اسماعیل قمر بستوی

ہرایک شئ میں ملاوٹ ہے اس زمانے میں

نہ غم نصیب کسی سے ہو دل لگانے میں

کوئی ضرور ہے مطلب اے راہبر مجھ سے

چھپی ہے چاہ کوئی تیرے مسکرانے میں

جو آج بانٹ رہے ہیں گلی گلی مر ہم

انھیں کا ہاتھ رہا بستیاں جلانے میں

کہاں پہ داد سخنور کو دیں کہاں نہ دیں

چھپا ہے عیب وہنر تالیاں بجانے میں

محبتوں میں ہے اخفاء قمر عجب لذت

مزا جو آتاہے اپنوں سے ہار جانے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے