تحریر: حافظ عبد الرشید عمری
بعض اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق بعض مسلمان لڑکیوں کے مرتد ہونے کا سبب انکی غریبی اور مفلسی کی زندگی میں کسی مسلم شخص کا یا کسی مسلم سماج،تنظیم اور جماعت کا ان کی مدد نہ کرنا ہے،
اور کسی غیر مسلم نوجوان نے اس لڑکی کی نوکری کے حصول میں مدد کی تو وہ لڑکی گویا اس غیر مسلم لڑکے کی ہمدردی سے متاثر ہو کر اس سے شادی کر رہی ہے،
تو گویا غریب مسلم لڑکیاں ہندوؤں کی کسی مدد سے متاثر ہو کر اور کسی ہمدردی سے متاثر ہو کر اینا دین و ایمان بیچ دیں گی؟
یہ کتنی بڑی نادانی ہے:
اگر ان لڑکیوں کو جھنم کے عذابوں کی تفصیلات معلوم ہوتیں اور کافروں کے لئے جھنم کے دائمی عذاب ہونے پر ان کامل یقین ہوتا،
تو وہ مرتد ہونے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھاتیں ۔
اور لڑکیوں کے مرتد ہونے میں بعض لوگ یہ تجزیہ بھی پیش کرتے ہیں کہ مسلم سماج میں جہیز اور شادی بیاہ کے بھاری اخراجات کی وجہ سے کئی غریب مسلم لڑکیوں کی شادی میں تاخیر ہوتی ہے،
یا ان لڑکیوں کو شادی کی امید نہیں ہوتی ہے،
تو جہیز کے بغیر کسی غیر مسلم لڑکے کی جانب مسلم لڑکیوں کو شادی کی پیشکش کی جاتی ہے،
تو یہ غریب مسلم لڑکیاں مرتد ہو کر غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے لئے آمادہ ہو جاتی ہیں۔
اور بعض مسلم لڑکیاں مذکورہ دو اسباب کی وجہ سے نہیں بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے دوران یا فون اور انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال کے دوران غیر مسلم لڑکوں سے عشق و محبت کے کھیل کھیلتے ہوئے جوانی کی اندھی شیطانی محبت میں گرفتار ہو کر والدن، خاندان اور سماج سے بغاوت کر کے ان غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے لئے مرتد ہو جاتی ہیں۔
تو گویا مذکورہ تین اہم اسباب غریبی کی زندگی میں کسی غیر مسلم کی مدد سے متاثر ہو کر اس سے شادی کے لئے مرتد ہونا،
جہیز کے سبب شادی میں تاخیر ہونے کے سبب یا شادی سے مایوس ہو کر کسی غیر مسلم لڑکے کی جہیز کے بغیر شادی کی پیشکش پر شادی کے لئے مرتد ہونا،
یا کسی غیر مسلم لڑکے کی محبت میں گرفتار ہو کر شادی کے لئے مرتد ہونا۔
تینوں میں مشترکہ سبب صرف اور صرف شادی کے لئے مرتد ہونا ہے،
اللہ تعالٰی مسلم لڑکیوں کی حفاظت فرمائے کہ اپنے انجام بد سے ناوقف یہ نادان لڑکیاں شادی کے لئے اپنے ایمان کا سودا کر رہی ہیں۔
اور بعض غریب مسلمان مرد و عورتیں شاید دولت کے لالچ میں مرتد ہوتے ہوں گے ،
اسی طرح بعض مسلمان مرد و عورتیں جان و مال کے تحفظ کے لئے بھی مرتد ہوتے ہوں گے،
اور اسی طرح بعض سیاست دان سیاسی عہدوں کے حصول یا سیاسی مفادات کے تحفظ لئے مرتد ہوتے ہوں گے۔
ارتداد کی روک تھام کیلئے عملی میدان میں قدم رکھتے ہوئے ارتداد کے اسباب کا سنجیدگی سے گہرا جائزہ لینے اور جہاں جس سبب کی وجہ سے ارتداد کی شرح زیادہ ہو،
وہاں ارتداد کے اس سبب کو دور کرنا اور امت مسلمہ کی لڑکیوں کو اور مردوں اور عورتوں کو ارتداد سے بچانا ہر مسلمان کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
ہر مسلمان کو اپنے اپنے دائرہء اختیار میں رہ کر اپنا اپنا تعاون ارتداد کی روک تھام کیلئے کی جانے والی مادی معنوی سیاسی اور سماجی کوششوں میں پیش کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
مسلمانوں کے مرتد ہونے کا مرکزی سبب:
ارتداد کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، ان اسباب سے ہرگز انکار نہیں ہے، اور ان اسباب کو معلوم کرنا اور ارتداد کے ان اسباب کا تدارک کرنا بھی ضروری ہے۔
لیکن سب سے بڑا اور اہم سبب یہ ہے کہ ان مرتد ہونے والے مسلمانوں کو دین اسلام کی صداقت پر کامل ایمان اور یقین نہیں ہے،
اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر بھی شاید ان کو کامل یقین نہیں ہے ،
اور آخرت میں کافروں کے لئے جھنم کے دائمی عذاب ہونے کا خوف بھی شاید نہیں ہے ۔
اگر مذکورہ ایمانی عقائد اور حقائق پر مسلمانوں کو کامل یقین ہوتا،
تو وہ موت کو تو خوشی سے گلے لگا لیتے،
لیکن اسلام و ایمان سے مرتد ہو کر توبہ کی توفیق نہ ملنے کی صورت میں اپنا دائمی ٹھکانہ جہنم نہ بنا لیتے ۔
اس لئے دین اسلام کی صداقت اور عقیدہء توحید کی حقیقت اور مرنے کے دوبارہ اٹھائے جانے پر کامل یقین کو مسلمانوں کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی ضرورت ہے۔
جب ایمان کی صداقت میں دلوں میں جاگزیں ہو جائے گی،
تو کوئی کسی مسلمان کو کتنی بھی اذیت دے، کتنا بھی ظلم و ستم کرے، دنیا جہاں کی مصیبتیں گھیر لیں،
ایک سچا اور پکا مسلمان اللہ کی توفیق سے اپنے دین سے مرتد ہو ہی نہیں سکتا ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑا اور اہم کام مسلمانوں کے دلوں میں صحابہ کرام جیسا پہاڑوں کی مانند مضبوط ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالٰی مسلمانوں کو تادم حیات ایمان و اسلام پر استقامت عطا فرمائے، آمین ۔

