ہیں ہمارا اسلام سکھاتا ہے کہ ہمارا ہاتھ بھی کسی نامحرم  کے ہاتھ سے نہ چھلے اِس لئے کپڑا باندھ لیتا ہوں یہی وجہ ہے کہ آزاد ہوئی کئی لڑکیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے جبکہ اسرائیل کی قید سے آزاد ہونے والے سیکڑوں افراد ہیں جو بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی جیل میں مردوں کے ساتھ بھی غیر معمولی کام کیا جا رہا ہے بس یہی فرق ہے اسلامی اور یہودی تعلیمات کے درمیان۔

ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ ایران کسی بھی وقت اسرائیل پر حملا کر سکتا ہے جِس میں یمن کو سمندری کاروائی مکمل کرنے کا کام سونپا گیا ہے جو ادن کی کھاڑی سے لیکر لال ساگر تک امریکی بحری بیڑے جو سمندر میں موجود ہیں اُنہیں سمندر میں ہی ڈبونے کا کام يمن انجام دیگا جبکہ یمن کو قابو کرنے کے لئے اور اِس طرح کی حرکت سے روکنے کے لئے امریکا نے برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی کو اُنکے بحری جہازوں کے ساتھ یمن کے آس پاس کھڑا کر دیا ہے، جس سے یمن کو پوری طرح قابو کیا جا سکے۔ سمجھا جاتا ہے کہ حسب اللّٰہ 20 سے 40 کلو میٹر اسرائیل کے اندر گھس کر اپنے حملوں کو انجام دے گا  عراق اور شام کی میلیشیا اسرائیل پر راکٹوں سے حملے کر سکتی ہے، سائپرس میں برطانیہ کے جہازوں کو ایکشن موڈ میں اسرائیلی مدد کے لئے  تیار رکھا گیا ہے ایرانی حملے اسرائیل کی دارالحکومت تل ابیب کے بجلی گھروں کو نقصان کرینگے ایسا کہا جا رہا ہے۔ اِس میں خاص بات یہ ہے کہ یمن کے حوتی لیڈر محمد علی  نے اسرائیل کو مخاطب کرتے  ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ( اسرائیل آئی ایم کمنگ) یعنی میں آرہا ہُوں یمن کے حوتی ابھی کُچھ روز قبل ہی اپنا ڈرون طیارہ اسرائیل کی دارالحکومت تل ابیب تک پہونچا چکے ہیں جس میں ایک فرد کے مرنے کی خبر سامنے آئی تھی حوتی لیڈر کے اِس بیان سے اسرائیلی عوام میں بےچینی لازمی ہے کیونکہ یہ بیان کسی عام آدمی کا نہیں ہے بلکہ وہاں کے دُوسرے نمبر کے بڑے لیڈر مُحمد علی حوتی نے دِیا ہے اب انکے مُلک کے بارے میں بھی تھوڑی سی روشنی ڈال لی جائے جمہوریہ یمن مغربی ایشیا میں واقع مشرق وسطیٰ کا ایک مسلم ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے جنوبی سرے پر واقع ہے اور اس کے شمال میں سعودی عرب، مشرق میں اومان، جنوب میں بحیرہ عرب اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اس کی سمندری حدیں اریٹیریا، جبوتی اور صومالیہ کے ساتھ ملتی ہیں۔ یوں تو اسکا رقبہ بہت وسیع ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے یہاں دو ہزار کلومیٹر کی ساحلی پٹی پر یمن مشتمل ہے یمن جزیرہ نما عرب پر دوسری سب سے بڑی عرب خود مختار ریاست ہے۔ یمن کا دار الحکومت صنعاء ہے اور عربی اس کی قومی زبان ہے۔ یمن کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے، بےحد غریب مُلک ہے مگر کسی کے سامنے نہ جھکتا ہے اور نہ گھٹنے ٹیکتا ہے اِن خصوصیات کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل کا کم ڈاون شروع ہوگیا ہے اور ہم سب بہت جلد فلسطین کو آزاد ہوتا ہوا دیکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے