محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) 
مدارسِ اسلامیہ میں تعلیمی سر گرمیوں کا نیا سال شوال کے پہلے ہفتہ سے شروع ہو جاتا ہے، ہر طرف تشنگان علوم نبوت اپنے اپنے مطلوبہ مدارس کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں، ہر مدارس میں جدید و قدیم طلبہ عزیز کے داخلوں کی ہماہمی ہوتی ہے، اضلاع و اکناف کے تشنہ گانِ علوم نبوت مدارس کا رخ کر تے ہوئے نظر آتے ہیں۔
 یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد سے الحمدللہ ! مدارسِ اسلامیہ ملک و ملت بلکہ انسانیت کی تقدیر بدلنے میں بہت اہم رول ادا کئے ہیں، بقول حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ "مدرسہ ہر مرکز سے بڑھ کر مستحکم، طاقتور، زندگی کی صلاحیت رکھنے والا اور حرکت ونمو سے لبریز ہے، اس کا ایک سرا نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کے چشمۂ حیواں سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے ان کشت زاروں میں ڈالتا ہے، وہ اپنا کام چھوڑ دے تو زندگی کے کھیت سوکھ جائیں اور انسانیت مرجھانے لگے، مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے، جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں، مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر ہے، جہاں سے اسلامی آبادی، بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے، مدرسہ وہ کار خانہ ہے جہاں قلب ونگاہ اور ذہن ودماغ ڈھلتے ہیں، مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے‘‘ (پاجا سراغِ زندگی)
 مدرسہ اینٹ و پتھر سے تراشے ہوئے خوبصورت عمارت یا اس کے منقش در و دیوار کا نام نہیں ہے ، بلکہ مدارس اسلامیہ کی اصل روح اس کا سارا وجود اور ان کی قوتِ تاثیر ان میں تیار ہونے والے افراد اور رجال کار سے وابستہ ہے، انسانی زندگی میں مدارسِ اسلامیہ کی تمام تر اثرات اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کیسے افراد کو نسلِ انسانی کے لیے مہیا کر رہے ہیں،
چونکہ وراثتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے حق کی ادائیگی وہ عظیم ذمہ داری ہے، جس کے تصور سے بدن پر کپکپی طاری ہونے لگتی ہے، جس ذمہ داری کو ایک زمانہ میں حضراتِ انبیاء علیہم السلام انجام دیا کرتے تھے، طالبانِ علوم نبوت دراصل اس کے امین و محافظ ہیں، العلماء ورثتہ الانبیاء نبوت والی اس عظیم ذمہ داری کے قیام کے لیے کس قدر اونچی ظاہری وباطنی صلاحیتوں اور کمالات کی ضرورت ہے، اس کا اندازہ لگانا کسی کے لئے مشکل نہیں، ان صلاحیتوں کو مختصر الفاظ میں "علم اور عمل” کے کمال سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، ایک طرف طالبانِ علوم نبوت کی اس عظیم ذمہ داری اور اس کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کی ناگزیریت ہے، دوسری طرف موجودہ وقت میں طلباءِ مدارس کا رلا دینے والا علمی وعملی انحطاط ہے، اس علم وعمل کے روز افزوں انحطاط کے سلسلہ میں ایسا نہیں کہ ذمہ دارانِ مدارس فکر مند نہیں ہیں، انہیں تو ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ تعلیمی معیار میں زیادہ سے زیادہ بہتری آئے، اس کے لئے مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے لے کر چھوٹے چھوٹے مدارس کوشاں رہتے ہیں، لیکن ان کی یہ فکر مندی اور ساری جدوجہد اسی وقت ثمر آور ثابت ہوگی جب طلباء بھی حصولِ علم کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے بروے کار لائیں ۔
اس لئے طلبہ عزیز کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا کہ حصولِ علم میں سب سے زیادہ معاون بننے والی چیز اس علم کے نصب العین کی تعین اور اس کے بلند مقصد کا احساس اور شعور ہے،
 آپ خود بھی دیکھیں کہ عصری تعلیم کے حصول میں جس سرگرمی اور دلچسپی کا مظاہرہ ہوتا ہے اس کی بنیادی وجہ مقصد ونصب العین کا شعور ہے، وہاں طالبِ علم کو احساس ہوتا ہے کہ محنت کروں گا تو مستقبل میں ڈاکٹر بنوں گا یا انجینئر بنوں گا، مستقبل میں حاصل ہونے والے اس عظیم مقصد کا تصور ہی اس کو کڑی جدوجہد میں لگا دیتا ہے، مگر افسوس! مدارس اسلامیہ کے اکثر طلبہ عزیز کی صورتِ حال اس سے الگ ہوتی ہے چونکہ ان کے پیش نظر کوئی نصب العین اور مقصد نہیں ہوتا، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے طلبہ اس میدان کا انتخاب صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے والدین کا اصرار