محمد حسن رضا
جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف
آج پھر سے دل کو بڑی خوشی حاصل ہوئی ، جب یہ سنا کہ مادر علمی جامعہ احسن البرکات (مارہرہ شریف) کے مزید دو فارغین دنیا کی مشہور و معروف یونیورسٹی جامعہ ازہر (مصر) روانہ ہونے والے ہیں ، جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے ، کہ ابھی چند روز قبل ، جامعہ احسن البرکات کے دو فارغین ( مولانا محمد ارقم احسنی و مولانا محمد ہاشم احسنی) جامعہ ازہر (مصر) جا چکے ہیں ، اور الحمدللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم و نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک کے صدقے و طفیل و ابا حضور و اساتذہ کی دعاؤں کے سایہ تلے ، بڑے ہی محنت و لگن کے ساتھ ، کامیابیوں کی منزل کی طرف رواں دوا ہیں ، ابھی ان احسنیوں کو ایک ماہ نہ گزرا کہ شفیق العلما و الطلبا حضور رفیق ملت دامت برکاتہم العالیہ نے مزید دو احسنیوں کے مصر روانہ ہونے کی خبر اسیمبلی میں تمام طلبہ و اساتذہ کی موجودگی میں سنائی ، جن کے نام یہ ہیں ، مولانا محمد عظمت احسنی و مولانا محمد سلطان احسنی ، (اول الذکر کی دستار پہلے ہو چکی تھی اور آخر الذکر کی دستار امسال ہی ہوئی ہے) اب چونکہ مرشد کریم کی زیادہ مصروفیات کے سبب کوئی خاص محفل تو منعقد نہ ہو سکی ، مگر ابا حضور نے اسیمبلی کے اندر قلیل سی مدت میں ‘خیر الکلام قل و دل’ کی وہ روشن مثال پیش فرمائی ، کہ آج کل تلاش بسیار کے باوجود بھی نظر نہیں آتی۔
دل تو کرتا ہے کہ مرشد کریم کے وہ بے بہا قیمتی موتی ، جن کو میں نے چن رکھا ہے ، ان کو ذکر کرنے سے پہلے ، خود ابا حضور کی شفقتوں و کرم نوازیوں کو ذکر کروں جو ہم طلبہ پر بارہا ہوتی رہتی ہیں۔
ابا حضور کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی یہ بھی ہے ، کہ آپ ہر کسی کی حوصلہ افزائی ضرور فرماتے ہیں ، خواہ وہ طلبہ ہوں ، اساتذہ ہوں یا کوئی اور ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ، کہ ہر کوئی شخص اس حوصلہ افزائی کے بعد اپنے اس فعل کو اور بہتر بنانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ، جس کی بنا پر اسے یہ شرف حاصل ہوا ، اور اس طرح وہ کامیابی کی طرف بڑھتا رہتا ہے ، اور یہاں تک کہ کامیابی آگے بڑھ کر اسکے قدم چومتی نظر آتی ہے۔
اس کی بےشمار مثالیں ہیں ، کبھی جامعہ ٹاپر کو 25 ہزار کا اعلان کرنا ، کبھی 11 ہزار کا اور کبھی مقابلہ و مسابقہ میں اچھی ترقی حاصل کرنے پر حوصلہ افزائی کرنا اور ان سب کے بعد ایک جملہ فرمانا ” بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا پیسے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ، اگر اہمیت ہوتی ہے تو تمہارے علم کو ہوتی ہے”
اب آئیے ان باتوں میں سے چند باتیں آپ کے سامنے رکھ دو جو مرشد کریم نے اسیمبلی میں ارشاد فرمائیں:
"میرے بیٹوں سنو! پڑھائی کے دوران سڑکیں ناپنے (فالتو گھومنے) سے بہتر ہے کہ دوران تعلیم محنت و لگن سے پڑھ کر پوری دنیا گھومو”
اور الحمدللہ اس کی ایک بہترین مثال ہمارے ان احسنی طلبہ کی ہے ، کہ جنہوں نے دوران تعلیم ، فالتو گھومنے کی بجائے راتوں کو جاگ کر علم حاصل کیا اور ملک ہند سے باہر جا کر علم دین حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا: بیٹا اگر آپ کو کبھی بھی ہماری ضرورت محسوس ہو تو خانقاہ برکاتیہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے ، بس آپ محنت سے پڑھو اور دین کی خدمت کرو ، ” ہماری صرف ایک ہی خواہش ہے کہ آپ ایسے عالم باعمل بنو کہ لوگ آپ کی مثال دینے پر مجبور ہو جائیں”
اور ایک بات اور سنو! اگر عالم بننا تو با عمل ہی بننا اس لیے کہ بے عمل عالم وہ دنیا میں بھی گھاٹے میں ہے اور آخرت میں بھی خسارے میں ہے”
اس پورے سفر تعلیم میں جہاں جہاں ابا حضور کی شفقتیں ہوتی ہیں وہاں وہاں اساتذہ کرام کی محنتیں نظر آتی ہیں ، وہ ہر موڑ پر ہماری اصلاح کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، اور فرماتے ” تنقید کامیابی کی پہلی سڑی ہے” اور ہمہ وقت ہمارے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار رہتے ہیں ، اور فرماتے ہیں "ہم آپ کو مستقبل کا معمار بنانا چاہتے ہیں” اور الحمدللہ وہ اپنے ان تمام نیک مقاصد میں کامیاب و کامران نظر آتے ہیں۔
اہم بات!! الحمدللہ رب العالمین امسال جامعہ احسن البرکات سے جامعۃ الازہر جانے والوں کی تعداد چار ہو چکی ہے ، اور ایک اور احسنی جو تقریباً ڈیڑھ سال سے الازہر میں زیر تعلیم ہیں ان کو لگا کر پانچ احسنی الحمدللہ الازہر میں بڑی ہی جانفشانی کے ساتھ درس و مطالعہ میں مصروف ہیں ، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
1 مولانا محمد قاسم احسنی،   2 مولانا محمد شان عظمت احسنی،     3 مولانا محمد ہاشم احسنی،     4 مولانا محمد ارقم احسنی،   5 مولانا محمد سلطان احسنی
اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی تعالی ان احسنیوں کو لمبی عمر عطا فرمائے اور خوب دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
 اور جامعہ احسن البرکات کو دن دونی ترقی عطا فرمائے اور سرکاران مارہرہ مطہرہ کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے