محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
گوپی چند نارنگ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’ہندوستان میںموسموں کے لحاظ سے تہواروں کے دو حصے کئے گئے ہیں۔پہلے حصے کے تہواروں کاآغاز رکشا بندھن سے ہوتاہے۔ اس کا اصلی مدعا یہ تھاکہ برسات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لئے دعا مانگی جائے۔ ا س روز برہمن یگیہ اور ریاضت کے بعد خلق خدا کی حفاظت کے لئے راکھی یعنی تعویذ تقسیم کرتے ہیں۔
پھر وہ آگے لکھتے ہیں ’’بہن کی طرف سے بھائی کوراکھی باندھنے کا رواج نسبتاً نیاہے۔ غالباً اس کاآغاز راجپوتوں سے ہوا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد پسندی کے رشتوں کومضبوط کرنے میں اس تہوار کابڑا ہاتھ رہاہے۔ ہمایوں کے عہد حکومت میں جب بہادر شاہ والی گجرات نے اودے پور پر حملہ کیاتو رانی کرناوتی نے راکھی بھیج کر ہمایوں سے مدد کی گزارش کی ۔ گوہمایوں کے پہنچنے سے پہلے چتوڑ فتح ہوگیا تھا اور رانی جوہر کرکے ستی ہوچکی تھی (یعنی ہیر اکھالیاتھا)لیکن ہمایوں نے بہادر شاہ کا تعاقب کرکے اسے گجرات سے باہر نکال دیا، جس کے کچھ مدت بعد وہ ماراگیا‘‘(بحوالہ نظیر آیا ہے باہمن بن کے راکھی باندھنے پیارے) ۔
ایک اور مقام پردوسرے مصنف نے لکھاہے ’’ملکہ کرناوتی نے جوہر کاارتکاب کرلیاتھا۔ جس کے بعدچتوڑ کو بہادر شاہ نے قبضہ کرلیا۔ یہ خبر سن کر ہمایوں غصے میںآگئے اور چتوڑ پر حملہ کردیا ۔ ہمایوں اور بہادر شاہ کے درمیان اس لڑائی میں ہمایوں نے بہادر شاہ کوشکست دی اقور ہمایوں نے ایک بارپھر ملکہ کرناوتی کے بیٹے کو اس کا تخت واپس کردیا۔ تب سے یہ کہانی تاریخ میں درج ہے اور اسے ہندومسلم اتحاد کی بہت سی عظیم مثالوں میں سے ایک کے طورپر بھی دیاگیاہے۔ معروف سیکس ورکر گنگوبائی کاٹھیواڑی کے بارے میں آتاہے کہ جب شوکت خان پٹھان نامی غنڈے نے اس کامالی اور جسمانی استحصال کیاتو
گنگوبائی اس وقت کے انڈرورلڈ ڈان کریم لالہ کے پاس پٹھان کی شکایت کرنے گئی۔ لالہ نے اسے مدد کا یقین دِلایا۔ اور بدلے میں اسے راکھی باندھ دی گئی۔ 1960؁ء کی دہائی میں کریم لالہ کی بہن کے طورپر گنگوبائی کی شہرت میں اضافہ ہوا۔
ویکی پیڈیا میں ’’رکشابندھن‘‘عنوان کے تحت اس قدر معلومات درج ہیں مثلاً’’رکشا بندھن یا راکھی کاتہوار بہن بھائیوں کے پیار، ان کے خوبصورت اٹوٹ رشتے کاتہوار ہے جو دنیا بھر میںموجود ہندوبرادری روایتی جوش وخروش سے مناتی ہے۔ راکھی کاتہوار یارکھشابندھن بھی ملنے ملانے اور گھر والوں کے ساتھ خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتاہے۔ آگے ویکی پیڈیا نے اس کی تفصیل بھی دی ہے۔ نام کے بارے میں بتایاکہ رکشابندھن ، عرفیت راکھی ، یا راکھری اور جانائی پورنیما ہے۔ہندواور جین مت یہ تہوار مناتے ہیں۔ بہن بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے اور آرتی اُتارتی ہے۔ پورنیما(پوراچاند) شراون کی تاریخ کو یہ تہوار ہوتاہے۔ آگے لکھاہے ’’اس دن ہندوگھرانوں میں بہنیں دِیا ، چاول اور راکھیوں سے سجی پوجا کی تھالی تیار کرتی ہیں اور اپنے بھائیوں کی کلائی پر پیار سے راکھی باندھ کر ان کی صحت مندی ، عمردرازی اور کامیابیوں کے لئے دعا کرتی ہیں۔ محبت کے اس اظہار کے جواب میں بھائی اپنی بہن سے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے اور اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرتاہے ۔ اور اسے تحفہ دیتاہے۔
عوامی شاعر نظیراکبرآبادی نے ’’راکھی ‘‘ کے عنوان سے جو نظم کہی تھی اسکے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے  ؎
چلی آتی ہے اب تو ہر کہیں بازارکی راکھی
سنہری، سبز ریشم، زرد اور گلنار کی راکھی
بنی ہے گوکہ نادر خوب ہر سردار کی راکھی
سلونوں میں عجیب رنگیں ہے اس دل دارکی راکھی
نہ پہونچے ایک گل کویار جس گل زار کی راکھی
اس نظم کاآخری بندھ نظیر نے کچھ یوں کہاہے   ؎
پھریں ہیں راکھیاں باندھے جو ہر دم حسن کے مارے
توان کی راکھیوں کو دیک اے جاں چاؤ کے مارے
پہن زنار اور قشقہ لگاماتھے اپر بارے
نظیرؔ آیا ہے بامہن بن کے راکھی باندھنے پیارے
بندھا لو اس سے تم ہنس کراب اس تیوہار کی راکھی
گویا نظیر اکبر آبادی تک مرد بھی راکھی باندھتے تھے۔ اور آج بھی آرایس ایس سے وابستہ افراد آپس میں ایک دوسرے کو راکھی باندھتے ہیں جس کی ترغیب آرایس ایس دیتی ہے۔ بہر حال ہمارا موضوع مسلم شعراء کی راکھی سے متعلق شاعری سے ہے۔ اس خصوص میں اس دور کی  نوجوان پاکستانی شاعرہ فوزیہ مغل نے بھی ’’راکھی‘‘ نام سے نظم کہی ہے۔ شعردیکھیں   ؎
یوں ہی دیکھوں جوراکھی کوتویہ رنگین ڈوراہے
جو دیکھوں غور سے اس کو تو ہے زنجیر لوہے کی
منوررانا جیسے معروف اور استاد شاعر نے بھی راکھی کو بہن بھائی تک محدود رکھاہے ، وہ کہتے ہیں   ؎
کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا؟
اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا؟
محسن کاکوروی نے اپنے اس شعر میں بارش بلکہ مسلسل ہونے والی بارش کا منظر راکھی بندھن کے تناظر میں باندھا ہے اور جو بات کہی ہے اس میں برہمنوں کی طرف راکھی کو منسوب کیاہے   ؎
راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں
تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت ، کوئی پل
امام اعظم کے کہنے کاانداز کچھ یوں ہے   ؎
آستھا کارنگ آجائے اگرماحول میں
ایک راکھی زندگی کارخ بدل سکتی ہے آج
جناب مصطفیٰ اکبر کاشعر ہے   ؎
بہنوں کی محبت کی ہے عظمت کی علامت
راکھی کا ہے تہوار محبت کی علامت
ایک شعر کچھ یوں ہے   ؎
زندگی بھر کی حفاظت کی قسم کھاتے ہوئے
بھائی کے ہاتھ پہ اک بہن نے راکھی باندھی
اس شعر میں قسم بہن کھارہی ہے، بھائی نہیں۔ راجستھانی بچی کا ایک گیت عنوان سے نظم ہے اس میں یہ شعر بھی ملتاہے   ؎
گھرکی صراحی کے لئے ہو جو باقی
اس میں بھگو دوں بھیاکی راکھی
 تبسم اعظمی نے ’’ضروری ہے ‘‘ نامی نظم میں یہ چندخیالات درج کئے ہیں۔ طویل نظم سے یہ چند مصرع ملاحظہ کریں   ؎
اے مرے دوست! مونس وغم خوار
عید ، ہولی ، دیوالی ، راکھی ، بسنت
سارے تہوار ہی ہمارے ہیں
لاکھ سینہ فگار ہواپنا
ہم تمہاری خوشی میں شامل ہیں
اسی طرح ڈاکٹر ثمریاب ثمرؔکے اس شعر پر ہم اپنایہ مضمون ختم کرتے ہیں   ؎
ایک مدت سے کسی نے مجھے بھائی نہیں بولا
ایک مدت سے مرے ہاتھ نے راکھی نہیں دیکھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے