آج بتاریخ 4 جون کو دہلی اتیتھی ادھیاپک منچ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مامون عبدالعزیز کی سربراہی میں دہلی کے مہمان اساتذہ کا ایک وفد راج گھاٹ پہنچا اور دہلی کے ہزاروں مہمان اساتذہ کے معاشی مسائل کے حل کی امید لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور ایل جی کے حق میں دعائیں کیں۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہلی کے تعلیمی نظام میں ہوئی غیر معمولی تبدیلیوں میں مہمان اساتذہ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کا شہرہ اور تذکرہ نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بیرون ملک میں بھی ہے۔ اتنی کڑی محنت اور مشقت کے کے باوجود ہزاروں مہمان اساتذہ کو حکومت دہلی اور ایل جی نے گزشتہ کئی برسوں سے یومیہ اجرت والے مزدور کے طور پر رکھا ہوا ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ سات برسوں سے یومیہ اجرت میں ایک روپیہ کا بھی اضافہ نہیں کیا ہے جبکہ اس دوران مہنگائی کی شرح آسمان کو پہنچ چکی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ آۓ دن پی ایف سی اور ٹرانسفر کی وجہ سے مہمان اساتذہ غیر یقینی اور تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ بہت دنوں سے مہمان اساتذہ اسی ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں۔ عدالت کے سامنے محکمہ تعلیم کے حالیہ حلف نامے اور آنے والی 26000 آسامیوں نے دہلی کے ہزاروں مہمان اساتذہ کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ جس کے نتیجہ میں دہلی کے ہزاروں مہمان اساتذہ مایوس ہیں، انھیں مسائل کے پیشِ نطر حکومت دہلی کو اپنے دیرینہ مسائل کی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے مہمان اساتذہ کا یہ وفد بابائے قوم کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے باپو کی قبر پر پہنچا اور انھیں یاد کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے