آہ…………..!مولانا اسلام صاحب قاسمیؔ ؒ
احمد حسین مظاہریؔ پرولیا
کل مؤرخہ{/١٤٤٤ /١١/ ٢٦}بروز جمعہ بذریعہ سوشل میڈیا ایک انتہائی کرب ناک اور پُرحسرت خبر ملی کہ دارالعلوم وقف دیوبند کے بے باک لالۂ باغِ قاسمیؔ حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمیؔ ؒدارِ فانی سے دارِ جاودانی کی طرف رحلت فرماگیے![انا للہ وانا الیہ راجعون]یہ جانکاہ و دلگداز خبر چند منٹوں میں بذریعہ سوشل میڈیا دنیا کے طول و عرض میں پھیل گئی؛اور جملہ دینی طبقوں کو رسوا کر گئی،اُن کے تلامذہ کو یتیمی کا احساس ستانے لگا بڑے بڑے علماء خراجِ عقیدت پیش کرنے لگے،از روئے یقین یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موت کوئی انہونی چیز نہیں ہے،انسان کا پیدا ہونا ہی مرنے کی دلیل ہے،بس افسوس اس کا ہے کہ دنیا ایک عظیم عالمِ دین سے محروم ہوگئی۔۔۔۔
مولانا ؒ بہت نفیس صفات کے حامل تھے،اس قحط الرجال کے دور میں عوام وخواص سب کے لئے بڑا خسارہ ہے،بعض کے جانے سے پوری انسانیت پر حزن و غم زنج و الم کا سماں طاری ہو جاتا ہے۔۔
راقم الحروف نےاحاطۂ مولسری میں جنازے کے ہمراہ جب طلباءوعلماء کا جمگھٹا دیکھا تو بے ساختہ زباں پر آیا:*{وما كان قيسٌ هُلْكُهُ هُلْكُ واحدٍ ولكنه بنيانُ قومٍ تَهَدَّما}
.قیس کی وفات ایک شخص کی وفات نہیں؛ بلکہ اس سے قوم کی عمارت منہدم ہو کر رہ گئی۔۔
بارِالہ سے بہ تضرع دعا کرتا ہوں کہ حق جل مجدہ اپنے بیکراں فضل و احسان کے صدقے میں حضرت مولانا ؒ کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز دارالعلوم وقف دیوبند کو نعم البدل عطا فرمائے، ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پُر فرمائے۔آمیــــــــــــــــــــــن
