رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی
حسن کی فطرت کا ہے ہر سمت قبضہ دیکھئے
عشق کی پُر خار راہوں پر ہوں تنہا دیکھئے
ہو گیا ہے مطلبی ہر شخص ہی اس دور میں
مول سیرت کا کہاں چلتا ہے پیسہ دیکھئے
پوچھتا ہے کون اب اخلاق کو سنسار میں
بے ایمانوں کا ہے چارو سمت جلوہ دیکھئے
بیٹیاں اسکول کو اب گھر سے جائیں کس طرح
راستے میں ہی درندوں کا ہے خطرہ دیکھئے
شہر یا ہو گاؤں منظر صرف یہ آئے نظر
قاتلوں کے روپ میں گھومے مسیحا دیکھئے
وقت کے حاکم کا ہے یہ اپنی جنتا پر کرم
ہوگیا مشکل چلانا گھر کا خرچہ دیکھئے
چاہتوں کا خون کرکے میں کہاں جاؤں رفیع!
آپ میرے واسطے آسان رستہ دیکھئے