ہوتا ہے کہ ان کے والدین چاہتے ہیں کہ میرا بچہ حافظ قرآن بنے، عالم دین بنے، مفتی بنے لیکن خود ان کا اپنا کوئی مقصد یا نصب العین نہیں ہوتا، اس لیے نہ انہیں پڑھنے لکھنے سے کوئی رغبت ہوتی ہے اور نہ ہی تعلیمی اوقات کی پابندی، نہ محنت، نہ جدوجہد، ایسے طلباءِ مدارس کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ قرآن، حدیث، عقائد، تفسیر، فقہ، وغیرہ جس علم کے حصول میں وہ لگے ہوئے ہیں، اس کا نصب العین دنیا کے تمام کاموں سے بلند ہے، آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق فرشتے آپ کے پیروں کے نیچے اپنا پر بچھانا فخر محسوس کرتے ہیں، دنیا کی ہر مخلوق آپ کے لئے دعائیں کرتی ہیں، بقول شاعر "مچھلیاں پانی میں زرے خاک میں برگ و شجر = نیک عالم کو دعا دیتی ہیں ہر شام و سحر.” نیز اس کے بلند اور مہتم بالشان ہونے کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ طالبِ علم وراثتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا اصل حقدار ہوتا ہے، وہ انسانیت کی تقدیر بدل سکتا ہے، اسی سے ہدایت و روحانیت کے چشمہ پھوٹتے ہیں، جس طالبِ علم کے ذہن میں دینی تعلیم کے اس عظیم مقصد کا استحضار ہوگا، وہ اپنی پوری توانائیوں کو علم کے حصول کے لئے جھونک دے گا۔
 اکثر طلباء کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ فارغ ہونے کے بعد کسی مسجد کی امامت یا کسی مدرسہ کی مدرسی سے بڑھ کر ہم کیا کر سکتے ہیں، اس کے لیے ہمیں محنت کی کیا ضرورت ہے؟ جی ہاں ! یہی وہ احساسِ کمتری ہے جس نے طلبہ عزیز کی تمام قوائے عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، ان کے اندر ہر طرح کی صلاحیت ہونے کے باوجود انہیں روکے رکھا ہے، اس سلسلہ میں پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خود کامیاب امام یا کامیاب خطیب یا کامیاب مدرس کا دار و مدار اس کی پختہ علمی صلاحیت پر منحصر ہے اور امت کو آج کامیاب اور باصلاحیت ائمہ، خطیب اور مدرسین کی سخت ضرورت ہے، تقریر وخطاب اور روز مرہ نئے پیش آنے والے مسائل میں امت کی صحیح رہنمائی ٹھوس کتابی اور علمی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں، آج بھی مدارس میں کامیاب اساتذہ کی شدید قلت ہے، قحط الرجال کا دور ہے، پھر اس سے بڑھ کر ایک قابل عالم دین مسجد یا مدرسہ سے ہٹ کر ساری امت کیلئے مختلف میدانوں میں رہنمائی کرسکتا ہے، آج پورے ہندوستان میں ہم ان علماء کی خدمات کو دیکھ رہے ہیں جن کے فیوض و برکات ملک اور بیرون ملک عام ہیں.
 صرف علم ہی کیوں زندگی کے کسی بھی شعبے میں حصول کمال کے لیے تمام تر بیرونی وسائل کے باوجود ذاتی محنت کی اشد ضرورت ہوتی ہے، دنیا نے جتنے باکمال اشخاص دیکھے ہیں، اس کے پیچھے ان کی ذاتی محنتوں کا بڑا عمل دخل رہا ہے، نصب العین جتنا بلند ہوگا اسی قدر محنت میں زیادتی ہوگی، طلبِ علم کے سلسلہ میں ذاتی محنت پر زور دیتے ہوئے مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر فرمایا تھا” آپ تاریخ کی شخصیتوں میں جس کا بھی نام لیں، جب آپ اس کی سیرت کا مطالعہ کریں گے اس کی زندگی کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں گے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس کی شخصیت کو بنانے اور سنوارنے والی سب سے اہم اور بنیادی چیز اس کی ذاتی محنت، اس کی فکر ولگن، مقصد کی دھن اور اس کی تڑپ تھی، اس کے بغیر اگر اساتذہ چاہیں یا عظیم الشان ادارے اس کے لیے کوشش کریں، کسی کے بس میں کچھ نہیں، جو بھی بنا ہے اپنی ذاتی محنت اور جدوجہد سے بنا ہے، یقیناًاللہ تعالیٰ کی توفیق اور اساتذہ کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے، لیکن اگر اللہ کی توفیق شاملِ حال ہے تو پھر ذاتی محنت سے انسان اپنے آپ کو سب کچھ بنا سکتا ہے” (پاجاسراغِ زندگی)
 حصولِ علم میں محنت کے سلسلہ میں ایک مقولہ علماء میں کافی مشہور ہے کہ” العلم لایعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک” یعنی علم تم کو اپنا ایک حصہ بھی نہیں دے سکتا جب تک کہ تم پورے طور پر اپنے آپ کو اس کے حوالہ نہ کرو، پچھلے زمانہ میں علماءِ سلف انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں جاں توڑ محنت کرتے تھے، اس وقت مدارس میں آج کی طرح قیام وطعام کا تو تصور ہی نہ تھا روشنی تک کے لیے پریشان ہوا کرتے تھے، سدِ رمق خوراک کے لیے حصولِ معاش کا بھی مسئلہ ہوا کرتا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ حصولِ علم میں کوشاں رہتے تھے۔
 بہت ممکن ہے کہ بعض طلبہ ذہنی اعتبار سے کمزور ہوں، لیکن ذاتی محنت انہیں بڑے سے بڑے ذہین طلبہ کی صف میں لاکھڑا کرتی ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ نے اپنے شاگرد امام ابویوسف رحمۃاللہ علیہ سے ایک مرتبہ فرمایا "تم بہت کند ذہن تھے، مگر تمہاری کوشش اور مداومت نے تمہیں آگے بڑھایا” اسی طرح امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کے ماموں امام مزنی رحمۃاللہ علیہ نے ایک مرتبہ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کو کند ذہن ہونے کی عار دلائی اور کہا "خدا کی قسم تجھ سے کچھ نہ ہوسکے گا” امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ حضرت ابوجعفر احمد بن ابی عمران حنفی رحمۃاللہ علیہ کے درس میں شریک ہوگئے اور بڑی محنت سے علم حاصل کیا اور فقہ میں بڑی مہارت حاصل کی، انہیں ماموں نے پھر اس کند ذہن طحاوی کو امام تسلیم کیا (بستان المحدثین)
 ایک محنتی طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ماہر فن استاذ کی نگرانی و رہنمائی میں اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھے، ورنہ بغیر استاد کی رہنمائی کے محنت بسا اوقات ایک سنجیدہ اور محنتی طالبِ علم کو بھی علم سے مایوس کر دیتی ہے، چوں کہ جب اسے اپنی کثیر محنت کے باوجود کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا تو وہ مایوس ہو کر تعلیم کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر بیٹھتا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ عزیز کا اپنے اساتذہ کرام سے کتنا گہرا تعلق ہونا چاہیے؟ علم ایک ایسا جوہر ہے جو استاذ و شاگرد کے مکمل اشتراک ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، طلبہ کو چاہیے کہ وہ متعلقہ فنون کے ماہر اساتذہ سے رابطہ رکھیں اور اس فن سے متعلق ان کی نگرانی و رہنمائی میں محنت جاری رکھیں، تاریخ شاہد ہے کہ بہت سے مشاہیر علماء کو علم و فضل کا کمال اپنے بعض اساتذہ کی کامل توجہ ہی سے حاصل ہو سکا ہے، علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی عنایت و اہتمام سے علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کو پروان چڑھا، علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ کی توجہ نے سیکڑوں باکمال شاگردوں کو جنم دیا، ماضی قریب میں مولانا علی میاں ندوی رحمتہ اللہ علیہ کو جو مقام حاصل ہوا ، اس سے کون واقف نہیں؟ مولانا خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں "پہلی چیز وہ ذاتی تعلق ہے جو مجھے اپنے اساتذہ سے رہا، وہ تعلق نہیں جو ضابطہ کی خانہ پری کے لیے ہو، بلکہ وہ تعلق جو شب و روز کا تھا، اس تعلق کو میرے مخلص اساتذہ بھی محسوس کر تے تھے اور میں بھی اس کو محسوس کرتا تھا، یہ وہ پہلی چیز ہے جس نے مجھے بہت نفع پہنچایا اور میں نے جو کچھ حاصل کیا وہ اسی کا صلہ ہے” (پاجاسراغِ زندگی)
 مدارس اسلامیہ کے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ عزیز کو چاہیے کہ ان جیسی باتوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، تو بہت ممکن ہے کہ آپ کا پورے سال کی صحیح قدر قیمت حاصل ہو جائے اور بہت سی کمی خامیوں کی اصلاح ہو جائے. واللہ الموفق.
بندہ ناچیز بھی ایک مدرسہ کا خادم ہے اس لئے موقع کی مناسبت سے استفادہ عام کے لئے عرض ہے کہ "دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال میں خالص دینی و اسلامی ماحول میں نہایت ٹھوس اور عمدہ تعلیم و تربیت کا مثالی ادارہ "دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال”
دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال کا معروف و مشہور دینی، تعلیمی، اصلاحی ادارہ ہے، جہاں صاف ستھری فضا میں نورانی قاعدہ، ناظرہ و حفظ قرآن کریم صحت کے ساتھ معہ تجوید و قواعد پڑھایا جاتا ہے، درجات دینیات مکمّل معہ عصری علوم آٹھویں کلاس، درجہ فارسی و عربی اول تا درجہ سوم تک مکمل انتظام ہے، مقامی طلبہ کے علاوہ 100 بیرونی طلبہ کے قیام و طعام کا معقول نظم ہے.
15 شوال المکرم 1444ھ مطابق 6 مئی 2023 بروز سنیچر سے طلبہ جدید و قدیم کے داخلہ کی کارروائی شروع ہو جائے گی.
لہذا داخلہ کے خواہشمند طلباء کے گارجین جلد از جلد مدرسہ پہنچ کر داخلہ کی کارروائی مکمل کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے